Thu, September 17, 2026

پاکستان تمہارا ہر کام نرالا

پاکستان تمہارا ہر کام نرالا

پاکستان ، جہاں ہر کام کا اپنا ہی انداز ہے، اپنا ہی اصول، اور اکثر اوقات کوئی قاعدہ نہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں اعلیٰ عہدوں سے ریٹائر ہونے والے افسران، جج صاحبان اور دیگر کلیدی شخصیات کو ملکی تھنک ٹینکس میں شامل کر کے ان کے تجربے، فہم، اور دانش سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ انہیں قومی پالیسی سازی، عسکری مشاورت اور ادارہ جاتی اصلاحات کے عمل میں شامل رکھا جاتا ہے تاکہ ملک کی سمت درست رہے۔ لیکن ہمارے ہاں معاملہ بالکل برعکس ہے۔ یہاں جو جتنا سینئر، جتنا حساس، جتنا رازدار ہوتا ہے، اسے ریٹائرمنٹ کے بعد نہ صرف مکمل آزادی دے دی جاتی ہے بلکہ خاموشی سے بیرونِ ملک جانے کا راستہ بھی کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ان کے سینے میں دہائیوں کا جمع کیا ہوا ادارہ جاتی راز، سفارتی بھید اور ریاستی سٹریٹجک فہم ہوتا ہے، مگر ہم بے فکری سے ان پر دروازہ بند کرتے ہیں اور انہیں اجازت دے دیتے ہیں کہ دبئی، لندن، سپین، امریکہ، یا آسٹریلیا چلے جائیں، جسے وہ محفوظ ٹھکانہ سمجھتے ہیں۔
یہ بے نیازی اور ادارہ جاتی غفلت کوئی معمولی بات نہیں۔ ایسے حساس افراد جنہوں نے عمر بھر ریاستی بھروسے پر کام کیا، جن کی زبان سے نکلا ایک جملہ بین الاقوامی تعلقات پر اثر انداز ہو سکتا ہے، انہیں یوں بے لگام چھوڑ دینا کیا دانشمندی ہے؟ دشمن انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ریڈار پر یہ لوگ پہلے ہی ہوتے ہیں، ایک مناسب ماحول، تھوڑا سا اعتماد، یا کوئی وقتی کمزوری انہیں لب کشا کر سکتی ہے۔ ہم ان کے سینے سے ملک کا راز لے کر انہیں آزاد فضا میں چھوڑ دیتے ہیں، اور بعد میں حیران ہوتے ہیں کہ راز کہاں سے افشا ہوئے۔
کسی دور میں معین قریشی آئے تھے، پھر شوکت عزیز تشریف لائے۔ دونوں شخصیات نے ریاست کے اعلیٰ ترین عہدے سنبھالے مگر ان کا دل کبھی پاکستان میں نہیں لگا۔ ان کے جانے کے بعد بھی کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی۔ سوال یہ ہے کہ جو لوگ اس مٹی کو اپنا مسکن نہ سمجھتے ہوں، جو ہر مشکل وقت میں خود کو اس دھرتی سے الگ تصور کریں، ہم کیوں انہیں سربراہ بنا دیتے ہیں؟ اکیسویں اور بائیسویں گریڈ کے افسران کو ریٹائرمنٹ کے بعد کم از کم اتنا تو پابند کیا جانا چاہیے کہ وہ ملک چھوڑ کر مستقل طور پر باہر نہ جا سکیں۔ اس پر قانون سازی ضروری ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اسی کلاس نے یہ قانون بنانا ہے جس کے ذاتی مفادات اس سے متصادم ہیں۔ وہ اپنے لیے وہی قانونی راہیں کھلی رکھنا چاہتے ہیں جو انہیں مکمل آزادی فراہم کریں۔
ریٹائرمنٹ کے بعد اگر کوئی افسر سیر و تفریح کے لیے باہر جانا چاہے، تعلیم یا علاج کی غرض سے سفر کرے، تو کوئی حرج نہیں، لیکن مکمل نقل مکانی، جائیداد کی منتقلی، یا خاندان سمیت مستقل بیرون ملک سکونت ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ عشرت العباد کی مثال ہی لے لیجیے جو طویل ترین عرصہ تک سندھ کے گورنر رہے۔ جیسے ہی بارہ بجے ان کی گورنری ختم ہوئی، بارہ بج کر دس منٹ پر ان کی فلائٹ تیار تھی۔ گورنر ہاؤس سے سیدھے ایئرپورٹ اور وہاں سے ملک سے باہر۔ جیسے کسی اور کے کہنے پر سب کچھ طے تھا۔
ہم ایک طویل عرصے سے ریاستی سطح پر تجربات کے بھنور میں گھوم رہے ہیں۔ ہر بار ایک نیا چہرہ، نیا ماڈل، اور نیا بیانیہ سامنے آتا ہے، مگر انجام وہی پرانا۔ غیر یقینی، عدم تحفظ اور اداروں کی کمزوری۔ لیکن اگر ایک پہلو روشن ہے تو وہ ہماری فوج ہے۔ عالمی سطح پر اس کی گنتی ساتویں نمبر پر ہوتی ہے، اور اگر ہماری رفتار یہی رہی تو یہ دن دور نہیں کہ پاکستان دفاعی میدان میں سپر پاور بن جائے۔ اس پیش رفت میں موجودہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی حکمت عملی اور تدبر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اندرونی اور بیرونی دشمنوں کو جس طرح انہوں نے چنے چبوائے ہیں، وہ ہماری عسکری ذہانت کا ثبوت ہے۔لیکن ریاست صرف بندوق سے نہیں چلتی۔ بیوروکریسی، عدلیہ، قانون ساز ادارے اور دانشورانہ حلقے بھی اس کا ستون ہوتے ہیں۔ میں ایسے کئی افراد کو جانتا ہوں جو جیسے ہی ریٹائر ہوئے، اگلی فلائٹ سے ملک چھوڑ گئے۔ کوئی لندن، کوئی ٹورانٹو، کوئی نیویارک۔ ان کے اندر نجانے کتنا خوف ہوتا ہے، جیسے پردہ چاک ہونے کا اندیشہ ہو، جیسے وہ جانتے ہوں کہ کچھ نہ کچھ ایسا ضرور کیا ہے جو اگر سامنے آ گیا تو دامن بچانا ممکن نہ رہے گا۔ ان کے جانے کی اصل وجہ محض بہتر زندگی یا موسم نہیں ہوتی، بلکہ کئی بار یہ کرپشن، بددیانتی یا کسی پوشیدہ رابطے کا نتیجہ ہوتی ہے۔ کیا ان کے خلاف کوئی تفتیش ہوتی ہے؟ کوئی پوچھتا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد اچانک بیرون ملک جا کر کون سی خدمت سرانجام دی جا رہی ہے؟ یہی غفلت نظام کے بگاڑ کی بنیادی وجہ ہے۔
دنیا کے کسی مہذب ملک میں اعلیٰ افسران ریٹائر ہو کر یوں اچانک غائب نہیں ہوتے۔ اکثر تو ریٹائرمنٹ کے بعد قومی اداروں سے وابستہ رہتے ہیں، کچھ پارلیمنٹ میں خدمات سرانجام دیتے ہیں، کچھ تھنک ٹینکس میں بیٹھ کر پالیسی سازی میں مدد دیتے ہیں۔ لندن میں 2012 میں جانے کا موقع ملا تو میرے میزبان لارڈ نذیر تھے۔ ایک باوقار پارلیمنٹرین، جس نے پاکستان کے حق میں ہمیشہ آواز بلند کی۔ انہوں نے برطانوی پارلیمنٹ دکھائی۔ میں نے وہاں مشاہدہ کیاکہ بزرگ، ضعیف العمر افراد قانون سازی میں شامل تھے۔کئی چھڑی سے چلتے تھے، جب میں نے پوچھا کہ یہ کیسے منتخب ہو گئے، تو بتایا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ملک کے لیے کچھ بڑا کارنامہ انجام دیا ہے۔ ان کے تجربے اور فہم کی بنیاد پر انہیں منتخب کیا گیا تاکہ وہ کسی بھی بل کو صرف عوامی مفاد کے دائرے میں پرکھ سکیں۔ اگر نچلے ایوان سے کوئی بل منظور بھی ہو جائے اور اس میں کوئی عوامی نقص موجود ہو تو یہ اسے روک لیتے ہیں۔ یعنی وہ سینہ بہ سینہ تجربہ ضائع نہیں ہوتا بلکہ قومی فہم میں شامل کر لیا جاتا ہے۔
ہمارے ہاں انتخاب کا معیار کردار، علم، فہم یا تجربہ نہیں بلکہ پیسہ ہے۔ کروڑوں روپے دے کر پارٹی ٹکٹ خریدا جاتا ہے۔ کارکنوں کو کبھی امیدوار نہیں بنایا جاتا، چاہے انہوں نے عمر بھر پارٹی کا جھنڈا اٹھایا ہو۔ ایسی درجنوں مثالیں موجود ہیں جن سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ ہمارا انتخابی نظام بھی اب رائے دہی سے زیادہ سرمایہ داری کا کھیل بن چکا ہے۔
جب تک ہم اپنے اداروں کو عزت نہیں دیں گے، جب تک ہم اپنے تجربہ کار اور بااعتماد افراد کو نظام کا حصہ بننے نہیں دیں گے، جب تک ہم ریٹائرمنٹ کو فرار کا ذریعہ بناتے رہیں گے، اس ملک میں پائیدار بہتری صرف خواب ہی رہے گی۔ ملک کو تجربہ، دیانت، اور وابستگی رکھنے والے افراد کی ضرورت ہے اور انہیں ملک چھوڑنے نہیں، بلکہ ملک کے لیے جینے مرنے پر آمادہ کرنا ہو گا۔ تب جا کر پاکستان سپر طاقت بنے گا، وگرنہ ہم یوں ہی تجربات کرتے رہیں گے، اور ہر نیا تجربہ ہمیں پہلے سے زیادہ پیچھے دھکیل دے گا۔سر دست جو سامنے ہے اسے دیکھ کر تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان تمہارا ہر کام نرالا۔

ٹیگز: