علمائے پاکستان نے ”پیغام پاکستان“ جیسی متفقہ دستاویز کے ذریعے واضح اعلان کر دیا ہے کہ نفاذ شریعت کے نام پر طاقت اور دہشت کا استعمال حرام ہے۔ اس کے باوجود فتنہ الخوارج کا تکفیری اور دھمکی آمیز بیانیہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ خود اسلام کی حدود سے باہر ہیں جب تک کہ توبہ اور رجوع نہ کریں۔ فتنہ الخوارج بڑی مہارت سے امت کی وحدت اور بھائی چارے سے متعلق آیات و احادیث پڑھتے ہیں، لیکن زمین پر ان کا عمل پاکستان کے معاشرے کو ٹکڑوں میں بانٹنے، خوف پھیلانے اور نفرت کو ہوا دینے پر مشتمل ہے۔
اسلام نے مسلمانوں کو ایک جسم کی مانند قرار دیا کہ اگر ایک عضو تکلیف میں ہو تو پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے۔ فتنہ الخوارج نے دانستہ طور پر اسی جسم کو زخمی کیا، بچوں، عورتوں، علمائ، فوجی جوانوں اور عام شہریوں کو نشانہ بنا کر۔ وہ ایک امیر کے نام پر اپنے امیر کی اندھی اطاعت کا مطالبہ کرتے ہیں، جبکہ اسلام خود ساختہ دہشت گردوں کو جائز امیر تسلیم نہیں کرتا، خصوصاً جب ایک ریاست اور نظام پہلے سے قائم ہو۔ حدیث میں آتا ہے کہ جب مسلمانوں کا نظام قائم ہو جائے تو جو شخص اس نظم کو توڑنے اور الگ جھنڈا کھڑا کرنے کی کوشش کرے، اس کے مقابلے میں کھڑا ہونا واجب ہے، تا کہ امت کا شیرازہ بکھرنے سے بچایا جا سکے۔ اس لحاظ سے فتنہ الخوارج خود مسلم وحدت کی سب سے بڑا دشمن ہے۔
اسلامی وحدت رحمت، رواداری اور باہمی خیر خواہی پر قائم ہوتی ہے ۔ اگر پاکستانی مسلمان فتنہ الخوارج کی زبان اور ہاتھ دونوں سے غیر محفوظ ہیں تو یہ گروہ خود اپنے عمل سے اسلام کی تعریف پر پورا نہیں اترتا۔اسی لیے 2025 میں پاکستان کی حکومت نے باضابطہ طور پر دہشت گردوں کے اس گروہ کو علماءاسلام کے مشورے سے ”خوارج“ کے طور پر شناخت کیا تا کہ عوام سمجھ سکیں کہ ان کا نظریہ اور طرز عمل اسلام سے متصادم ہے، نہ کہ اس کا نمائندہ۔فتنہ الخوارج بڑی شدو مد سے یہ تاثر دیتی ہے کہ وہ مظلوموں اور غریبوں کے حقوق کے محافظ ہیں۔ 2014 میں ان ہی کے ایک علیحدہ ہونے والے گروہ نے عوام کے خلاف تاوان اور دھماکوں کو ”غیر اسلامی“ قرار دے کر فتنہ الخوارج سے لا تعلقی اختیار کی تھی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ظلم کا مرتکب کون ہے۔
فتنہ الخوارج کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ وہ قرآن و حدیث کے نصوص کو اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر ظلم اور قتل و غارت کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ نماز، روزہ، زکوٰة، حج، وحدت امت اور امر بالمعروف جیسے مقدس تصورات کو اپنے خونریز ایجنڈے کا غلاف بنانے کی کوشش کرنا دراصل دین کے ساتھ سنگین بد دیانتی اور فکری خیانت ہے۔فتنہ الخوارج کے بیانات اور تقاریر قرآن و سنت کے حوالوں سے بھرے ہوتے ہیں، لیکن ان کا مقصد دلوں کو نور ہدایت سے روشن کرنا نہیں بلکہ نوجوانوں کو تشدد، نفرت اور بغاوت پر اکسانا ہوتا ہے۔ وہ ارکان اسلام کے ظاہری شعائر کو ایسے پیش کرتے ہیں کہ گویا صرف نماز، روزہ کر کے وہ قتل، بم دھماکوں اور بے گناہوں کے خون کو حلال کر لیں گے۔
احا دیث میں ایسے لوگوں کے حوالے سے واضح ہے کہ”وہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔“ یعنی زبان سے تلاوت ہو گی، دل اور عمل تک اس کی ہدایت نہیں پہنچے گی۔ فتنہ الخوارج کے رہنماوں کے تند و تیز خطبات اور قرآن کے نعرے، جب رحمت، عدل اور تہذیب سے خالی ہوں، اسی حدیث کی زندہ تفسیر ہیں۔شریعت کے مقاصد (مقاصد الشریعہ) میں جان، مال، دین، عقل اور نسل کی حفاظت شامل ہے، جبکہ فتنہ الخارج انہی پانچوں بنیادوں کو توڑتا ہے۔ وہ ”خلافت“ اور ”امر بالمعروف“ جیسے الفاظ کا استعمال کر کے ان کے معنی بدل دیتے ہیں۔ جس سے اسلام کی اصل تعلیم دھندلا جاتی ہے۔ حضرت علی ؓ نے خوارج کے بارے میں فرمایا تھا: ”کلمة حق یرادبہا الباطل“ یعنی حق بات کا نعرہ لگا کر باطل مقاصد حاصل کیے جاتے ہیں اور فتنہ الخوارج اسی راہ پر چل رہی ہے۔ان کی یہ فکری دہشت گردی نہ صرف کم علم نوجوانوں کو گمراہ کرتی ہے بلکہ اسلام دشمن حلقوں کو بھی موقع دیتی ہے کہ وہ اسلام کو تشدد اور انتہا پسندی کے ساتھ جوڑیں۔ قرآن کا پیغام زندگی، رحمت اور عدل کا پیغام ہے، نہ کہ قتل اور خوف کا منشور۔ اس لیے مسلمانوں پر لازم ہے کہ فتنہ الخوارج کی تحریفات کو واضح کریں، قرآن و سنت کے اصل معانی کو لوگوں کے سامنے رکھیں، اور یہ بتائیں کہ اسلام کسی صورت اس قتل و غارت کی اجازت نہیں دیتا۔
حاصل کلام یہ ہے کہ فتنہ الخوارج کا حالیہ بیانیہ اسلام اور پاکستان دونوں کے خلاف ہے ایک ایسی انتہا پسند اور خونی تحریک کو ”مجاہد“ اور ”محافظ اسلام“ ثابت کرنے کی ناکام کوشش ہے، جسے اسلام اور پاکستان دونوں نے رد کر دیا ہے۔ یہ تحریر اسلام کی مستند تعلیمات اور زمینی حقائق کی روشنی میں فتنہ الخوارج کے دعووں کا جامع جواب پیش کرتی ہے۔حقیقت واضح ہے کہ فتنہ الخوارج پاکستان کی دشمن بھی ہے اور اسلام کے تشخص کا غدار بھی۔ اس کے ”امن“ کے دعوے اس کے متاثرین کی چیخوں میں دب جاتے ہیں، اس کے ”جہاد“ کے نعرے قرآن و سنت کے دلائل کے سامنے باطل ثابت ہو چکے ہیں، اور اس کا ”متوازی حکومت“ بنانے کے اعلان کو پاکستان کے کروڑوں مسلمان ہی نہیں دنیا اسلام قطعی طور پر تسلیم نہیں کرتی۔
فتنہ الخوارج کے پروپیگنڈے کو علم، دلیل اور اتحاد کے ساتھ جواب دینا ہر ذی شعور مسلمان اور ہر محبت وطن پاکستانی کی ذمہ داری ہے، تاکہ نہ ہمارے نوجوان گمراہ ہوں اور نہ دنیا اسلام کو فتنہ الخوارج کے چشمے سے دیکھے۔ پاکستان اور اسلام دونوں کے مستقبل کیلئے ضروری ہے کہ فتنہ الخوارج کے بیانیے کو فکری و عملی سطح پر شکست دی جائے اورملک میں امن، ترقی اور عدل کی فضا کو مضبوط بنایا جائے۔