Wed, September 16, 2026

فتنہ الخوارج و فتنہ الہندوستان اور ہندوتوا

فتنہ الخوارج و فتنہ الہندوستان اور ہندوتوا

اس بارے میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے کہ ہندوستان یا بھارت میں ایک کٹر بنیاد پرست ہندو حکومت قائم ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی ایک ہندو مذہبی جماعت ہی نہیں بلکہ مختلف الخیال مگر کٹر اور متعصب ہندو ازم کے پرچارک لیڈروں کا اکٹھ ہے جنہیں ہندوﺅں کی ایک معقول تعداد کی حمایت بھی حاصل ہے۔ ہندو تعصب کی جڑیں معاشرے میں گہری ہیں، ہندو توا کا نظریہ کوئی خالی خولی نعرہ نہیں ہے بلکہ ایک زندہ و جاوید فکر ہے جس کے سائے میں اس کی گھن گرج میں کئی نسلیں پل بڑھ چکی ہیں۔ ہندو توا، ہندو معاشرے میں اپنی جڑیں رکھتا ہے۔ اس کی طویل تاریخ ہے ہندو توا کیا ہے؟ سادہ الفاظ میں یہ ہندو قوم پرستی اور ہندو بالادستی کا نظریہ ہے جس کے مطابق اس نظریے کے ماننے والے بھارت کو ایک کٹر ہندو ریاست بنانے کا عزم رکھتے ہیں۔ اس نظریے کا بانی وینایک دمودار ساورکر تھا جس نے 1922ءمیں یہ نظریہ پیش کیا اور پھر چل سو چل۔ اس نے اس فکر کو ایک تحرک اور سیاسی نظریے کے طور پر عامتہ الناس میں متعارف کرایا۔ لائحہ عمل دیا۔ جماعت بنائی اور لوگوں کو عملی جدوجہد کے ذریعے پختہ کار سیاسی ورکر اور لیڈر ہے۔ آج ہندوستان کے سیاسی منظر پر یہ نظریہ عملاً ایک نظام کا روپ دھار چکا ہے۔ نریندرا مودی اسی فکر کا پرچارک ہے۔ اس کی ذہنی ساخت اسی فکر و عمل میں ڈھلی ہوئی ہے۔ ہندوستان کو ہندو ریاست بنانے کے فکری و عملی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ عمومی طور پر مسلمان ہی ہندو قوم پرستی کا نشانہ بن رہے ہیں۔ معاشرے میں مسلمانوں کیخلاف نفرت پائی جاتی ہے۔ مسلمانوں نے ہندوستان پر صدیوں حکمرانی کی ہے۔ بھارت ماتا کی ہزاروں سالہ تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ کوئی مذہب یہاں پھل پھول سکا ہے وگرنہ یہاں جو بھی آیا ہندو معاشرے میں ضم ہو گیا۔ ہندو ازم کے گورکھ دھندوں میں الجھا اور پھر گم ہو گیا۔ اسلام نے یہاں اپنا رنگ دکھایا۔ فکر پروان چڑھائی۔ ہندو معاشرے پر غلبہ پایا۔ فکری طور پر ہی نہیں بلکہ تہذیبی اور سیاسی طور پر بھی حاکمیت قائم کی۔ یہ بات ہندو بھولا نہیں ہے کہ اسلام فکری طور پر ایک غالب طرز زندگی ہے اور مسلمان سیاسی طور پر غالب قوم ہیں۔ اسی لئے جب 1757ءمیں پلاسی کے میدان میں مسلمانوں کو شکست ہوئی اور انگریزوں کے غلبے کا آغاز ہوا تو ہندو، اسلام اور مسلمان نفرت میں انگریزوں کا دست و بازو بنے۔ 1857ءتک انگریزوں کی عیاریوں میں ہندو ان کا رفیق کار رہا پھر 1857ءسے لے کر 1947ءمیں تقسیم ہند تک، ہندو انگریز حکمرانوں کی عنائتوں اور نوازشوں سے طاقتور ہوتا گیا حتیٰ کہ ایک ریاست کا مالک بنا دیا گیا۔ برصغیر پاک و ہند انگریزوں نے مسلمانوں سے چھینا تھا لیکن یہاں سے واپس جاتے ہوئے 1947ءمیں اسے ٹکڑوں میں تقسیم کر گیا۔ تقسیم بھی کچھ ایسی کی کہ یہاں کے مکین آپس میں لڑتے رہیں۔ ہندو اور مسلمان آپس میں دست و گریبان رہیں۔ مسئلہ کشمیر ہو یا حیدر آباد، منادر اور جونا گڑھ کے مسائل، 77سال گزر جانے کے بعد بھی ہندو اور مسلم بھارت اور پاکستان کی شکل میں باہم دست و گریبان ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی آبادی ہندوستان میں بستی ہے۔ عالمی ریٹنگ کے مطابق اب چین نمبرون نہیں ہے بلکہ آبادی کے اعتبار سے ہندوستان میں دنیا کی سب سے بڑی آبادی پائی جاتی ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی اقلیت یعنی مسلمان بھی بھارت میں ہی پائے جاتے ہیں۔ پاکستان دنیائے اسلام کی سب سے بڑی مملکت تھی جسے 1971ءمیں بھارت نے کاٹ دیا اور وہ پانچویں نمبر پر چلا گیا لیکن اب بھی پاکستان کے پاس عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت ہونے کا اعزاز ہے۔ بھارت نے قیام پاکستان کے روز اول سے ہی پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا ہے اور اسے نقصان پہنچانے، کمزور کرنے اور ختم کرنے کی کاوشیں کی جاتی رہی ہیں۔ پاکستان ہمیشہ دفاعی نوعیت کا رہا ہے، ہم نے کبھی ان معاملات میں لیڈ لینے کی کوشش نہیں کی ہے۔ ہم بھارتی منصوبہ سازی کو دیکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی بناتے ہیں۔ ہم خطے میں امن کے داعی اور علمبردار رہے ہیں لیکن بھارت سرکار پاکستان کے ساتھ جنگی جنون میں مبتلا ہے۔ مودی سرکار نے عملاً دو مرتبہ پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی لیکن اسے دونوں مرتبہ ہزیمت اٹھانا پڑی ہے۔ ہماری چوکسی، ہماری مسلح افواج کی تیاریوں اور مہارت نے ہندو سرکار کو اس کے منصوبوں کو عملی شکل نہیں دیکھنے دی ہے انہیں کھلی اور واضح شکست سے ہمکنار کیا ہے۔ بھارت اپنے زخم چاٹ رہا ہے۔ اس نے پراکسی وار کو فل گیئر میں ڈال دیا ہے۔ بلوچستان میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان جیسے ایجنٹوں کے ذریعے دہشت گردانہ کارروائیوں کے ذریعے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار بنایا جا رہا ہے۔ ہماری سکیورٹی ایجنسیوں کی شاندار حکمت عملی اور دلیرانہ کارروائیوں کے نتیجے میں پاکستان دشمن عناصر کو کامیابی نصیب نہیں ہو رہی ہے۔ ہمارے عزم جوان ہیں لیکن ہماری معیشت اتنی مضبوط نہیں ہے کہ وہ اس طرح کی طویل اور اعصاب شکن جنگ کا بوجھ برداشت کر سکے۔ بلوچستان ایک اہم بلکہ اہم ترین صوبہ ہے پاکستان کا جغرافیہ ہے۔ ہماری مسلح افواج یہاں قربانیوں کی عظیم الشان تاریخ رقم کر رہی ہیں لیکن افغانستان سے جڑی طویل سرحد کو اس طرح کنٹرول کرنا ممکن نہیں ہے کہ دہشت گردوں کی آمدورفت کو روکا جا سکے۔ یہ کام تو سوویت یونین جیسی طاقت اور امریکہ جیسی سپریم طاقت بھی نہ کر سکی۔ پاکستان کی اس حوالے سے اوقات ہی کیا ہے۔ 
ہندوستان، اپنی حالیہ عسکری شکست کا بدلہ لینے کے لئے بلوچستان میں بہت فعال ہو چکا ہے۔ کور کمانڈر کانفرنس میں بھی اس بات کا ذکر بھی کیا گیا ہے کہ بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کیخلاف کارروائیاں ناگزیر ہیں۔ ویسے تو ہماری سکیورٹی ایجنسیاں ایک عرصے سے ایسی کارروائیوں میں مصروف ہیں لیکن حالیہ پاک بھارت جنگ میں بھارتی شکست کے بعد معاملات نے ایک نئی جہت اختیار کر لی ہے۔ ہندوستان نے پاکستان پر دباﺅ بڑھانا شروع کر دیا ہے۔ دہشت گردانہ کارروائیاں بڑھتی چلی جا رہی ہیں اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بھی اپنی حکمت عملی پر غور کریں۔ طاقت کے ساتھ ساتھ، سیاست کو بھی روبہ عمل لایا جائے۔ ایک طرف طاقت کے استعمال کے ذریعے دہشت گردوں کا سر کچلا جائے تو دوسری طرف ریاست پاکستان کے وفادار عناصر کے ساتھ معاملات شروع کئے جائیں۔ آئین پاکستان کے ماننے والوں کے ساتھ بات چیت شروع کی جائے۔ ان کے گلے شکوے سنے جائیں، ان کی شکایات کا ازالہ کیا جائے، ان کی دلجوئی کی جائے تاکہ وہ دہشت گردوں کیخلاف کارروائیوں میں مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔ پاکستان دوست عناصر کو انگیج کیا جائے، فعال کیا جائے تاکہ پاکستان دشمن عناصر کو یہاں چھپنے کی جگہ نہ مل سکے اور بلوچستان کو امن و خیر کی جگہ بنایا جا سکے۔

ٹیگز: