Wed, September 16, 2026

اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

بین الاقوامی سیاست کے افق پر اس وقت جو تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، وہ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ دنیا کی نام نہاد عالمی طاقتوں کا جادو اب ٹوٹنے کو ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کی حالیہ سنسنی خیز رپورٹ، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ خلیجی ممالک امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے میں صدر ٹرمپ کی سفارتی ناکامی پر شدید مایوس ہیں، محض ایک اخباری خبر نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں آنے والے ایک بڑے سیاسی زلزلے کا پیش خیمہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور بحرین جیسے روایتی امریکی اتحادی اب اس بات پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں کہ آیا انہیں اپنی سرزمین پر امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی جاری رکھنی چاہیے یا نہیں۔ یہ سوچ ہی اس بات کی عکاس ہے کہ اب خلیجی دنیا امریکی ڈکٹیشن سے تھک چکی ہے اور ”اونٹ اب کسی نئی کروٹ بیٹھنے“ کے لیے بالکل تیار ہے۔
کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کو یہ پٹی پڑھائی گئی تھی کہ ان کا تحفظ صرف اور صرف امریکی چھتری تلے ہی ممکن ہے۔ لیکن صدر ٹرمپ کی غیر سنجیدہ سفارت کاری، ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی غیر ضروری کشیدگی اور صرف اسرائیلی مفادات کے تحفظ کے جنون نے ان اتحادیوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ امریکا خطے میں امن کا خواہاں نہیں بلکہ وہ اپنے اسلحے کی فروخت اور تسلط برقرار رکھنے کے لیے مستقل جنگ کا ماحول چاہتا ہے۔ جب خلیجی ممالک یہ دیکھتے ہیں کہ واشنگٹن کی پالیسیاں ان کی اپنی خودمختاری اور سلامتی کو داو¿ پر لگا رہی ہیں، تو ان کا پیچھے ہٹنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ امریکی فوجی اڈوں کے خاتمے پر سنجیدہ غور اس بات کا اعلان ہے کہ اب مسلم ممالک امریکا کی جنگوں میں ایندھن بننے کو تیار نہیں ہیں۔ یہ امریکی اثر و رسوخ کے اس زوال کی شروعات ہے جس کی پیشگوئی طویل عرصے سے کی جا رہی تھی۔
خلیجی ممالک کی اس نئی اور جرا¿ت مندانہ سوچ کے پیچھے ان کی معاشی طاقت کا بڑا ہاتھ ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ خلیج کے مسلم ممالک کے پاس بلیک گولڈ یعنی تیل اور گیس کے وہ وسیع ذخائر موجود ہیں جن کے بغیر دنیا کے صنعتی پہیے کا چلنا ناممکن ہے۔ ماضی میں اس معاشی طاقت کو ہمیشہ امریکی ڈالر اور مغربی بینکوں کے تحفظ کی ضمانت بنا کر رکھا گیا، لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔ اگر خلیجی ممالک اپنے اس معاشی ہتھیار کو درست سمت میں استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیں، تو وہ راتوں رات عالمی معیشت کا رخ موڑ سکتے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے تناظر میں یہ بات واضح ہے کہ اگر مسلم امہ نے تیل کی سپلائی اور قیمتوں کو اپنی خودمختاری اور مظلوم مسلمانوں کے تحفظ سے مشروط کر دیا، تو امریکا اور اس کے حواری گھٹنوں کے بل آنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ یہ معاشی خودمختاری ہی وہ بنیاد ہے جس پر مسلم دنیا کی سیاسی آزادی کی عمارت کھڑی ہو گی۔
امریکا کی اس سفارتی ناکامی اور خلیجی ممالک کی مایوسی نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے عالمی توازنِ طاقت کو جنم دیا ہے۔ اب دنیا یک قطبی نہیں رہی جہاں صرف واشنگٹن کا حکم چلتا تھا، بلکہ اب چین اور روس جیسے متبادل بلاکس تیزی سے ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ خلیجی ممالک کے چین اور روس کے ساتھ بڑھتے ہوئے معاشی، دفاعی اور سفارتی روابط اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اب مسلم دنیا کے پاس متبادل راستے موجود ہیں۔ چین کی منصفانہ سفارت کاری اور بی آر آئی (Belt and Road Initiative) جیسے منصوبوں نے خلیجی ممالک کو یہ باور کرایا ہے کہ وہ امریکا کی بلیک میلنگ کے بغیر ترقی کر سکتے ہیں۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کی بحالی میں چین کا کردار اس بات کی گواہی ہے کہ خطے کے مسائل اب امریکی مداخلت کے بغیر بھی حل ہو سکتے ہیں۔ خلیج سے امریکی اڈوں کا خاتمہ اور روس و چین کے بلاک کی طرف جھکا، امریکی تسلط کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گا۔
اس نازک موڑ پر، مسلم دنیا کی سب سے بڑی نمائندہ تنظیم، او آئی سی (OIC) پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے روایتی کاغذی بیانات اور مذمتی قراردادوں کے خول سے باہر نکلے۔ واشنگٹن پوسٹ کی یہ رپورٹ مسلم امہ کے قائدین کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے کہ اب خوابِ خرگوش سے جاگنے کا وقت آ چکا ہے۔ او آئی سی کو اب ایک فعال، مضبوط اور متبادل عسکری و سفارتی فورم کے طور پر خود کو منوانا ہو گا، جہاں مسلم ممالک کے سکیورٹی اور معاشی تحفظ کے فیصلے اجتماعی طاقت سے کیے جائیں۔ اس نئی جیو پولیٹیکل صف بندی میں پاکستان جیسے ایٹمی اور دفاعی طور پر مضبوط مسلم ملک کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کے پاس ایک طرف دنیا کی بہترین اور جنگی مہارت سے لیس افواج موجود ہیں، تو دوسری طرف وہ خطے میں چین اور روس کے بلاک کا ایک اہم ترین سٹریٹیجک شراکت دار بھی ہے۔ جب خلیجی ممالک اپنی سرزمین سے امریکی اڈوں کو بے دخل کرنے کا تاریخی فیصلہ کریں گے، تو پاکستان، ترکی اور دیگر بڑے مسلم ممالک کا عسکری و تزویراتی تعاون ان خلیجی ریاستوں کو ایک ایسا فولادی تحفظ فراہم کر سکتا ہے جس کے بعد انہیں کسی مغربی بیساکھی کی ضرورت نہیں رہے گی۔ یہ بلاک جب یکجا ہو گا تو مسلم امہ ایک ناقابلِ تسخیر عالمی طاقت بن کر ابھرے گی۔
قرآن پاک اور تاریخِ انسانی کا یہ اٹل فیصلہ ہے کہ ظلم اور شیطانی طاقتوں کو عروج کے بعد زوال لازمی آتا ہے۔ فرعون، نمرود، شداد سے لے کر ماضی قریب کی سوویت یونین تک، جب بھی کسی طاقت نے زمین پر سرکشی کی اور خود کو ناقابلِ شکست سمجھا، قدرت نے اس کے اپنے ہی فیصلوں کو اس کی تباہی کا ذریعہ بنا دیا۔ آج امریکا اور اس کا لاڈلا اسرائیل اسی فرعونی تکبر کا شکار ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی عسکری ٹیکنالوجی، میڈیا پر ان کا کنٹرول اور ویٹو پاور انہیں ہمیشہ تحفظ فراہم کرے گی۔ لیکن وہ یہ بھول رہے ہیں کہ دلوں کے بدلنے پر کسی کا کنٹرول نہیں ہوتا۔ خلیجی ممالک کا امریکی پالیسیوں سے نالاں ہونا اور اپنے فیصلے خود کرنے کی طرف مائل ہونا، دراصل اس الہی نظام کا حصہ ہے جو ظالموں کے غرور کو خاک میں ملانے کے لیے حرکت میں آ چکا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کی یہ رپورٹ اس بات کا آغاز ہے کہ ان شاءاللہ اب دنیا پر اسلام کا غلبہ ہو کر رہے گا۔ اسلام صرف چند عبادات کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے جو عدل، انصاف اور انسانی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ جب سرمایہ دارانہ اور شیطانی نظام دنیا کو جنگ، بھوک، خوف اور ناانصافی کے سوا کچھ نہ دے سکے، تو دنیا کی تڑپتی ہوئی انسانیت اسلام کے دامنِ رحمت کی طرف ہی دیکھے گی۔ مسلم ممالک کے پاس اس وقت بے پناہ قدرتی وسائل، اہم جغرافیائی مقامات اور نوجوان افرادی قوت موجود ہے۔ اگر خلیجی ممالک اور باقی مسلم دنیا اپنے فکری و سیاسی اختلافات کو بھلا کر ایک مرکز پر جمع ہو جائیں، تو مغرب کا کوئی بھی معاشی یا عسکری حربہ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ امریکی اڈوں کی بے دخلی کا فیصلہ مسلم امہ کی حقیقی آزادی اور خودداری کا پہلا بڑا قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
موجودہ صورتحال کو دیکھ کر یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اب اونٹ حق اور سچ کی کروٹ بیٹھے گا۔ مغرب کا منافقانہ چہرہ اب پوری طرح بے نقاب ہو چکا ہے۔ وہ جمہوریت اور انسانی حقوق کے نام پر دنیا کو لوٹنے کا دھندا اب مزید نہیں چلا سکتے۔ مسلم دنیا بیدار ہو رہی ہے، اور یہ بیداری ان شاءاللہ ایک ایسی نئی عالمی بساط بچھائے گی جہاں فیصلے واشنگٹن یا تل ابیب میں نہیں، بلکہ مسلم امہ کی اپنی دارالحکومتوں میں ہوں گے۔ یہ وقت مایوسی کا نہیں بلکہ امید اور جدوجہد کا ہے۔ شیطانی طاقتوں کے زوال کے دن گنے جا چکے ہیں اور اسلام کا پرچم ایک بار پھر پوری دنیا پر امن، انصاف اور سربلندی کے ساتھ لہرائے گا۔ واشنگٹن پوسٹ کے دعوے اسی آنے والے روشن مستقبل کی دھندلی سی سہی، مگر سچی تصویر پیش کر رہے ہیں۔

ٹیگز: