Wed, September 16, 2026

اونٹ دوڑ، اماراتی ثقافت اور روایات کی منفرد پہچان بن گئی

اونٹ دوڑ، اماراتی ثقافت اور روایات کی منفرد پہچان بن گئی

ابوظبی: متحدہ عرب امارات میں صدیوں پرانی اونٹ دوڑ کی روایت آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ برقرار ہے اور اسے ملکی ثقافت، تاریخ اور قومی شناخت کا اہم جزو تصور کیا جاتا ہے۔ جدید دور میں بھی یہ کھیل اماراتی عوام کو اپنے آباؤ اجداد کی روایات سے جوڑے ہوئے ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اماراتی معاشرے میں اونٹ کو تاریخی طور پر خاص مقام حاصل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اونٹ دوڑ کو محض تفریح یا مقابلے کے بجائے صبر، حوصلے، ثابت قدمی اور صحرائی زندگی سے گہری وابستگی کی عکاسی سمجھا جاتا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے اس قدیم روایت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ملک میں جدید ریسنگ کورسز، خصوصی تربیتی مراکز، طبی اور ویٹرنری سہولیات سمیت باقاعدہ انتظامی ڈھانچہ قائم کیا گیا ہے، جس کے باعث اونٹ دوڑ ایک منظم کھیل کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

دبئی کا المرموم اور ابوظبی کا الوثبہ اونٹ دوڑ کے بڑے مراکز میں شمار ہوتے ہیں، جہاں قومی اور بڑے پیمانے پر ہونے والے مقابلے منعقد کیے جاتے ہیں۔

امارات کی اونٹ دوڑ اور دیگر روایتی ثقافتی سرگرمیوں کو بین الاقوامی سطح پر بھی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ اونٹ دوڑ سمیت ثقافتی ورثے کے مختلف عناصر یونیسکو کی غیر مادی ثقافتی ورثے سے متعلق فہرستوں کا حصہ ہیں۔

دوسری جانب امارات میں جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کے ذریعے اس تاریخی کھیل کو محفوظ رکھنے، اس کی دستاویز سازی کرنے اور عالمی سطح پر متعارف کرانے کے امکانات پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔

ٹیگز: