دنیا کو زیر کرنے کے خواب لیکرکئی آکڑخان دنیا میں آئے اور کئی گئے، وہ خود زیر ہو کرمنوں مٹی تلے جا سوئے آج شائد ان کا نام نشان بھی باقی نہیں ہے امریکہ بھی آج اسی روش پر ہے جس کے صدر ٹرمپ نے دوسری بار امریکی پگ سنبھالنے کے بعد ٹرمپ ٹیرف کی آڑ میں دنیا کو فتح کرنے کیلئے گھوڑے دوڑا دئیے ہیں حالانکہ تجارتی جنگ امریکہ اور چین کی ہے چین کچھوے کی چال چل کردنیا کوتابع کر رہا ہے اور امریکہ آگ اور خون کی ہو لی کھیل کر سمجھتا ہے کہ وہ چابک پکڑ کر دنیا کو ہانک لے گا جو اس کی بھول ہے تجارتی جنگ کی دوڑ میں امریکہ اور چین میں مقابلہ بازی ہو رہی ہے امریکہ یہ بھول گیا ہے کہ چینی قوم جسے نشئی کہا جاتا تھا آج منظم قوم کے نام سے دنیا میں جانی جاتی ہے اور کچھوے کی چال سے دنیا کو فتح کرنے کی ڈگر پرہے اورامریکہ خرگوش کی چال چلتا ہے جو کچھوے کو حقیر جان کر مار کھا جاتا ہے اسی لئے کچھوا کامیاب اور خر گوش ناکام ہوجاتا ہے چین نے امریکی پابندیوں کو جس طرح ہینڈل کر رہا ہے اور دوسرے ملکوں سے روابط بڑھا رہا ہے سے امریکہ کو وختے میں ڈال رہا ہے دوسری طرف چینی وزارت تجارت نے امریکا سے تجارتی معاہدے کرنے والے ممالک کو مخالفت کی وارننگ دے دی کیونکہ کئی ممالک دبائو کی وجہ سے ٹرمپ کے ساتھ معاہدہ کرنے کے چکر میں ہیں اسی لئے چینی وزارت تجارت نے امریکا کے ساتھ وسیع تر اقتصادی معاہدے کرنے والے ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ چین امریکا کے ساتھ اقتصادی و تجارتی اختلافات حل کرنے والے تمام فریقین کا احترام کرتا ہے، تجارتی جنگ مزید شدت اختیارکرگئی، امریکا کا چین پر عائد ٹیرف 245 فیصد تک پہنچ گیا جو پاگل پن کے سوا کچھ نہیں چین نے جوابی اقدام سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ چین اپنے حقوق اور مفادات کا تحفظ کرنے کے قابل اور پرعزم ہے کیونکہ چینی قوم روکھی سوکھی کھا لے گی لیکن اپنے ملک کیخلاف کوئی اقدام برداشت نہیں کرے گی،واضح رہے کہ بیشتر چینی مصنوعات پر امریکا کی جانب سے بدستور 145 فیصد ٹیرف عائد ہے جب کہ چین نے بھی امریکی مصنوعات کی درآمد پر 125 فیصد ٹیرف عائد کررکھا ہے جبکہ امریکی بھی ٹرمپ کے حالیہ فیصلوں سے نالاں ہیں اور وہ اسے ملکی تباہی قراردے رہے ہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں بیشتر امریکی شہریوں کو معیشت کے بدتر
ہونے کا ڈر ہے ،44فیصد امریکی ٹرمپ کے بطور صدر کارکردگی سے مطمئن ہیں جبکہ 51فیصد نے عدم اطمینان کا اظہارکیا ہے، معیشت پر 55فیصد شہریوں کا ٹرمپ پالیسیوں پر اظہار ناپسندیدگی نظر آیا، 43فیصد مطمئن ہیں تازہ ترین سروے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ محصولات، افراط زر اور سرکاری اخراجات سے نمٹنے پر وسیع عدم اطمینان کے درمیان اپنے صدارتی دور کے بدترین اقتصادی نمبر حاصل کئے ہیں،سروے میں کہا گیا کہ ٹرمپ کے دوبارہ انتخاب کے ساتھ آنے والی معاشی امید پرستی کا فروغ ختم ہو گیا ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیاں امریکہ کیلئے کتنی سود مند ہیں اب زیادہ تر امریکیوں کا خیال ہے 2023کے بعد کسی بھی وقت کے مقابلے میں معیشت بدتر ہو جائے گی اور سٹاک مارکیٹ کے بارے میں مایوسی کی طرف ایک تیز موڑ ہے، امریکہ ایک بار پھر ایران کو ایٹمی ہتھیاروں سے ہتھل کرنے کے درپے ہے معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں جنگ کی دھمکی بھی دے رہے ہیں شائد یہ بھول کراگر جنگ شروع ہوئی تو پھر اسے بند کوئی اور ہی کرائے گا؟ جبکہ سعودی عرب نے ٹرمپ انتظامیہ کے ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودیہ کا یہ موقف دس سال قبل اوباما کے ساتھ ایران کے معاہدے کی مخالفت سے مختلف ہے،سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں بہتری اور معاشی تنوع کے پروگرام نے اس نئے مؤقف کو جنم دیا، مذاکرات جو عمان کی ثالثی میں ہو رہے ہیں، خطے میں امن کے لیے اہم ہیں دوسری طرف سعودیہ ایرا ن تعلقات اب دس سال قبل والے نہیں رہے جب دونوں ممالک ایک دوسرے کی شکلیں تک دیکھنا گوارہ نہیں کرتے تھے اب عرب ممالک، بشمول مصر، اردن اور قطر نے بھی سفارت کاری کی حمایت کی ہے تاکہ کشیدگی کم ہو اور استحکام بڑھے، امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق گزشتہ دہائی میں سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں ڈرامائی تبدیلی آئی ہے، جو اب ٹرمپ انتظامیہ کے ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی حمایت میں سعودی عرب کے نئے مؤقف سے ظاہر ہوتی ہے، دس سال قبل جب سابق صدر باراک اوباما نے ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے ایک معاہدہ کیا تھا، سعودی عرب نے اسے کمزور معاہدہ قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی تھی، سعودی حکام کا خیال تھا کہ یہ معاہدہ ایران کو خطے میں مزید جارحانہ بنانے کا باعث بنا، لیکن اب جب دوسری امریکہ ایران کے ساتھ اسی طرح کا معاہدے کرنا چاہتا ہے سعودی عرب کا نقطہ نظر بالکل مختلف ہے،سعودی وزارت خارجہ نے کہا ہے وہ ان مذاکرات سے خطے اور دنیا میں امن کے فروغ کی توقع رکھتے ہیں، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے بھائی اور وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کو تہران بھیجا، جہاں ایرانی حکام نے ان کا پرتپاک استقبال کیا، شہزادہ خالد نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایک خط بھی پہنچایا جو کہ ایک غیر معمولی پیش رفت ہے ، سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک نے مذاکرات کا خیرمقدم کیا ہے، عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسیدی نے ایکس پر لکھا، یہ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور اب ناممکن بھی ممکن نظر آتا ہے، سعودی عرب اور ایران کے تعلقات گزشتہ دہائی میں بتدریج بہتر ہوئے ہیں، 2023 میں چین کی ثالثی میں دونوں ممالک نے باضابطہ طور پر مفاہمت کا اعلان کیا تھا، جو 2016 سے 2023 تک سفارتی تعلقات کی غیر موجودگی کے بعد ایک اہم سنگ میل تھا، اس کے علاوہ، سعودی عرب اپنی معیشت کو تیل پر انحصار سے کم کرنے کے لیے ایک بڑے اقتصادی تنوع کے پروگرام پر عمل پیرا ہے جس کا مقصد مملکت کو کاروبار، ٹیکنالوجی، اور سیاحت کا مرکز بنانا ہے امریکہ، ایران میں جوہری مذاکرات سے آگے کیا ہوگا؟اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتاامریکہ اپنے مفاد کیلئے کچھ بھی کرگزرنے کو تیار رہتا ہے جس کا اندازہ ٹرمپ ٹیرف سے لگایا جا سکتا ہے اس کے باوجود کہ امریکی شہری بھی اس اقدام سے پریشان ہیں لیکن ٹرمپ ڈھٹائی کا مظاہرہ کر رہا ہے کہا جا رہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ بظاہر ایک نئے ایران جوہری معاہدے کی طرف بڑھ رہی ہے جو اسرائیل کی توقعات پر پورا نہیں اترے گا کیونکہ اسرائیلی مفادات بھی ٹرمپ کو قدرے عزیز ہیں اور اس کے برعکس کوئی ایسا معاہدہ نہیں کیا جائے گا کہ جس سے اسرائیل کے مفادات کو خطرہ ہو؟ویسے بھی امریکہ میں براجمان یہودی لابی بھی کبھی نہیں چاہے گی کہ ایران کی مفادات کی بات ہو وہ توچاہتے ہیں کہ امریکہ اور سعودی عرب ایران کیخلاف ڈٹے رہیں تاکہ اسرائیل اور مضبوط ہوتا چلا جائے ٹرمپ کی پالیسیوں کیخلاف جہاں دنیا بھر میں نفرت کا اظہار کیا جا رہا ہے وہاں امریکہ میں بھی غم وغصے کی لہر پائی جاتی ہے اورامریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی پالیسیوں کے خلاف مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹرمپ گھٹنے ٹیکتے ہیں یا امریکہ کوتباہی کی طرف دھکیلتے ہیں کیونکہ چین تو دبنے والا نہیں؟؟؟۔