بیرون ملک تقریباً چار ماہ قیام کے بعد واپس آ کر سوچ رہا تھا پہلا کالم پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں اور اس پر حکمرانوں و افسروں کی نااہلیوں پر لکھوں گا مگر اس سے پہلے میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں پچھلے بتیس برس سے میں مختلف سرکاری تعلیمی اداروں سے بطور استاد وابستہ تھا، ابھی دو ماہ پہلے اس سے آزادی حاصل کی ہے۔ کہتے ہیں استاد کبھی ریٹائرڈ نہیں ہوتا مگر میں استاد کبھی تھا ہی نہیں، ویسا استاد جیسے میرے استاد تھے، بہت محنتی بہت مہربان بہت درد دل رکھنے والے اور رزق حلال میں ذرا ملاوٹ نہ کرنے والے استاد۔۔ ایک بار ایسے ہی استادوں کی تربیت نے جوش مارا، تب میں ایف سی کالج میں پڑھاتا تھا، میں جامعہ اشرفیہ کے اپنے مہربان مولانا عبدالرحمن مرحوم کے پاس چلا گیا، میں نے بڑے ادب سے ان سے پوچھا حضور ہمارے تعلیمی اداروں میں ہر سال اڑھائی تین ماہ کی گرمیوں کی چھٹیاں ہوتی ہیں، اس دوران میں پڑھاتا نہیں ہوں مگر مجھے تنخواہ ملتی رہتی ہے، کیا یہ تنخواہ مجھ پر حلال ہے؟ وہ مسکرائے، بڑی محبت سے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھا مجھ سے پوچھنے لگے، برخودار تم نے کچھ زیادہ بڑے دکھ نہیں پال لئے؟ میں نے عرض کیا حضور میرے سوال کا جواب دے دیں، وہ فرمانے لگے اچھا یہ بتاو¿ تمہیں جو تنخواہ ملتی ہے وہ تمہاری محنت یا تمہارے حق کے مطابق ٹھیک ہے؟ میں نے عرض کیا ویسے تو ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے مگر مہذب معاشروں اور ملکوں میں ٹیچر کو جو تنخواہ اور عزت وغیرہ ملتی ہیں ہمارے ہاں وہ نہیں ملتی۔ وہ بولے تم صاف صاف کیوں نہیں کہتے تمہیں تنخواہ کم ملتی ہے؟ میں نے کہا یہی سمجھ لیں۔ انہوں نے فرمایا پھر اڑھائی تین مہینے تمہیں کوئی کام نہ کرنے کی جو تنخواہ ملتی ہے تم اسے اپنے باقی نو مہینوں کی تنخواہ میں شامل کر کے اپنی تنخواہ بڑھا لو، اس طرح انہوں نے مجھے مطمئن کر دیا۔ پھر میں نے کبھی نہیں سوچا گرمیوں کی چھٹیوں میں بغیر پڑھائے جو تنخواہ مجھے ملتی ہے وہ مجھ پر حلال ہے یا حرام؟ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے میرے سیکڑوں سٹوڈنٹس ہی بتا سکتے ہیں بطور استاد ان کی تربیت اور ان سے محبت کا حق میں ادا کر سکا یا نہیں؟ مگر میں نے کوشش ضرور کی ہے اور میری ذرا سی اس کوشش میں اللہ نے اتنی برکت ڈال دی آج دنیا بھر میں جہاں جاتا ہوں کوئی نہ کوئی سٹوڈنٹ مل جاتا ہے اور وہ عزت اور محبت کی انتہا کر دیتا ہے اور مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ کاش میں نے اس کی اس محبت عزت اور خدمت کے مطابق اس سے سلوک کیا ہوتا۔ میں عرض کر رہا تھا میں ایک کامیاب استاد نہیں بن سکا مگر ایک کامیاب طالب علم بننے کی کوشش ہمیشہ کی ہے۔ جو، ابھی تک جاری ہے، سیکھنے کا عمل قبر تک جاری رہتا ہے، اس کے بعد بھی شاید جاری رہتا ہو گا، ہمارے ہاں المیہ یہ ہے ہم سب ایک دوسرے کو سکھانا چاہتے ہیں خود نہیں سیکھنا چاہتے۔ حالانکہ خود سیکھنے کا عمل زیادہ معتبر ہے اور یہ بہت سی کامیابیوں کا باعث بھی بنتا ہے،مگر ہم اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ یہاں سب استاد ہیں اور بڑے ہی استاد ہیں۔ پچھلے کئی برس سے سرکاری تعلیمی اداروں میں جب گرمیوں کی اڑھائی تین ماہ کی چھٹیاں ہوتی ہیں میں بیرون ملک چلے جاتا ہوں۔ میں زیادہ تر یورپ، کینیڈا، برطانیہ، امریکہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور آئرلینڈ جاتا ہوں۔ ان ممالک میں گرمی بہت کم ہوتی ہے یا ہوتی ہی نہیں ہے۔ گرمیوں سے مجھے صرف آموں کی وجہ سے محبت ہے،اب جبکہ دنیا بھر میں پاکستانی آم سرعام مل جاتے ہیں تو ضروری نہیں آموں کے ساتھ محبت صرف پاکستان میں رہ کر ہی کی جائے ،ہمیشہ ایسے ہوتا ہے گرمیوں کی چھٹیاں ختم ہونے سے پہلے ہی میں پاکستان واپس آجاتا تھا ،اس بار چونکہ ریٹائرمنٹ لے لی تھی لہٰذا واپسی کی اتنی جلدی یا پروا نہیں تھی ،اس بے پروائی میں چار ماہ گزر گئے،ابھی بھی واپسی کا کوئی ارادہ نہیں تھا اگر میری نواسی کی پیدائش کی اطلاع مجھے نہ ملتی،بیگم صاحبہ میرے ساتھ یورپ گئیں مگر چند ہی دنوں بعد وہاں انہیں کینیڈا میں مقیم اپنے بوڑھے اور بیمار والدین کی یاد ستانے لگی ،وہ ان کے پاس چلی گئیں اور مجھے یہ سہولت فراہم کر گئیں میں یورپ،برطانیہ اور آئرلینڈ میں اپنے دوستوں کے ساتھ اچھا وقت گزار سکوں ،یہ بات میں ازرہ مذاق کہہ رہا ہوں ورنہ اچھی بیگمات خود بہت اچھی دوست ہوتی ہیں اور میری بیگم میری اچھی دوست ہے، اس بار چونکہ یہ فکر نہیں تھی کہ واپس جا کر میں نے اپنے سٹوڈنٹس کو پڑھا کر ان کا مزید وقت ضائع کرنا ہے چنانچہ میں نے سوچا جتنی دیر پاکستان میں شدید گرمی ہے مجھے واپس نہیں جانا چاہیے ،نواسی کی پیدائش نے مگر میرا ارادہ بدل دیا،اس خوشخبری کے بعد ایک پل بیرون ملک میرا رکنا محال ہو گیا ،اوپر سے میرا بیٹا راحیل آج کل کینیڈا میں اپنے نانکوں کے پاس ہے،سو میری بیٹی اپنی بیٹی کی پیدائش پر اپنے بھائی اور والد کی کمی کچھ زیادہ ہی محسوس کر رہی تھی ،اس لئے بھی میں فوراً واپس آگیا ،واپسی کی اطلاع میں نے بشمول اپنی فیملی کسی کو نہیں دی تھی،میں آخری دنوں میں ڈنمارک کوپن ہیگن میں تھا،وہاں سے قطر ایئر لائن پر کچھ گھنٹے قطر میں قیام کے بعد واپس لاہور اپنے گھر پہنچا مجھے اچانک اپنے سامنے دیکھ کر فیملی کی خوشی اور حیرت کی انتہا نہ رہی ،سوچا تھا چند روز فیملی کے ساتھ گزار کے کچھ آرام وغیرہ کر کے لکھنے لکھانے کا سلسلہ دوبارہ شروع کروں گا،مگر میں رہ نہیں سکا،آج دفتر پہنچا ہوں،سٹاف سے ملا ہوں اور قلم لے کر ایک بار پھر آپ کے پیچھے پڑ گیا ہوں،آپ نے میرے برے لکھے کو بھی ہمیشہ پذیرائی بخشی ،میں آپ کا ممنو ن ہوں،گورے ممالک یا بیرونی دنیا سے کچھ نہ کچھ سیکھ کر آتا ہوں،یہ تجربے آپ سے شیئر بھی کرتا ہوں ،اس بار بھی کروں گا ،بیرونی دنیا خصوصاً ترقی یافتہ ممالک میں سب سے زیادہ میرے لیے باعث قدر اور باعث اطمینان ان کے آئین اور قانون کی حکمرانی ہے،جس سے پاکستان مکمل طور پر محروم ہوچکاہے ،یہی وجہ ہے دنیا میں ہماری قدر و قیمت مزید کم ہو گئی ہے،یہ ایسی زیادتی ہے جس کا ہمارے حکمرانوں کو رتی بھر احساس نہیں ہے،جہاں تک میری سرکاری ملازمت کا تعلق ہے اس دوران جن اذیتوں ،تکلیفوں اور ذلتوں کا سامنا بطور ایک صحافی یا کالم نویس مجھے کرنا پڑا اس پر باقاعدہ ایک کتاب لکھنے کا ارادہ ہے،یہ المیہ ہے ہر دور کے سیاسی و اصلی حکمرانوں کو صرف وہی سچ پسند ہوتا ہے جو ان کی مرضی اور مفاد کاہو،حتیٰ کہ عمران خان جب حکمران نہیں تھے کوئی شخص ان کی حد یا ضرورت سے زیادہ ان کے منہ پر ان کی تعریف کرتا انہیں بہت ناگوار گزرتا , وہ اسے روک دیتے تھے ،وزیراعظم بننے کے بعد وہ بھی باقیوں جیسے ہوگئے،اب خوشامدکرنے اورخوشامدپسندکرنے کی انتہا کا زمانہ ہے،ہمارے سرکاری افسروں کو سیاسی و اصلی حکمرانوں کی خوشامد میں کتنا گرنا پڑتاہے ؟ اس کے بیشمار واقعات آج کل دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں (جاری ہے)