Wed, September 16, 2026

سپریم کورٹ نے شادی شدہ بیٹیوں کو والد کے کوٹے پر ملازمت نہ دینا غیرقانونی قرارددیدیا

سپریم کورٹ نے شادی شدہ بیٹیوں کو والد کے کوٹے پر ملازمت نہ دینا غیرقانونی قرارددیدیا

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے شادی شدہ بیٹیوں کو مرحوم والد کے کوٹے پر ملازمت سے محروم کرنے کو غیرقانونی اور امتیازی قرار دیتے ہوئے والد کی جگہ بیٹی کو نوکری کے لیے اہل قرار دے دیا۔ عدالت نے سرکاری ملازم کے انتقال کے بعد بیٹی کو نوکری سے محروم کرنے کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ایک سرکاری افسر کے ذریعہ رولز میں تبدیلی کا عمل غیر قانونی ہے اور ایگزیکٹو ہدایات کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جا سکتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شادی کی بنیاد پر بیٹیوں کو مرحوم والد کے کوٹے سے خارج کرنا امتیازی سلوک ہے، جو آئین کے مختلف آرٹیکلز کی خلاف ورزی ہے۔

عدالت نے وضاحت کی کہ شادی سے عورت کی قانونی حیثیت اور خودمختاری ختم نہیں ہوتی اور اس کے حقوق صرف شادی پر منحصر نہیں ہیں۔ اس میں کہا گیا کہ آئین ہر شہری کو انفرادی حقوق فراہم کرتا ہے، اور اسلام میں بھی عورت کو اپنی جائیداد، مالی معاملات اور آمدنی پر مکمل اختیار حاصل ہے۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان نے خواتین کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے کے عالمی کنونشن کی توثیق کی ہے، جس کے تحت شادی کی بنیاد پر ملازمت میں امتیازی سلوک کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ اس فیصلے میں کہا گیا کہ ایسی روایات کو ختم کرنا ضروری ہے جو عورتوں کو شادی کے بعد اپنے حقوق سے محروم کرتی ہیں۔

عدالت نے کہا کہ عدلیہ اور انتظامیہ کو فیصلوں میں صنفی حساس اور غیر جانبدار زبان استعمال کرنی چاہیے اور اس طرح کے الفاظ، جیسے "شادی شدہ بیٹی شوہر پر بوجھ بن جاتی ہے"، پدر شاہی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔

آخر میں، سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ کیا کہ یہ حکم صرف آئندہ تقرریوں پر لاگو ہوگا اور پہلے سے کی گئی تقرریوں پر اثرانداز نہیں ہوگا۔ عدالت نے متعلقہ محکمہ کو ہدایت کی کہ درخواست گزار کی نوکری کو تمام سابقہ مراعات کے ساتھ بحال کیا جائے۔

ٹیگز: