قطر پر حملے کی منصو بہ بندی کوئی دو سے تین ماہ پہلے کی گئی تھی البتہ یہ ایک حقیقت ہے کہ فور ی طور پر حملہ کرنے کا فیصلہ عین دو چار لمحے پہلے یعنی فوری طور پر کیا گیا گویا کوئی ایسی ہنگامی صور تحال پیدا ہوئی کہ فیصلے پر عملدر آمد کر دیا گیا۔ یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ امر یکی صدر ٹرمپ غزہ میں جنگ بندی کیلئے کئی رو ز سے بہت ایکٹو دکھائی دے رہے تھے جبکہ اسرائیل اس کو بہت ناگواری سے دیکھ رہا تھا۔ بدھ 10ستمبر کو حملہ کا فیصلہ ہو تے ہیں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو فور ی طور پر انٹیلی جنس ہیڈ کوارٹرز میں ٹھہرایا گیا تاکہ وہ آپر یشن سمٹ آف فائر کی خو د نگرانی کر سکے اور حملے کے حوالے سے اس کا یہ بیان سامنے آ چکا ہے کہ یہ حملہ مقبوضہ مشرقی یروشلم میں حملہ سے دو روز پہلے یعنی پیر کو پیش آنیوالے اس فائرنگ کے واقعہ کا جواب ہے جس میں اسرائیل کے چھ شہری ہلاک ہو گئے تھے۔ یقینی طور پر اس کا یہ بیان محض حقیقت پردہ ڈالنے کی ایک بھونڈی کوشش ہے جبکہ یہ حملہ ان تمام جارحانہ اقدامات کی ایک کڑی ہے کہ جس کے تحت اسرائیل نے اس برس ایران پر حملہ کیا اور اس سے پہلے گذشتہ دو برس کے دوران شام، لبنان، تیونس اور یمن پر حملے کے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ صرف پیر کے بعد اگلے 72 گھنٹوں میں اسرائیل فلسطین، لبنان، شام، تیونس، قطر اور یمن پر حملے کر چکا ہے۔ حملہ کے بعد وائٹ ہاو¿س کی جانب سے جاری ہونیوالے بیان میں وضاحت کی گئی تھی کہ اسرائیل نے حملہ کیلئے صدر ٹرمپ کو آگاہ نہیں کیا لیکن جیسے ہی ان کے علم میں یہ بات آئی کہ اسرائیل حملہ کرنیوالا ہے تو انہوں نے فوری طور اپنے خصوصی ایلچی کو ہدایت کی کہ وہ قطری حکام کو مطلع کریں مگر اس دوران حملہ ہو چکا تھا۔ عالمی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ حملہ اسرائیل پر محتاط تنقید کرنیوالے کچھ اتحادیوں کیلئے ایک پیغام بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی تو پوں کا رخ بدل لیں۔ دراصل اسرائیل قطر میں جنگ بندی کیلئے ہونیوالے مذاکرات سے بہت نا خوش تھا اور کسی صورت بھی کسی سمجھوتہ پر نہیں پہنچنا چاہتا تھا گویا یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ صرف حملہ محض چند حماس رہنماو¿ں کو ختم کرنے کیلئے نہیں پور ے مذاکر اتی عمل کو ہی ختم کرنے کیلئے کیا گیا ہے ور نہ اس کی ٹا ئمنگ کچھ اور بھی ہو سکتی تھی جبکہ دو سر ی جانب ٹر مپ کچھ روز سے مسلسل جنگ بندی کی باتیں کر رہے تھے اور اسرائیل کو خدشہ تھا کہ ٹرمپ کسی صور ت اس کوشش میں کامیاب نہ ہو جائیں چنانچہ اس نے بو کھلاہٹ میں اپنا خبث بہت ہی کھل کر ظا ہر کر دیا کہ وہ کسی صور ت اپنے عزائم سے ٹلنے والا ہے نہ کس کو اس نو عیت کا مذاکراتی عمل قبو ل ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر ٹر مپ اپنے دعویٰ کے مطابق اسرائیل کو غزہ میں جنگ بندی پر آمادہ کر لیتے ہیں تو یہ بات طے ہے کہ اسرائیل دنیا میں تنہا ئی کا شکار ہو سکتا ہے اور اس کے واضح آثار پیدا بھی ہو رہے ہیں۔ اس وقت صر ف ٹر مپ ہی گیم چینجر ثا بت ہو سکتے ہیں لیکن بعض تجزیہ نگار کہتے ہیں ماضی کو دیکھا جائے تو ٹر مپ اسرائیل کو جنگ بندی پر آمادہ نہیںکر سکیں گے اور اگر وہ ایسا نہ کر سکے تو امریکہ کے ساتھ ساتھ ان کی اپنی ساکھ بھی بہت بر ی طر ح متاثر ہو گی۔ یہ بات طے ہے کہ اگر اسرائیل کا ایشو اگر ہمیشہ کے لئے حل ہو سکتا ہے تو وہ صر ف ٹرمپ کر سکتے ہیں کیونکہ بلا شبہ وہ ایک مختلف سو چ رکھتے ہیں۔ یہ پہلی بار ہو ا ہے کہ واقعہ کی مذمت کیلئے بلائے گئے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے خصو صی اجلاس میں پہلی بار اسرائیل کیخلاف مذمتی بیان کی امریکہ سمیت تمام 15ممبر ممالک نے حمایت کی اور حملہ کی نہ صرف شدید الفا ظ میں مذمت کی بلکہ باقاعدہ قطر کیساتھ یکجہتی کا اظہا ر بھی کیا۔ اس سے بھی حیر ت انگیز بات یہ ہے کہ یہ مذمتی بیان امر یکہ اور فرانس کی جانب سے تیار کیا گیا تھا اور اس میں ا مریکہ کی تشویش اور سخت تیور اجلاس میںباقاعدہ محسو س کئے گئے۔ بیان میں حماس سے بھی یہ مطا لبہ کیا گیا کہ وہ بھی غز ہ میں مو جود ان یر غمالیوں کو رہا کر دیں کہ جن کے بارے میں خیال ہے کہ ان کی تعداد 40ہے اور ان میں سے بھی آدھے شا ئد زندہ نہیں ہیں۔ حملے کے بعدبھی ا مر یکی صدر نے اس کی مخا لفت کی جبکہ جر منی نے بھی جو اسرائیل کا ایک پرانا اتحادی سمجھا جاتا ہے، اس اسرائیلی اقدام کی مذمت کی۔ الجزیرہ ٹی وی نے بات کو ایک فقرہ میں سمو دیا ہے کہ اس وقت پور ی دنیا قطر سے اظہار یکجہتی کر رہی ہے ایسا بھی پہلی بار ہوا ہے کہ پور ی دنیا نے اسرائیل کی مذ مت کی ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس واقعہ کے بعد اس دیگر ممالک بھی اس خو ف میںمبتلا ہو گئے ہیں کہ ان کی بھی بار ی آ سکتی ہے اور پھر اسرائیل کی کسی بات یا بیان سے یہ واضح بھی نہیں ہو تا کہ وہ کچھ اور ممالک کو نشانہ بنانے سے باز رہ سکتا ہے۔ اسرائیل کسی صور ت بھی دنیا کی محض زبانی کلامی تنقید کو خاطر میں لا رہا ہے نہ ہی اس کے نتیجہ میں اس کی پالیسی میں کسی تبدیل کا کوئی امکان ہے بلکہ وہ مسلسل عالمی قوانین کی خلاف ور ز ی کرتے ہوئے غزہ میں 64ہزار سے زائد فلسطینیوں کو لقمہ اجل بنا چکا ہے جبکہ پورا علاقہ قحط کا شکار ہے ۔اسرائیل نے ہمیشہ ہی ہر حملے کے بعد عالمی تنقید اور مذمت کی پروا نہیں کی۔ امریکہ میں الجزائر کے سفیر کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل پوری دنیا کے کسی قانون کو نہیں مانتا اور اس کا قطر پر حملہ اس کا پاگل پن ظاہر کر تا ہے۔ بیروت میں سینٹ جوزف یونیورسٹی کے انٹر نیشنل ریلیشینز کے ماہر پروفیسر کر یم ایمیلی بطار کا کہنا ہے کہااس غز ہ کی صورتحال خصوصاً خوراک کی قلت کی صور تحا ل کے تناظر میں بین الاقوامی رائے بڑ ی تیز ی سے اسرائیل کیخلاف ہو رہی ہے بلکہ خود اسرائیل کے بڑ ے بڑے دانشور بھی اب غز ہ جنگ کو فلسطینیوں کی نسل کشی قر ار دے رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اب خلیج میں بھی اسرائیل کے خلاف رو یہ بہت زیادہ سخت ہو تا دکھائی دے رہا ہے اور اس بات کا اظہار اس امر سے بھی ہوتا ہے کہ خلیجی لیڈر اس با ت کا ا علان کر چکے ہیں کہ خلیجی ریاستیں اس حملہ کا جواب دینے کا سو چ رہی ہیں۔ دو سر ی جانب یو ر پی یونین تک اسرائیل پر نہ صر ف تنقید کر رہی ہے بلکہ اس پر کچھ پابندیاں لگانے کی دھمکیاں بھی دے چکی ہے۔ حالیہ دنوں میںسپین نے بھی اپنی بندر گاہو ں کے راستے اسرائیلی پر کچھ پابندیاں لگاتے ہوئے اس کی فوج کیلئے ہتھیار لے جانیوالے بحر ی جہازوں کو بھی رو ک دیا ہے۔ یہ بات بھی اپنی جگہ ٹھیک ہے کہ مغر بی ممالک کی طر ف سے اسرائیل کیخلاف اقدامات میں وہ شدت نہیں دکھائی دیتی جو یوکرائن پر حملہ کے بعد رو س پر لگائی گئی پا بندیوں میں د کھائی دیتی ہے گو یا مغر بی ممالک کا یہ دوہر ا معیا ر نو ٹس کیا جا رہا ہے۔ قطر کے امریکہ کے ساتھ بڑھتے ہوتے تعلقات اور سفارتی اثر و رسو خ کے تناظر میں حالیہ حملہ زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ جس میں حماس کی بڑ ی قیادت کو ختم کرنے میں نا کام رہا البتہ قطر کے سکیورٹی افسر سمیت نچلی سطح کے 5 عہدیدار اس میں جاں بحق ہو گئے۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے قطر کا امر یکہ کے ساتھ کھڑا ہو نا اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ امر یکہ کی پالیسی میں کوئی تبدیل آ سکتی ہے بلکہ اسرائیلی(باقی صفحہ 4 بقیہ نمبر1)
وزیر اعظم ڈٹ کر کہہ چکے ہیں یہ حملہ اسرائیل کا منصو بہ تھا اور اس نے حملہ کر دیا اور وہ اس کی مکمل ذمہ داری قبول کرتا ہے۔ حیرت انگیز بات ہے کہ حماس کی جانب سے بھی پور ے عز م کے ساتھ یہ بات کہی گئی ہے کہ اس حملہ کے بعد بھی وہ کسی صور ت اپنی جدو جہد ختم نہیں کرینگے بلکہ جنگ جاری رہے گی۔ حماس کے ایک تر جمان کے مطابق ہماری قیادت کو نشانہ بنانے سے ہماری ارادوں میں کو لغزش نہیں آئیگی۔ آخر میں ایک بات کہی جا سکتی ہے کہ آج بھی کسی اسلامی ملک خصوصاً اسرائیل کے کسی پڑوسی ملک کی فوج میں اتنا دم نہیں کہ وہ اسرائیل کیلئے کوئی خطرہ ثابت ہو سکے اور اس کے ہتھیار اسرائیل کو نیست و نا بود کر سکےں۔ لبنان نظریاتی اعتبار سے منقسم ہے اور وہ د دو دہائیوں تک جنوبی لبنان کو اسرائیل کے شکنجے سے آزاد کرانے کی جدو جہد میں مصروف رہا حتیٰ کہ وہاں حز ب اللہ قائم ہوئی اوراس نے اس علاقے سے اسرائیل کو باہر نکال پھینکا۔ یہ واحد شکست ہے جس سے 1948 میں اسرائیل اپنے قیام کے بعد دو چار ہوا۔ اسی طر ح شام بھی یورپ اور بعض مسلم بادشاہو ں کی ایک منصو بے کے تحت پیدا کردہ خانہ جنگی سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران کچھ کر سکتا ہے مگر وہ جانے کس بات کا منتظر ہے کہ میزائل بر سا کر اسرائیل کی برتر ی کا غرور خاک میں ملا دے۔ اب مقابلہ میں دنیا کی تمام طاغوتی طاقتوں اور سامراجی نظریات کا گٹھ جوڑ کھڑا ہے ۔ بس اللہ کی ذات ہی ہے کہ وہ ظالم کا ہاتھ روک دے ورنہ تیسر ی عالمی جنگ شروع ہوا ہی چاہتی ہے۔