امریکہ کے پالتو غنڈے اسرائیل نے پہلے قطر اور پھر اس سے اگلے ہی دن یمن پر حملہ کر دیا۔ یہ حملہ حماس کی سینئر قیادت پر تھا لیکن حماس کی قیادت تو بچ گئی لیکن ان کے سینئر رہنما خلیل الحیہ کا بیٹا ان کا معاون اور دفتر کے انچارج جہاد لبد اور قطری سکیورٹی اہلکار سمیت 6افراد شہیدہو گئے۔ قطر کے دارالحکومت دوحہ پر حملے کے نتیجہ میں ان حملوں کے اس خطے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے اس پر بھی بات کریں گے لیکن پہلے خاص طور پر پاکستان بھی کیا اس سے متاثر ہو سکتا ہے پہلے اس پر بات کرتے ہیں ۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کل غزہ پھر ایران اور آج قطر اور یمن توآنے والے کل میں پاکستان کی بھی باری آ سکتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی باری کل نہیں آنی بلکہ مئی 2025میں آ چکی ہے ۔ کیا آپ کو یاد نہیں کہ ہندوستان نے پاکستان پر جو حملہ کیا تھا اس کی شروعات اسرائیلی ڈرون سے کی تھی اور پاک بھارت جنگ کے دوران تمام وقت اسرائیلی ماہرین ہندوستان میں موجود تھے ۔ اسی طرح ایران پر حملہ بھی پاکستان پر حملے کا ایک طرح سے تسلسل تھا اور یہ بھی یاد کریں کہ پاکستان اور ایران پر حملے کے وقت جنگ کے شروع کے دنوں میں ٹرمپ بہادر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان اور نہ ہی ایران اور اسرائیل کے درمیان صلح کرانے کے موڈ میں تھے لیکن جب چھتر پڑنا شروع ہوئے تو پھر ہندوستان اور اسرائیل کو تباہی سے بچانے کے لئے صلح کرانا پڑی تو پاکستان پر تو انہوں نے پوری کوشش کی اور اسرائیل اگر ہندوستان کے ساتھ تھا تو امریکہ کی مرضی کے بغیر نہیں تھا بلکہ اس میں امریکہ کی مکمل آشیر باد حاصل تھی اور یہی وجہ ہے کہ پاک بھارت جنگ شروع ہونے کے بعد جب ٹرمپ بہادر سے صحافی پوچھتے کہ آپ دونوں ممالک کے درمیان صلح کرا دیں تو جواب ہوتا تھا کہ یہ دونوں توپندرہ سو سال سے لڑ رہے ہیں خود ہی صلح کر لیں گے لیکن پھر جب پاکستان نے پانچ گھنٹے کے انتہائی قلیل وقت میں ہندوستان کو دھول چٹوا دی تو پھر ٹرمپ صاحب کو ہندوستان کو مزید تباہی سے بچانے کے لئے صلح کرانا پڑی اور اس بات کا اعتراف ایک سے زائد بار خود ڈونلڈ ٹرمپ بھی کر چکے ہیں کہ اگر وہ صلح نہ کراتے تو ہندوستان میں بہت زیادہ تباہی ہوتی ۔
پاکستان پر حملہ پاکستان کو ہمیشہ کے لئے سر نگوں کرنے کا منصوبہ تھا لیکن صد شکر کہ اول پاکستانی افواج کی بہترین کارکردگی اور اس کے ساتھ چین کی آہنی دوستی اور پھر ترکیہ کی عملی طور پر 2ہزار جدید ترین ڈرون سے مدد اور ایران اور سعودی عرب سمیت دیگر برادر اسلامی ممالک کی پاکستان کے لئے حمایت نے ایک بال پر انڈیا ، اسرائیل اور امریکہ تینوں وکٹیں گرا دیں تو جس عبرت ناک انداز میں ہندوستان کو شکست فاش ہوئی ہے اور پھر ایران کی فتح میں بھی جس طرح پاکستان کا کلیدی کردار تھا تو اب ایک لمبے عرصے تک اسرائیل اور ہندوستان کم از کم پاکستان اور قوی امید ہے کہ ایران پر بھی حملے کی جرا¿ت نہیں کرے گا لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اسلام مخالف یہ قوتیں خاموش ہو کر بیٹھی رہیں گی بلکہ ان کی پوری کوشش ہو گی کہ کسی نہ کسی طرح عالم اسلام کے دفاعی لحاظ سے مضبوط پاکستان اور ایران پر پھر کسی طرح مزید تیاری کے ساتھ حملہ کیا جائے لیکن امید ہے کہ یہ حسرت ان کے دل میں ہی رہے گی ۔
اب جہاں تک قطر اور یمن پر حملے کے اس خطے کی صورت حال پر اثر انداز ہونے کی بات ہے تو بالکل اس کے بہت زیادہ اثرات مرتب ہوں گے ۔ اسرائیل نے قطر میں جس امریکن بیس پر حملہ کیا ہے یہ وہی ائر بیس ہے کہ جہاں پر ایران نے بھی حملہ کیا تھا ۔ جس طرح دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان کے دفاع کی ذمہ داری امریکہ کی ہے تو اسی طرح قطر بھی امریکہ کا انتہائی اہم حلیف ہے اور اس کے دفاع کی ذمہ داری بھی امریکہ کی ہے اور گلف میں سب سے بڑی امریکن ائر بیس بھی قطر میں ہی ہے تو امریکہ اگر بار بار قطر کے دفاع میں ناکام رہتا ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہو گا کہ اگر قطر پر حملہ امریکن آشیر باد سے ہو تو پھر امریکہ کی نیت پر بہت سے سوالات اٹھتے ہیں اس لئے کہ قطر پر حملے کے بعد اسرائیل کا پہلا بیان یہی تھا کہ انہوں نے اس کی اطلاع امریکہ کو دی تھی لیکن پھر جب امریکہ کی جانب سے اس کی تردید کی گئی تو اسرائیلی وزیر اعظم کے آفس کی جانب سے بھی کہا گیا کہ یہ اسرائیل کا اپنا منصوبہ تھا۔ اس حملے میں اسرائیل کے دس لڑاکا طیاروں نے حصہ لیا ۔اب اگر امریکہ کی بد نیتی بھی صاف طور پر نظر آ رہی ہو اور وہ قطر کے دفاع میں بار بار ناکام بھی رہے تو پھر قطر ہی نہیں بلکہ کئی دیگر عرب ممالک بھی اپنی بقا اور سلامتی کے لئے امریکہ کے علاوہ دیگر آپشن پر غور کریں گے ۔ ماضی قریب میں چین نے سعودی عرب اور ایران کو قریب لانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا ۔ یہ بات درست ہے کہ اس وقت امریکہ اس کرہ ارض کی اکلوتی سپر پاور ہے لیکن چین اور روس بھی امریکہ کی ٹکر کی ریاستیں ہیں اور پھر انہیں یہ بھی فائدہ ہے کہ وہ اس خطے میں موجود ہیں جبکہ امریکہ سات سمندر پار تیرہ ہزار کلو میٹر دور ہے تو جس طرح اس وقت پاکستان کے امریکہ کے ساتھ ساتھ چین اور روس سے بھی اچھے تعلقات ہیں تو یہ بات عین ممکن ہے کہ عرب ریاستیں امریکہ کے ساتھ ساتھ چین اور روس کی طرف بھی مائل ہو سکتے ہیں ۔