قطر پر اسرائیلی حملے سے کئی مفروضے بھی دم توڑ گئے۔ یہ مفروضہ بھی غلط ثابت ہوا کہ اتحادی ممالک ایک دوسرے پر حملے نہیں کرتے اور نہ ایک دوسرے پر حملوں کی توثیق کرتے ہیں۔ سچ یہی ہے کہ امریکہ نے قطر کی خودمختاری پر حملے کی حمایت ہی نہیں کی بلکہ قطر پر حملہ کرایا بھی ہے۔ اپنی حفاظت کے لیے قطر کا تمام تر انحصار امریکہ پر ہی ہے۔ اس سے قطر کے اثر و رسوخ کی حدود نظر آتی ہیں۔ حفاظت کی ضمانت پر امریکہ کو فوجی اڈے دینے والے ممالک سوچیں کہ امریکہ کی جانب سے انہیں دی گئی حفاظتی ضمانتیں کوئی حیثیت بھی رکھتی ہیں یا نہیں۔ اسرائیل امریکی اشارے پر امریکی مقاصد آگے بڑھا رہا ہے۔ قطر پر اسرائیلی حملہ دراصل اسرائیل کی جانب سے امریکی حکم کی تعمیل ہے۔ اسی لئے اسرائیل نے بڑے فخر سے اس حملے کو تسلیم بھی کیا اور آئندہ بھی امریکہ کو ایسے کسی بھی حکم کی تعمیل کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔ دوسری جانب امریکہ قطر پر اسرائیلی حملے کو سفارتکاری کی ناکامی نہیں سمجھ رہا بلکہ اسے اپنی بڑی حکمت عملی کا حصہ سمجھتا ہے۔ قطر پر ہونے والے اس اسرائیلی حملے کے علاقائی نتائج کہیں زیادہ سنگین ہونگے۔
دہائیوں تک ہاتھ پر ہاتھ دھرے عرب حکمران اب فکر مند ہیں کہ اسرائیل نہ صرف تیزی سے مزید جارح ہوتا جا رہا ہے بلکہ تیزی سے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کرنے والے اقدامات بھی کر رہا ہے۔ امریکہ اور یورپ سمیت مسلم دنیا کی طرف سے اسرائیل پر نہ ہونے کے برابر کوئی پابندی ہے۔ اسرائیل کے فلسطین، یمن، لبنان، شام، ایران اور اب قطر پر کئے جانے والے حملوں کی کھوکھلی مذمتوں کی حیثیت کو اسرائیل بھی سمجھتا ہے۔
ہم ایک نئی دنیا، نئی فضا اور نت نئے قوانین کے دور سے گزر رہے ہیں۔ پہلے سے طے پانے والے اصول اور مفروضے تیزی سے ختم ہو رہے ہیں اور نئی خوفناک حقیقتیں سامنے آ رہی ہیں ۔ یہ تشویش علاقائی طاقتوں کو اپنی فوجی صلاحیتوں کو مزید بڑھانے کی طرف لے جائے گی۔ عربوں کو زمینی حقائق مدنظر رکھتے ہوئے وسیع البنیاد اور وسیع المدت حکمت عملی ترتیب دینا ہو گی۔محض دولت کے بل بوتے پر اسلحے کے انبار لگا دینا کافی نہیں۔ بوقت ضرورت اس اسلحہ کو استعمال کرنے کی جرا¿ت اور صلاحیتوں کا ہونا بھی بجائے خود ضروری ہے۔
مشرق وسطیٰ سمیت تمام مسلم ممالک کو اپنی دفاعی ترجیحات کا از سر نو جائزہ لینا ہو گا۔ متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین،کویت، عمان، اردن اور سعودی عرب کے پاس دولت کی کمی نہیں۔ ان ممالک نے گزشتہ 60 برس میں مادی اعتبار سے بے انتہا ترقی کی لیکن عالمی معیار کی سائنس و ٹیکنالوجی کی کوئی یونیورسٹی اور سائنسی تحقیقی ادارہ بنانا ضروری نہ سمجھا۔ وسیع البنیاد بات یہ ہے کہ مسلمان ممالک کو خوف، بربریت، ذلت آمیز موت سے بچنا ہے تو جدید سائنسی تعلیم و تحقیق پر خصوصی توجہ مرکوز کرنا ہو گی تاکہ مسلمان تحقیقی اور حربی میدان میں یہود و نصاری کا مقابلہ کر سکیں۔ عرب ممالک نے اسلحہ سازی کو ترجیح دی نہ پروفیشنل اور تربیت یافتہ فوجیں تیار کیں جبکہ ان سب عربوں کو اعلیٰ تربیت یافتہ اسرائیلی فوج کی جارحیت کا سامنا ہے۔ عربوں نے اسرائیل سے ہمیشہ مار کھائی لیکن اپنی اپنی فوجوں کو اسرائیل کے ہم پلہ نہ کیا۔ عرب ممالک جہاں لق و دق صحرا، بنجر پہاڑ اور شدید گرم موسم تھا وہاں پوری دنیا کو سیرو تفریح کے ہی نہیں سرمایہ کاری کے مواقع بھی مہیا کر دیئے۔ آج آپ کو دنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈے مشرق وسطیٰ میں ملیں گے۔ دنیا کی شاید ہی کوئی ایئر لائن ہو جو دبئی، دوحا، کویت، بحرین، مسقط اور جدہ کو نظرانداز کرتی ہو۔
قطر میں ہونے والے گزشتہ فٹ بال ورلڈ کپ کا کامیاب انعقاد قطر کے لئے غیر معمولی اہمیت کا حامل تھا۔ اس ورلڈ کپ کے انعقاد کے لئے عالمی معیار کے نئے سٹیڈیم اور ہوٹلز بنائے گئے۔ ساری دنیا سے قطر آنے والے سیاحوں اور سرمایہ کاروں کی میزبانی کے لئے ملک کو بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کیا گیا۔ اس ورلڈ کپ میں پاکستان کے بنے ہوئے فٹ بال استعمال کیے گئے۔ اس میگا ایونٹ کی بخیر و خوبی انجام دہی کیلئے حفاظتی ذمہ داری افواج پاکستان کے سپرد کی گئی جسے پاکستان نے با احسن نبھایا۔ پرائی فوجوں کی مدد سے مستقل بنیادوں پر دفاع کبھی مضبوط نہیں بنائے جا سکتے۔
خطے کا سب سے بڑا امریکی فوجی اڈہ قطر میں ہے۔ امریکہ اس فوجی اڈے کے قیام کی وجہ قطر کی سالمیت کو یقینی بنانا بتاتا رہا۔ قطر کا سالانہ دفاعی بجٹ 15 ارب ڈالر سے زائد جبکہ پاکستان کا دفاعی بجٹ 7 ارب ڈالر سالانہ کے لگ بھگ ہے۔ قطر کے پاس رافیل طیاروں سمیت جدید امریکی ساختہ طیارے اور بے تحاشا جنگی ساز و سامان موجود ہے۔ قطر سعودی عرب کے بعد سب سے زیادہ امریکی اسلحہ خریدنے والا ملک ہے لیکن قطر کی فوج عسکری تربیت اور مہارت میں اس معیار کے مطابق نہیں ہے جس معیار کی عسکری طاقت اسرائیل کے پاس ہے۔ قطر نے جدید ترین اسلحہ اور دفاعی نظام سے لیس امریکہ کو اپنے ملک کے دفاع کا ٹھیکہ دئیے رکھا اور جب دفاع کرنے کا وقت آیا تو امریکی بھنگ پی کر سو گئے۔
امریکہ عرب ممالک کو اسلحہ بیچنے کے چکر میں دراصل ان ممالک کے بادشاہوں سے انکے اقتدار کو چار سالہ دوام بخشنے کے عوض اربوں ڈالر بطور بھتہ وصول کرتا ہے۔ ٹرمپ کے سعودی عرب، یو اے ای اور قطر کے دوروں کا ایک نظر میں جائزہ لے کر دیکھ لیں آپ پر یہی حقیقت آشکار ہو گی۔ ٹرمپ پہلی مرتبہ صدر منتخب ہوئے تو انہوں نے سب سے پہلے سعودی عرب اور قطر کا دورہ کیا۔ دونوں ممالک نے ٹرمپ کا والہانہ استقبال کیا۔ اس دورے کے دوران سعودی عرب اور قطر نے امریکہ سے 12 ارب ڈالر کا اسلحہ خریدا۔ پچھلی مرتبہ اپنے اولین دورے کے دوران ٹرمپ نے 24 ارب ڈالر کی ڈیفنس ڈیل کے نام پر سعودی عرب اور قطر سے بھتہ بٹورا اور چلتے بنے۔ دوسری بار ٹرمپ صدر بنے تو اس بار پھر اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر بھتہ وصول کرنے آ دھمکے۔ اس بار ٹرمپ نے قطر کے ساتھ 1.2 ٹریلین ڈالر کے معاہدے کئے۔ ٹرمپ نے امریکہ اور قطر کے درمیان 243.5 بلین ڈالر سے زیادہ کے معاشی سودوں کا بھی اعلان کیا جس میں قطر ایئر ویز کو بوئنگ طیاروں اور جی ای ایرو سپیس انجنوں کی تاریخی فروخت بھی شامل ہے۔ دورے کے اختتام پر امیر قطر نے ٹرمپ کو 500 ملین ڈالر مالیت کا جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ بوئنگ طیارہ بھی بطور تحفہ مرحمت فرما دیا۔
صدر منتخب ہونے کے بعد ٹرمپ کے دورہ سعودی عرب، یو اے ای اور قطر کے درمیان شاہانہ تمکنت اور نمود و نمائش کا مقابلہ تھا جس میں تینوں ممالک نے دولت کے استعمال پر ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی پوری کوشش کی۔ قطریوں نے ٹرمپ کی جیب ڈالروں سے بھرتے ہوئے ان کو دعاو¿ں اور نیک تمناو¿ں کے ساتھ دوحا سے رخصت کیا تو کچھ ہی ماہ بعد امریکہ کے ایران سے جاری مذاکرات کو سبوتاژ کرتے ہوئے اسرائیل نے امریکی شہہ پر ایران پر حملہ کر دیا۔ جب اسرائیل کو ایران کی جانب سے شدید حملوں کا سامنا کرنا پڑا تو امریکہ اسرائیل کی مدد کو لپکا اور اس نے ایران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کر دی۔
امریکہ کی جانب سے ایران پر کئے جانے والے حملے کی وجہ سے ایران نے قطر میں موجود امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملہ کر دیا۔ گویا ایران کے ساتھ کی جانے والی امریکی اور اسرائیلی شرارت کا ایران کی جانب سے نشانہ قطر کی سرزمین بنی۔ اب کی بار امریکی ایما پر حماس کے ساتھ شروع کئے جانے والے مذاکرات کو سبوتاژ کرتے ہوئے اسرائیل نے قطر کی سرزمین کو نشانہ بنا دیا۔ دونوں واقعات میں قطر کی سالمیت اور خودمختاری کو نشانہ بنایا گیا۔ دونوں حملوں کے پیچھے اسرائیل اور امریکہ تھے۔ دونوں حملوں میں قطر میں موجود امریکی اڈا مکمل طور محفوظ رہا۔ اگر امریکی اڈے کو ایران علامتی کی بجائے براہ راست نشانہ بناتا تو امریکہ ایران کے خلاف کیا کچھ نہ کر گزرتا؟ اسرائیل نے قطر پر حملہ کیا تو امریکہ نے اسرائیل کو کچھ نہ کہا۔ سوال یہ ہے کہ قطر میں امریکی فوجی اڈے کا مقصد قطر کی سالمیت کو یقینی بنانا تھا تو قطر پر ہونے والے دونوں حملوں (ایرانی اور اسرائیلی) پر امریکیوں نے ان حملوں کو اس جدید ترین ٹیکنالوجی اور دفاعی نظام کی مدد سے ناکام کیوں نہ بنایا جو اسکے پاس قطر میں موجود ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ قطر میں موجود امریکی اڈہ قطر کی سالمیت یقینی بنانے کیلئے نہیں بلکہ وسیع تر امریکی مقاصد کے حصول کیلئے ہے۔ امریکہ خطے میں اسرائیلی مقاصد کا حصول ہی ممکن نہیں بنا رہا بلکہ خطے میں اپنے مفادات اور ایجنڈے کو بھی آگے بڑھاتا ہوا کامیابی سے ہمکنار کر رہا ہے۔ امریکہ اسرائیل کے لئے یہ ساری تگ و دو نہیں کر رہا بلکہ اسرائیل کو اپنی پراکسی بنا کر فلسطین سے سعودی عرب تک اپنا قبضہ یقینی بنا رہا ہے۔ امریکہ مشرق وسطیٰ کے تیل و گیس کے وسائل اور سمندر اسرائیل کی جھولی میں نہیں ڈالے گا بلکہ اسرائیل کی مدد سے ان پر خود قابض ہو گا۔