Thu, September 17, 2026

چین کی طاقت نے عالمی جنگ موخر کر دی!

چین کی طاقت نے عالمی جنگ موخر کر دی!

”امریکہ سے دشمنی لینا خطرناک ہو سکتا ہے لیکن امریکہ سے دوستی اپنی موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔“ (ہنری کسنجر)
 قانون قدرت ہے اور جب سے دنیا بنی طاقت کے توازن کے لیے ایک نہیں دو قوتیں، بلاک یا اس سے زیادہ ایک وقت میں موجود رہے۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد امریکہ دنیا میں واحد سپر پاور کے طور پر موجود رہا مگر اب قدرت کا قانون حرکت میں آیا جس کا مظاہرہ چین کی ستمبر 2025 کی پریڈ جس میں دنیا کے 26 ممالک کے سربراہان اور نمائندے شریک ہوئے۔ اس میں کیا کیا، کون کون سے اسلحہ اور عسکری ہتھیار دنیا سے متعارف ہوئے ان کی تفصیل ابھی مکمل طور پر نہیں آئی البتہ ان بین البراعظمی اور ہائپر سونک میزائل، سٹیلتھ فائٹر و بمبار اور ڈرون کی دنیا میں دھوم مچ چکی ہے۔ قدرت کا نظام میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ مئی میں بھارت ’مودی‘ کو نہ جانے کیا سوجھی کہ اس نے اپنے ملک کے اندر ضمنی انتخابات میں کامیابی کے لیے پاکستان کارڈ کے استعمال کے لیے پہلگام واقعہ کر ڈالا اور الزام پاکستان پر لگا کر پاکستان کے اندر ڈرون اور میزائل حملے کر دیئے۔ ابتدائی طور پر 26 لوگ شہید ہوئے مگر یہ تعداد 50 سے تجاوز کر گئی یہ بے گناہ اور گھروں میں بیٹھے خواتین، بچے اور مرد تھے مگر وہ یہ بھول گیا کہ پاکستان کا سپہ سالار اور سیاسی قیادت اب باجوہ اور عمران کے ہاتھ میں نہیں۔ اب ایک عاشق قرآن، شوق شہادت رکھنے والے فیلڈ مارشل سپہ سالار ہیں اور سیاسی قیادت بھی حقیقی و تجربہ کار ہے اور دنیا کے ممالک میں اس کی پذیرائی بھی ہے، جن میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ نمایاں ہیں۔ 9 اور 10 مئی کی رات کو فیلڈ مارشل کی قیادت میں بھارت کو جواب دیا، ساڑھے چار گھنٹے میں بھارت گھٹنوں کو آ گیا، ٹرمپ نے جنگ بندی نہیں بھارت کی مزید بربادی رکوا دی۔ پوری دنیا میں چند گھنٹے میں خطے کی طاقت کا نیا تعارف ابھرا، چائنہ کا اسلحہ متعارف ہوا اور فرانس کے رافیل بھی گراو¿نڈ ہوئے۔ دنیا نے پاکستان کی فضائی قوت، مہارت، جرا¿ت کے ساتھ ساتھ چینی اسلحہ کی ٹیکنالوجی دیکھی، فرانس کے برگر، بوتلیں اور مصنوعات کا بائیکاٹ نہیں رافیل سے منہ موڑ لیے۔ اس نئے تعارف کے بعد جب یہ پریڈ ہوئی تو چائنہ کی سوئی بھی دنیا کو میزائل لگنے لگی۔ افواج پاکستان فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں 9/10 مئی کی آدھی رات سے صبح تک چینی اسلحہ کیلئے ایک ماڈل کے طور پر ابھری اور چائنہ کا اسلحہ زیر بحث آ گیا۔ اس پر چینی صدر کے بیانات کہ دنیا امریکہ کے بغیر بھی ترقی کر سکتی ہے، پریڈ پر ہم بدمعاشوں سے نہیں ڈرتے۔ پھر 26 ممالک میں پاکستان، روس، شمالی کوریا کے صدر، جاپان وغیرہ اور اس پر پاکستان نئے امیج کے ساتھ۔ یہ یاد رہے کہ حالیہ پاک بھارت جنگ میں بھارت تاریخ میں پہلی بار بین الاقوامی سطح پر تنہا ہو گیا۔ اس کا کریڈٹ ظاہر ہے حکمت عملی کو جاتا ہے مگر سچ میں بہت طاقت ہوتی ہے اور شخصیت و کردار کی بڑی اہمیت۔ عسکری قیادت کی کمان اور بلاول بھٹو کے کردار کو نہیں بھولا جا سکتا اور نہ ہی صدر زرداری کی حکمت عملی۔ اب چین جو ٹریڈ اور مصنوعات میں عام آدمی کے لیے اشیا پیدا کرتا ہے، امریکہ کو عسکری حوالے سے سبقت حاصل رہی جو کہ پہلے ہی سائنس و ٹیکنالوجی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا، میڈیکل سائنس بلکہ ہر شعبہ میں اس کے پاس ایک سے بڑھ کر ایک ایجاد ہے۔ اس کے باوجود چائنا کے ہاں پریڈ کی صورت میں ہونے والے بین الاقوامی اکٹھ کو ٹرمپ نے امریکہ کے خلاف صف بندی قرار دیا۔ اس کے کچھ دن بعد فرانس کے صدر نے بھی 26 کا لفظ ہی بولا کہ 26 ممالک یوکرین کی جنگ میں جنگ رکوانے میں مدد کو جائیں گے۔ امریکی تاریخ تقریباً 2 ہزار سال پر محیط جبکہ جنگ عظیم دوم کے بعد سپر پاور کے طور پر ابھرا۔ اس کے مقابلہ میں روس نے 50/60 سال میں زبردست ترقی کی مگر اس کا نظام جوہڑ بن چکا تھا لہٰذا سوویت یونین ٹوٹ گیا۔ اس کے بعد امریکہ نے دنیا میں جو ہلاکو خانی کی اب وہ تاریخ ہے۔ کیا چین نعم البدل ہے؟ جی ہاں! کیونکہ دنیا کو ٹریڈ اور زندہ رہنے کے لیے سامان بھی چاہیے، سستا سامان۔ مرنے مارنے کے لیے تو اس دنیا کو دس دفعہ تباہ کرنے کے لیے سامان بن چکا۔ کیا چائنہ کی طاقت اور صف بندی عالمی جنگ کو روک دے گی۔ روکے نہ بھی، کیونکہ اسرائیل خودکشی پر اُترا ہوا ہے اور امریکہ ڈھٹائی کے ساتھ اس کا ساتھی ہے، قدرت زیادہ دیر معصوم انسانوں اور اللہ اکبر کہنے والوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ چین مو¿خر تو کر لے گا لیکن کب تک؟۔
اللہ سلامت رکھے، امیر حمزہ آصف ڈائریکٹر ظلمی ٹی وی نے کہا کہ ہم نے کبھی غور کیا ہے کہ جنہوں نے ہمارے ریڑھی بان، چھابڑی والے کے ہاتھ میں موبائل فون دے دیا جس میں پوری دنیا کی تاریخ اور حال کی انفارمیشن ہے۔ دنیا کی چھوٹی سے چھوٹی سڑک اور چوک ایک ایک گھر جس کے گوگل میپ میں ہے، ہر آدمی کا ڈیٹا اور جینز سے 8 ہزار سال پرانا سلسلہ نسل پتہ کر لیتے ہیں، مرنے کی وجہ بتا دیتے ہیں اور یہ باتیں بہت پرانی ہیں جو پہاڑ کے دوسری جانب کی آہٹ سن لیتے ہیں جو گھروں کی گفتگو لیک کر لیتے ہیں۔ انہوں نے اپنے پاس کیا رکھا ہو گا اس کا اندازہ نہیں ہے۔ لہٰذا طاقت ہی عالمی جنگ کو روک سکتی ہے اور اگر اب کے چھڑ گئی تو پھر حرف الا اللہ ہو گا جو دنیا کی شروعات سے پہلے تھا۔
آخر میں فیلڈ مارشل کا امریکہ میں بیان کہ اگر ہمارے ساتھ پنگا کیا تو آدھی دنیا تباہ کر دیں گے۔ (ترجمہ)

ٹیگز: