Wed, September 16, 2026

ہنگامہ ہے کیوں برپا ؟ 

ہنگامہ ہے کیوں برپا ؟ 


پاکستان میں جب بھی کوئی ہائی پروفائل جرم منظرِ عام پر آتا ہے تو پورا معاشرہ اچانک اخلاقیات کا علمبردار بن جاتا ہے۔ ٹی وی اسکرینوں پر شور، سوشل میڈیا پر عدالتیں، اور ریاستی اداروں کی جانب سے فوری بیانات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ حالیہ دنوں “انمول پنکی” کا معاملہ بھی اسی نوعیت کی ایک کہانی بن کر سامنے آیا۔ ایک خاتون، جس پر منشیات فروشی، اسلحہ رکھنے اور پوش علاقوں میں کوکین سپلائی کرنے کے الزامات لگے، اچانک پورے ملک میں بحث کا موضوع بن گئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ صرف ایک فرد کا جرم ہے یا اس پورے نظام کی ناکامی کا نتیجہ ہے جس نے ایسے کردار پیدا کیے؟۔
ہم ایک ایسے معاشرے میں زندہ ہیں جہاں جرم کو صرف پولیس اور عدالت کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، مگر اس جرم کے پیچھے موجود معاشی، سماجی اور حکومتی عوامل پر گفتگو نہیں ہوتی۔ اگر ایک نوجوان کو تعلیم، روزگار، انصاف اور بنیادی انسانی وقار نہ ملے تو پھر معاشرہ خود جرائم کی نرسری بن جاتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے چودہ سو سال پہلے حضرت عمرؓ نے سمجھا تھا۔ آپؓ نے فرمایا تھا کہ ”اگر کوئی چوری کرے تو پہلے میں یہ دیکھوں گا کہ کہیں ریاست نے اس کو بھوکا تو نہیں رکھا، پہلے میں اس کے روزگار کا بندوبست کروں گا پھر سزا کی بات ہو گی“۔ یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ ریاستی فلسفہ ہے۔ یعنی حکومت کا پہلا فرض سزا دینا نہیں بلکہ ایسا نظام قائم کرنا ہے جہاں جرم پیدا ہی نہ ہو۔
آج پاکستان میں صورتِ حال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ یہاں ریاست اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹتی جا رہی ہے۔ سرکاری سکولوں کی حالت زار، نوجوانوں میں بے روزگاری، مہنگائی کا طوفان، اور انصاف کے دوہرے معیار نے معاشرے میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ ایسے ماحول میں اگر جرائم بڑھتے ہیں تو یہ صرف افراد کی اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ حکومتی ناکامی بھی ہے۔
حضرت عمرؓ کا ایک اور واقعہ ہمارے حکمرانوں اور بیوروکریسی کے لیے آئینہ ہے۔ آپؓ نے ایک گورنر کو ہدایت دی تھی کہ ”جب تم کسی پر ٹیکس لگاو¿ تو اس کے چہرے اور پیشانی کو دیکھ لینا، کہیں وہ پریشان حال اور مجبور تو نہیں“۔ یعنی ریاست کا مقصد عوام کو نچوڑنا نہیں بلکہ ان کے حالات کو سمجھنا ہے۔ مگر آج ہمارے ہاں ٹیکس، چالان اور جرمانے عوامی خدمت کے بجائے حکومتی آمدن کا ذریعہ بن چکے ہیں۔
پاکستان میں ٹریفک پولیس کا منظر دیکھ لیجیے۔ ہر چوک، ہر سڑک اور ہر سگنل پر اہلکار اس انداز میں کھڑے ہوتے ہیں جیسے کوئی بین الاقوامی سمگلر پکڑنے آئے ہوں۔ شہری خوف، پریشانی اور تحقیر کے ماحول میں گاڑی چلاتا ہے۔ ٹریفک قوانین کی اصلاح اپنی جگہ ضروری ہے، مگر جب اصلاح کو ہی ”ریونیو ماڈل“ بنا دیا جائے تو ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔ حکومتوں کے ذرائع آمدن صنعت، تجارت، برآمدات اور معاشی ترقی ہوتے ہیں، نہ کہ عوام کو جگہ جگہ روک کر جرمانے وصول کرنا۔
اصل المیہ یہ ہے کہ ہم نے جرم کی تعریف بھی طبقاتی بنا دی ہے۔ اگر کوئی غریب موبائل چوری کرے تو پورا معاشرہ اس کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے، مگر جب اربوں روپے کے وائٹ کالر کرائم ہوں، ٹیکس چوری ہو، سرکاری زمینوں پر قبضے ہوں، جعلی ٹھیکے ہوں، یا قومی خزانے کو لوٹا جائے تو وہ ”سیاسی معاملہ“ یا ”انتظامی بے ضابطگی“ قرار پاتا ہے۔ یہی دوہرا معیار معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔
ایف بی آر، پولیس، کسٹمز، لینڈ مافیا، ترقیاتی منصوبے، اور بیوروکریسی کے کئی شعبے برسوں سے بدعنوانی کے الزامات کی زد میں ہیں۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹس مسلسل پاکستان میں کرپشن کے بڑھتے ہوئے رجحانات کی نشاندہی کرتی رہی ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ احتساب ہمیشہ کمزور طبقے کا ہوتا ہے جبکہ طاقتور اشرافیہ اکثر قانون کی گرفت سے محفوظ رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کے اندر یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ اس ملک میں جرم نہیں بلکہ ”کمزور ہونا“ سب سے بڑا جرم ہے۔
سی ایس ایس افسران، سیاسی اشرافیہ، بااثر کاروباری طبقات، حتیٰ کہ مذہبی اور سماجی حلقوں تک میں اگر بدعنوانی، اقربا پروری اور مفاد پرستی موجود ہو تو پھر صرف ایک خاتون یا ایک ملزم کو پورے معاشرے کے زوال کی علامت بنا دینا دیانت داری نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ادارے خود شفاف ہیں؟ کیا پولیس مکمل طور پر غیر جانبدار ہے؟ کیا ٹیکس کا نظام عوام دوست ہے؟ کیا نوجوانوں کو باعزت روزگار میسر ہے؟ کیا تعلیم ہر بچے تک پہنچ رہی ہے؟ اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو پھر جرم صرف گلیوں میں نہیں، ایوانوں میں بھی موجود ہے۔
انمول پنکی نے اگر جرم کیا ہے تو قانون کو ضرور حرکت میں آنا چاہیے، مگر اس کے ساتھ ساتھ ریاست کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ایسے نیٹ ورکس کیوں پیدا ہوتے ہیں؟ منشیات کا کاروبار صرف ایک فرد نہیں چلاتا، اس کے پیچھے طاقت، پیسہ، سرپرستی اور ادارہ جاتی کمزوریاں ہوتی ہیں۔ اگر واقعی اصلاح مطلوب ہے تو صرف گرفتاریوں اور میڈیا ٹرائلز سے کچھ نہیں ہوگا۔ اس کے لیے تعلیم، صحت، روزگار، شفاف احتساب اور قانون کی یکساں حکمرانی ضروری ہے۔
آج پاکستان کو صرف سخت قانون نہیں بلکہ عادلانہ ریاستی فکر کی ضرورت ہے۔ حضرت عمرؓ کا ماڈل یہی تھا کہ ریاست پہلے انسان کو جینے کا حق دے، پھر اس سے قانون کی پابندی مانگے۔ مگر یہاں الٹا نظام رائج ہے؛ عوام سے ٹیکس بھی لیا جاتا ہے، مہنگائی بھی دی جاتی ہے، سہولتیں بھی نہیں ملتیں، اور پھر اخلاقیات کے لیکچر بھی سنائے جاتے ہیں۔
لہٰذا اصل سوال یہی ہے کہ ”ہنگامہ ہے کیوں برپا؟“
اگر پورا نظام ہی ناانصافی، بے حسی اور مفاد پرستی میں دھنسا ہوا ہو تو پھر صرف چند چہروں کو مجرم بنا کر معاشرہ پاک نہیں ہو جاتا۔ جرم صرف سڑکوں پر نہیں، طاقت کے ایوانوں میں بھی جنم لیتا ہے۔ جب تک ریاست عوام کو عزت، انصاف اور مواقع نہیں دے گی، تب تک ہر چند سال بعد کوئی نہ کوئی ”پنکی“ پیدا ہوتی رہے گی اور ہم شور مچا کر خود کو بے گناہ ثابت کرتے رہیں گے۔

ٹیگز: