ہم پڑھنا بھول چکے ہیں بلکہ یوں کہا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا کہ پڑھنے کا طریقہ بھول چکے ہیں۔ جب سے سوشل میڈیا ہماری زندگی میں داخل ہوا ہے اس نے ہمیں طویل تحریریں پڑھنے کا طریقہ بھلا دیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اب ہمیں مختصر تحریریں بھی طویل لگنے لگی ہیں۔ پرانے لوگ ضخیم ناول اور لمبے لمبے مضامین آسانی بلکہ شوق سے پڑھ لیتے تھے۔ کتاب کو بہترین دوست سمجھا جاتا تھا۔ رسائل اور جرائد ہاتھوں ہاتھ بکتے تھے۔ سوتے ہوئے بھی سرہانے کتاب موجود ہوتی۔ کبھی ہفتہ بھر اتوار کے اخبار کا انتظار رہتا تھا کہ میگزین آئے گا تو مزے مزے کے مضامین اور فیچرز پڑھنے کو ملیں گے لیکن پھر سوشل میڈیا کا انقلاب آیا اور اس نے ہر چیز بدل کر رکھ دی۔ سمارٹ فون نے ہر شخص کی سوشل میڈیا تک رسائی آسان بنا دی۔ اب کتاب تو شاذ و نادر ہی کسی کے ہاتھ میں نظر آتی ہے۔ یہاں کتابیں لکھنے والے خود کتابیں نہیں پڑھتے بلکہ زیادہ وقت اپنے ہینڈسیٹ کی سکرین دیکھتے ہوئے گزار دیتے ہیں جہاں ایک کے بعد دوسری پوسٹ اور نئی سے نئی چیز ان کے ذوق کی تسکین کے لیے موجود ہوتی ہے شاید اسی لیے ہم پڑھنے کے وہ طریقہ بھولتے جا رہے ہیں جو ہمیں بڑی محنت سے سکھائے گئے تھے۔ اب لوگ پوری تحریر پڑھنے کی بجائے، اس کا عنوان یا ابتدائی چند سطریں پڑھنے کے بعد ہی تحریر کا نتیجہ ازخود اخذ کر لیتے ہیں۔ یہ رویہ آج کل بہت عام ہو چکا ہے۔
چونکہ آج کل بیشتر کالم نگار، مضمون نویس، شاعر اور قلم قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی مطبوعہ اور غیر مطبوعہ تحریریں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کر دیتے ہیں جن میں فیس بک، واٹس ایپ اور ٹوئٹر جیسے پلیٹ فارم نمایاں ہیں۔ کوئی تحریر حکومت کی مخالفت میں ہوتی ہے تو کوئی حمایت میں۔ کچھ تحریریں بظاہر حکومت کی حمایت میں ہوتی ہیں لیکن اصل میں ان کے اندر بھی کوئی تنقیدی پیغام چھپا ہوتا ہے لیکن دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ لوگ اس پیغام کو سمجھنے کی بجائے ایک دو سطریں پڑھ کر سیاق و سباق پر غور کیے بغیر رائے زنی شروع کر دیتے ہیں۔ چونکہ واٹس ایپ گروپوں میں آج کل لوگ بہت زیادہ متحرک ہوتے ہیں اور رابطہ بھی نسبتا قریبی ہوتا ہے، اس لیے سب سے زیادہ رد عمل بھی یہیں دیکھنے کو ملتا ہے۔
حال ہی میں ایک مضمون چند واٹس ایپ گروپوں میں بھیجا اور اس پر سامنے آنے والے "عوامی" رد عمل نے یہ سطور لکھنے پر مجبور کیا۔ مضمون میں حکمرانوں کی توجہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے ہاتھوں پریشان عوام کی حالت زار کی طرف دلائی گئی تھی لیکن تحریر کا انداز ایسا تھا کہ اصل بات مضمون کے آخر میں کی گئی تھی۔ آغاز قومی قیادت کی تعریف سے کیا گیا جبکہ مضمون کا عنوان بھی "بالکل سچی تعریف" تھا۔ تحریر کے اس اسلوب کو تنقید بہ انداز تحسین کہا جا سکتا ہے لیکن کچھ مہربانوں کے رد عمل سے یہ احساس ہوا کہ انھوں نے اس تحریر کو پورا پڑھا ہی نہیں۔ صرف عنوان یا تحسین کے حصے کو پڑھنے کے بعد تحریر کو ہدف تنقید بنانا شروع کر دیا ہے۔
یہاں یہ بات اہم ہے کہ یہ انتخاب ہر لکھنے والے کا اپنا ہوتا کہ کس بات کو کس طریقے سے بیان کرنا ہے کیونکہ اس کے ہاتھ کئی حوالوں سے بندھے ہوتے ہیں۔ اسے ادارے کی پالیسی کو بھی دیکھنا ہوتا ہے، خود کو بھی محفوظ رکھنا ہوتا ہے، تحریر کی طوالت اور حجم کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے اور دیگر کئی معاملات کو بھی پیش نظر رکھنا ہوتا ہے۔ اس لیے دیکھنا یہ چاہیے کہ اس کی تحریر کا پیغام کیا ہے اور یہ پیغام ہمیشہ پوری تحریر پڑھنے سے ہی پتا چلتا ہے، صرف ابتدائی چند سطور پڑھ کر اس کا پتا نہیں چل سکتا۔
خیر زیر بحث مضمون پر تنقید کرنے والوں میں سے کچھ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ لکھنے والے کا شاید ذہنی توازن بگڑ چکا ہے اور اسے کسی نفسیاتی معالج سے رجوع کرنا چاہیے۔ کچھ نے پٹواری تو کچھ نے لفافہ بھی قرار دیا۔ بعض نے شعور سے عاری بھی قرار دیا جس پر رد عمل دینے والوں سے ان کے جذبات مجروح کرنے پر معافی بھی طلب کی گئی اور ان کی خدمت میں یہ درخواست بھی کی گئی کہ وہ ایک بار مضمون کو مکمل پڑھ لیں اور خاص طور پر اس کی اختتامی سطور ضرور پڑھیں۔ چند ایک نے تو ایسا کرنے میں عار محسوس نہیں کیا لیکن جنھیں زیادہ غصہ تھا انھوں نے اس درخواست پر بالکل بھی کان نہیں دھرا اور یہ کہتے ہوئے اپنی رائے پر قائم رہے کہ آخری سطور میں بھی وہی کچھ ہو گا جو باقی پورے مضمون میں لکھا گیا ہے۔
اگر دیکھا جائے تو یہی ہمارے آج کے دور کا المیہ ہے کہ ہم ہر معاملے میں شارٹ کٹ چاہتے ہیں اور یہی رویہ سب خرابیوں کی جڑ ہے۔ یہ رویہ ہمیں سوشل میڈیا نے سکھایا ہے جہاں لوگ یک سطری پوسٹیں پڑھنے کے عادی ہو گئے ہیں۔ اب لوگوں کو ایک ہزار لفظوں کی تحریر بھی طویل لگتی ہے بلکہ سو لفظی کہانیاں پڑھنا بھی کئی لوگوں کے لیے کار دشوار بن چکا ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ ایک ہی جملے میں ساری بات کہہ دی جائے۔ اس پر مستزاد یہ کہ ایسی بہت سی یک سطری تحریریں لوگوں کو ایک ساتھ پڑھنے کو بھی مل جاتی ہیں۔ آدمی کو صفحہ بھی الٹنا نہیں پڑتا۔ سمارٹ فون کی سکرین کو اوپر نیچے سکرول کرنے سے ایک ہی وقت میں بہت سے موضوعات پر مختصر سے چٹکلوں کا ایک نامختتم سلسلہ دستیاب ہو جاتا ہے سو اسی قسم کا مطالعہ بھی ہماری عادت بن چکی ہے۔ صبر اور انتظار کا مادہ اب ہم میں نہیں رہا۔
پہلے ہمیں سکھایا جاتا تھا کہ کسی تحریر کا اصل پیغام اس کی آخری سطور میں ہوتا ہے اس لیے لوگ ہر تحریر کو پہلی سے آخری سطر تک مکمل پڑھا کرتے تھے۔ تحریر کی آخری سطر کو عام طور پر نتیجہ یا اخلاقی سبق کہا جاتا تھا اور بالعموم اسی سطر میں سارا پیغام چھپا ہوتا تھا۔ کچھ پرانی کہانیوں کی آخری سطور تو آج بھی مثال کے طور پر پیش کی جا سکتی ہیں جیسے "پھر سب مل کر ہنسی خوشی رہنے لگے" یا "لومڑی نے کہا انگور کھٹے ہیں اور آگے چل دی" یا "لالچ بری بلا ہے"۔ اس قسم کے تمام اخلاقی سبق ہمیں بچپن میں پڑھائی گئی کہانیوں کی آخری سطور نے ہی سکھائے ہیں لیکن ستم یہ ہے کہ اب ہمیں وہ سبق بھی یاد نہیں رہے اور وہ سبق پڑھانے والے بھی نہیں رہے۔ اب آخری سطر تک کا سفر ہمیں شاید خلا کا سفر لگنے لگا ہے۔ اس سے بھی بڑا ستم یہ ہے کہ زیر نظر تحریر کا پیغام بھی اس کی آخری سطر میں موجود ہے، دیکھتے ہیں کون اس تک پہنچتا ہے۔ اور وہ پیغام ہے ہمیں پڑھنا سیکھنا چاہیے۔