Wed, September 16, 2026

ہمیں کیا ملے گا؟

ہمیں کیا ملے گا؟

گزشتہ صدی پٹرول کی صدی تھی، پہلی اور دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں کے ملبے سے تعمیر نو کا کام دنیا کے مختلف حصوں میں شروع ہوا۔ یہ جنگیں بھی پٹرول کے ذخائر سے مالامال علاقوں کی تقسیم اور ان پر قبضے کیلئے شروع ہوئی تھیں جن کے پاس طاقت اور اس زمانے کے لحاظ سے ٹیکنالوجی تھی۔ وہ علاقوں پر اور ان کے وسائل پر قبضہ کرنے میں کامیاب رہے جو اپنا دفاع نہ کر سکے وہ محکوم ہوئے اور آج تک محکوم ہیں، آزادی ایک مرتبہ کھو جائے تو پھر صدیاں لگتی ہیں۔ اسے حاصل کرنے میں، پٹرول کی صدی رفتہ رفتہ دم توڑ رہی ہے۔ اس کے ذخائر میں بھی اب وہ دم نہیں رہا، ترقی یافتہ ممالک نے بہت پہلے اس مسئلے پر کام شروع کر دیا اور توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کرنا شروع کر دیئے تاکہ انڈسٹرلائزیشن کے بعد ان کی تیار کردہ مصنوعات قیمت کے اعتبار سے عالمی مارکیٹ کا مقابلہ کر سکیں۔ اگلی صدی معدنیات کی صدی ہے، اب آنے والے ماہ وسال میں تمام جھگڑے تمام جنگیں معدنی وسائل پر قبضے کیلئے ہوں گی۔ ان میں مفاد ان کا ہوگا جو ٹیکنالوجی میں ترقی کر چکے ہیں اور وقت سے زیادہ تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اہم معدنیات یورنیم، لیتھیم اور ٹائٹینم ہیں۔ 
ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے والے کمزور ملکوں میں پانی کا مسئلہ ہی سب سے اہم رہے گا۔ وہ اس سے ہی باہر نہیں نکل سکیں گے، وہاں کبھی بھوک ہوگی تو کبھی پیاس، کبھی قحط پڑتے نظر آئیں گے تو کبھی بیماریاں انہیں گھیر لیں گی۔ یہ دونوں کام نہ بھی ہوئے تو کرپشن کا ناسور انہیں کھوکھلا کر دے گا۔ ایٹم بم اور دیگر نیوکلیئر ہتھیار حفاظت تو کر سکتے ہیں، خوشحالی کیلئے کچھ اور تردد کرنا پڑتے ہیں۔ دفاعی جنگوں کا زمانہ بھی بیت گیا۔ اب جو بھی کسی دوسرے ملک پر حملہ کرتا ہے وہ اس کی دفاعی صلاحیت سے زیادہ طاقت کے ساتھ حملہ آور ہوتا ہے اور صرف دفاع کرنے والے کو پیچھے دھکیلتا چلا جاتا ہے پھر مفتوح علاقے واپس کرنے کی روایت بھی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو یہ سوچ کر کہا تھا کہ امریکہ اسے بچانے کیلئے آئے گا اور پورے یورپ کو یوکرین کی مدد کیلئے ساتھ لائے گا لیکن اس تمام انتظام کے باوجود آج روس یوکرین کے بیس فیصد حصے پر قبضہ کر چکا ہے۔ یوکرین کا سب سے بڑا حمایتی اور مددگار یہ قبضہ چھڑانے میں سنجیدہ نہیں، نہ ہی اس نے اس حوالے سے اب تک کوئی بات کی ہے بلکہ یہ زبان خاموشی اپنی رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ روس نے جس طاقت سے حملہ کیا اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یو این کی فوجیں آئیں اور بس حاضری لگا کر چلی گئیں۔ کسی ملک نے پرائی جنگ میں اپنے آپ کو خوار کرنا مناسب نہ سمجھا۔ 
آج یورپ یوکرین کے ساتھ کھڑا ہے لیکن کب تک؟ جس روز روس کی طرف سے یورپ کو جاتی گیس پائپ لائن بند کرنے کا الٹی میٹم دیا گیا اسی روز سب لیٹ جائیں گے۔ برطانیہ اور یوکرین کے مابین سو سالہ معاہدے کے بعد برطانیہ نے اہم معاملات اور چیزیں طے کر لی ہیں لیکن امریکہ اب بھی پرامید ہے کہ وہ یوکرین پر دباﺅ بڑھا کر اس کے دشمن روس کے ساتھ مل کر یوکرینی اثاثوں کو مفت میں ہڑپ کر لے گا۔ امریکی پالیسی بالکل واضح ہے وہ پہلے اپنے ہدف کو الجھاتا ہے پھر اس کی مدد کرتا ہے اور اچانک کوئی ایسی فرمائش کر ڈالتا ہے جسے پورا کرنا اس ملک کیلئے ممکن نہیں ہوتا لیکن امریکی شکنجہ اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ آرام طلب اور لذت کوش قومیں اس سے نکل نہیں سکتیں۔ دنیا میں شاید پہلی اور آخری مثال افغانستان اور افغانیوں کی ہے جنہوں نے امریکہ کو مار مار کر ادھ موا کر دیا۔ اس سے قبل انہوں نے روس کے بخیے ادھیڑ دیئے۔ روس یوں ٹوٹ کر بکھرا جیسے شیشے کا گلاس گر کر چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ صرف یہ کہنا درست نہیں کہ افغانستان کا لینڈ سکیپ بہت مشکل ہے۔ روس نے بھارت کی مدد سے پہلے افغانستان میں سڑکوں کا جال بچھایا، وہاں اہم جنگی ضرورت کی تمام اشیاءبارڈر کے قریب پہنچائیں۔ انہوں نے افغانستان کے چپے چپے کے نقشے تیار کئے پھر اس پر حملہ کیا، لیکن فتح کا سہرا افغانوں کی قربانیوں کا مرہون منت ہے وہ بے جگری سے لڑے۔ انہوں نے موت کو محبوبہ سمجھا ان کی دو نسلوں نے اپنی زندگیاں قربان کیں۔ میں نے افغانوں کو سخت سردی میں کاٹن کی شلوار قمیص، ایک چادر اور ایک ٹوٹی ہوئی چپل میں جنگ لڑتے دیکھا۔ روس کے خلاف تو ان کے پاس امریکی اسلحہ تھا لیکن وہ امریکہ کیخلاف لڑنے نکلے تو اس وقت امریکی وسائل ان کے ساتھ نہیں، ان کے خلاف استعمال ہو رہے تھے۔ میں نے افغانوں کو سوکھی روٹی پانی میں ڈبو کر کھاتے اور امریکی اور روسی فوجیوں کو گرم کھانے کا انتظار کرتے دیکھا۔ دونوں کے مورال میں زمین آسمان کا فرق تھا جسے تحریر کرنے کیلئے لغت میں لفظ کم ہیں۔ یہ جذبہ یوکرین، امریکہ، یورپ بھر میں کسی فوج کے پاس نہیں۔ وقت کے ساتھ حربی اصول بدل رہے ہیں، اب جنگ شروع کرنے سے قبل تخمینہ لگایا جانا ضروری ہے کہ جنگ کی قیمت کیا ادا کرنا پڑے گی اور جس مال پر قبضہ کیلئے جنگ کرنی ہے اس کی مالیت کیا ہے۔ پس کہا جا سکتا ہے کہ یوکرین کو گھیر گھار کر سب مل کر اسے لوٹ لیں گے لیکن یوکرین کو قربانی کا بکرا بنا کر ہدف کچھ اور ہے تو پھر جنگ جاری رکھی جا سکتی ہے۔ دوسرا مقصد امریکہ اور یورپی ممالک کے اسلحے کی انڈسٹری میں جان ڈالنا ہے، ان کے گودام بھرے پڑے ہیں وہ خالی ہوں گے، کہیں استعمال ہوں گے تو ان کی اسلحہ ساز فیکٹریاں نیا اسلحہ بنائیں گی جو جدید ہوگا۔ ان کی ڈرائنگز تیار کرنے کے بعد تجرباتی مینوفیکچرنگ اور ٹیسٹ مکمل ہو چکے ہیں۔ اب صرف کمرشل بنیادوں پر ان کی تیاری کرنی ہے۔ دنیا میں کہیں نہ کہیں بے بیکار کی جنگیں جاری رکھنا امریکہ اور یورپ کی مجبوری رہی ہے۔ اب وہ اپنی معیشت کی تباہی کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنا طرز عمل بدلیں تو اور بات ہے لیکن چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہ جائے۔ امریکہ کو وسائل پر قبضہ کی چاٹ بہت پرانی ہے، آسانی سے نہ جائے گی۔ 
برصغیر کی تقسیم کے بعد لندن ترقی یافتہ تھا۔ علم و ادب کا مرکز تو تھا ہی، پھر کاروباری مرکز بن گیا پھر ایک وقت آیا جب دنیا کا ہر جرائم پیشہ لندن آن بسا۔ بلیک منی، ڈرگ منی نے جس ملک کو بڑا سہارا دیا ان میں اول اول برطانیہ اور اس کا شہر لندن ہے۔ اب لندن عالمی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز ہے لیکن صرف یورپ کی حد تک، قطر اور دوبئی مختلف حوالوں سے اپنی پہچان بنا چکے ہیں۔ اہم سوال یہ ہے کہ اگر یوکرین جنگ نہیں ہوتی تو اس صورت پاکستان کو کیا ملے گا۔ معاملہ بہت سیدھا سا ہے، کہیں شادی ہو تو دولہا اور دلہن نئی زندگی کا آغاز کرتے ہیں، ہنستے سنورتے ہیں، انہیں سلامیاں ملتی ہیں، تخائف ملتے ہیں، باراتیوں کو پرتکلف کھانے کھلائے جاتے ہیں، دولہا دلہن کے قریبی عزیز رخصتی کے وقت یا بارات کی آمد پر کرنسی نوٹ جیب سے نکالتے ہیں اور نچھاور کرتے، کچھ لوگ بس یہی چھوٹی سی رقم لوٹ سکتے ہیں۔ ان کے مقدر میں اور کچھ نہیں ہوتا کیونکہ وہ آرام طلب اور لذت کوش ہوتے ہیں، انہیں اپنے مستقبل کی کوئی فکر نہیں ہوتی، نہ ہی ان کے لیڈروں کو۔

ٹیگز: