Thu, September 17, 2026

یہ کارکردگی ہے ؟

یہ کارکردگی ہے ؟

معاشی گرداب سے نکلنے کی جدوجہد میں مصروف پاکستان کے لیے اب بھی اچھی خبروں کافقدان ہے اور عالمی ساکھ میں بہتری کے باوجودمعاشی صورتحال مزید خراب ہوتی جارہی ہے اور ملک کاانحصار قرضوں پر ہے اِس کا مطلب ہے کہ حکومت کے معاشی ارسطو ناکام ہوچکے ہیں اگر جلد پیداواری شعبے کو بہتر نہ بنایا گیا تو معاشی بہتری کاخواب ادھوراہی رہے گاعسکری اور سفارتی کامیابیوں سے بھی معاشی بھلا نہیں ہوگا بیرونی دورے بھی وقت اور سرمائے کا ضیاع ہی ثابت ہوں گے ۔ 
پاکستان کا سرپلس بجٹ سے خسارے میں جاناخطرے کی گھنٹی ہے جسے حکمران اشرافیہ کو سنجیدہ لینا چاہیے رواں مالی سال کے نوماہ جولائی تامارچ بجٹ خسارہ 856ارب چھتیس کروڑ ہو گیا ہے یہ خسارہ مالی سال کے اختتام تک ہزار ارب کا ہندسہ کراس کر سکتا ہے اِن اعدادو شمار سے ظاہرہوتا ہے کہ مالی خرابیاں بددستور موجود ہیں ۔
 برآمدات کی طرح درآمدات کے حوالے سے بھی کوئی نتیجہ خیز پالیسی نہیں بنائی جا سکی جس سے آمدن کے ذرائع مزید کم ہو رہے ہیں اور ملک قرضوں کی دلدل میں دھنس رہا ہے ظاہر ہے اِس خرابی کی ذمہ دار اپوزیشن تو نہیں بلکہ حکومت ہی ہے جو فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی اور غفلت کی مرتکب ہے ۔
یہ تو ملک کا ایک عام شہری بھی جانتا ہے کہ جب تک غیر ضروری اخراجات پر قابو نہیں پایا جاتا اور آمدن کے ذرائع مستقل بنیادوں پر بڑھائے نہیں جاتے ملک کی معاشی حالت بہتر ہونامشکل ہے یہ عام فہم بات حکومت کے معاشی ارسطو بھی جانتے ہوں گے لیکن دستیاب اعدادوشمار سے جو صورتحال معلوم ہوتی ہے اُس کے مطابق اخراجات میں کمی اور کفایت شعاری کے تمام تر دعوﺅں کے باوجود رواں برس کے گزرے نو ماہ کے دوران وفاقی حکومت کے اخراجات گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 12.5فیصد اضافے سے 629ارب ہوچکے ہیں اگر بقیہ تین ماہ کو شامل کر لیں تو یہی اخراجات سات سو ارب تک جا سکتے ہیں لہذاصاف عیاںہے کہ کفایت شعاری اور بچت کے حکومتی دعوﺅں میں کوئی صداقت نہیں بلکہ اِن کے قول و فعل میں تضاد ہے۔
حکومت کافرض ہے کہ قرضوں میں کمی کے لیے ذرائع آمدن بڑھائے مگراِس حولے سے حکومتی ناکامی واضح ہے بیرونی اور اندرونی قرض اٹھانوے ہزارارب سے تجاوز کر چکا ہے اور بروقت اقساط اور سودکی ادائیگی کی سکت ملک کھورہا ہے ستم ظریفی تویہ کہ عالمی اداروں اور مقامی قرض لینے کوخوبی بنا کر پیش کیا جارہا ہے اسی خوبی نے ایک برس کے دوران پاکستان پر قرضے اور واجبات میں سات ہزار پانچ سو تینتیس ارب اضافہ کر دیا ہے حکمرانوں سے اپیل کی جا سکتی ہے کہ اِس خوبی کواب ختم کردیں وگرنہ بقیہ مدتِ اقتدار میں قرضہ مزید ہزاروں ارب بڑھنے کااحتمال ہے لہذا ملک پر رحم کھائیں اور صرف وعدے ہی نہ کریں بلکہ عملی طورپرغیر ضرور ی اور غیر پیداواری اخراجات میں بڑی کٹوتی کریں اور تیل کی قیمتیں بڑھا کر عوام کا خون نچوڑنے کا سلسلہ موقوف کر دیں ۔
اب تو حکومتی کامیابیاں تلاش کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف لگتا ہے رواں مالی سال کے لیے بجٹ اہداف کے مطابق حکومت 4.2فیصد جی ڈی پی گروتھ بھی حاصل نہیں کر سکی اب 3.70 فیصد کی منظوری نیشنل اکاﺅنٹس کمیٹی سے حاصل کی گئی ہے ملک خوراک میں خودکفالت کھوچکا ہے کپاس کی پیداوار مسلسل گرتی جارہی ہے آبی قلت سے فصلوں کی بوئی متاثر ہونے کاخدشہ ہے اِن حالات میں بہتری کے خواب دیکھنا دانشمندی نہیں ملکی صنعتیں بڑی تعدادمیں بند ہونے سے برآمدات کم ہوکر محض 30.6ارب ڈالر رہ گئی ہیں لیکن درآمدات 8.3فیصد اضافے کے ساتھ 56.3ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں جبکہ بیرونی سرمایہ کاری میں کمی بھی واضح ہے اِن حالات میں ترسیلاتِ زرکا 33ارب ڈالر سے تجاوز کرنا کسی نعمت سے کم نہیں لیکن ظاہر ہے اِس میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں بلکہ یہ تارکینِ وطن کا اپنے اہلِ خانہ کی کفالت کے لیے بھیجی رقوم ہیں حکومت تو دن رات کوشاں ہے کہ کسی طرح بیرونِ ملک جانے کی حوصلہ شکنی کی جائے یہاں تک کہ لوگوں کے پاس درست ویزے ہوتے ہیں لیکن فضائی سفر سے روک لیا جاتا ہے اِس طرح کے متاثرین کی تعداد ہزاروں میں ہے اسی بناپر لوگ جانیں خطرے میں ڈال کر غیر قانونی طریقے سے بیرونِ ملک جانے کوترجیح دیتے ہیں حکومت کا کرنے والا کام تو یہ ہے کہ ملک کی بہتر عالمی ساکھ اور اچھی سفارتکاری کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے افرادی قوت کو باعزت طریقہ سے بیرونِ ملک بجھوانے کی کوشش کرے تاکہ ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافہ ہو اور زرِ مبادلہ کے ذخائر پر دباﺅکچھ توکم ہو۔
اِس وقت اقتدار میں ملک کے بڑے صنعتی خاندان شامل ہیں لہذا ضرورت اِس امر کی ہے کہ توانائی کی ہوشربا قیمتوں اورمہنگے خام مال جیسے مسائل حل اور جدیدٹیکنالوجی تک رسائی کو ممکن بنایاجائے تاکہ برآمدی صنعتیں علاقائی حریفوں کا زیادہ بہتر طریقہ سے مقابلہ کر سکیں غیر ملکی امداد اور قرضے پائیدار حل نہیں یہ وقتی حل ہیں اِس طرح معاشی استحکام نہیں آتاطویل مدتی اور ناگزیر فیصلے ہی اصل اورمستقل حل ہیں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہُرمز کی بندش نے چنددن میں ہی معاشی حالت کی قلعی کھول دی ہے جس کا سبق یہ ہے کہ ایسی منصوبہ بندی کی جائے جس سے عالمی منظرنامے میں ہونے والی تبدیلیوں کے باوجودمعیشت عدمِ استحکام کا شکارنہ ہو۔
آئی پی پیز پرحکومتی مہربانیاں سمجھ سے بالاتر ہیں نیپرا نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے اجلاس میں انکشاف کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے آئی پی پیز کوکی جانے والی سالانہ ادائیگیاں 3400 ارب ہوچکی ہیں مزید ظلم یہ کہ اٹھارہ سو سے دوہزار ارب تک سالانہ کیپسٹی ادائیگی کردی جاتی ہے یعنی یہ بجلی گھر بجلی کی ایک یونٹ بنائے بغیر رقوم لے جاتے ہیں آئی پی پیز کو سات سو سے آٹھ سو ارب انرجی ادائیگی بھی کی جاتی ہے اور ساٹھ فیصد کیپسٹی ادائیگیوں کے ساتھ بارہ سو ارب کی سبسڈی بھی دی جاتی ہے یہ تفصیلات جان کربخوبی آشکار ہو جاتا ہے کہ ملک قرضوں کی دلدل میں کیوں دھنس رہا اور مسلسل غربت کاشکارکیوں ہے؟ سوال یہ ہے کہ جب آج بھی ملک توانائی کی قلت کا شکار ہے تو آئی پی پیز کو اربوں روپیہ کیوں مفت دیا جارہا ہے ؟کہیں ایسا تو نہیں کہ صاحبانِ اقتدار خود بھی وصولیوں سے فیض یاب ہونے والوں میں شامل ہیں؟۔

ٹیگز: