اسلام آباد: یومِ تشکر کے موقع پر سینیٹ میں ہونے والے اجلاس میں ارکان نے افواجِ پاکستان کی جرات، بہادری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا۔ اجلاس میں قومی یکجہتی، سیاسی اتحاد اور اقلیتوں کے احترام کا بھی خوب اظہار ہوا۔
بیرسٹر علی ظفر نے خطاب میں کہا کہ ہمیں اپنی بہادر افواج اور ان ممالک پر فخر ہے جو مشکل وقت میں ہمارے ساتھ کھڑے رہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی کو اپنے مہنگے ہتھیاروں اور رافیل طیاروں پر غرور تھا، لیکن پاک فضائیہ نے اس کا غرور ایک ہی رات میں خاک میں ملا دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان بھارت کی طرح شہریوں کو نشانہ نہیں بناتا۔ ہماری قوم متحد ہے اور کوئی طاقت ہمیں توڑ نہیں سکتی۔
سینیٹر دنیش کمار نے مطالبہ کیا کہ شہداء کے لواحقین کے لیے سینیٹ فنڈ قائم کیا جائے، اور خود 50 لاکھ روپے دینے کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں تو حاضر سروس کرنل کی تذلیل کی گئی، لیکن پاکستان میں ہندو برادری کو ہمیشہ عزت دی گئی ہے۔
سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ بھارتی جارحیت کے بعد حکومت اور اپوزیشن کا ایک پیج پر آنا ایک بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو خطے میں ہر طرف سے تنقید کا سامنا ہے، چاہے وہ نیپال ہو، بھوٹان، سری لنکا یا پاکستان۔
علامہ ناصر عباس نے کہا کہ مودی کا خواب تھا کہ وہ پورے خطے کو غیر مستحکم کرے، لیکن ہماری افواج نے اس خواب کو چکنا چور کر دیا۔ سینیٹر جام سیف اللہ خان نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور عالمی برادری کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔
سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ وزیراعظم نے افواجِ پاکستان کو بروقت اور بھرپور کارروائی کا اختیار دیا، اور دشمن کو مؤثر جواب ملا۔ سینیٹر عون عباس بپی نے بھی پاک فوج، فضائیہ اور بحریہ کو سراہا اور ان دوست ممالک جیسے چین، ترکیہ، اور آذربائیجان کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
سینیٹر حاجی ہدایت اللہ نے کہا کہ جب بھی پاکستان پر بیرونی حملے کی بات ہو، پوری قوم متحد ہو جاتی ہے۔ ہمیں ہمیشہ تیار رہنا چاہیے کیونکہ دشمن کسی بھی وقت حملہ کر سکتا ہے۔ .آخر میں، سینیٹ کے ارکان نے متفقہ طور پر پیغام دیا کہ پاکستان ایک مضبوط قوم ہے، جو ہر جارحیت کا جواب دینا جانتی ہے، اور افواجِ پاکستان ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔سینیٹ کا اجلاس پیر کو سہ پہر 4 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔