دنیا میں کوئی بھی ملک تن تنہا بڑھ سکتا ہے اور نہ ترقی کر سکتا ہے۔ یہاں تک کہ سپر پاورز کو بھی اپنی معیشت ، ترقی و خوشحالی کیلئے دنیا کہ دیگر ممالک کے ساتھ چاہتے نہ چاہتے تعلقات استوار کرنا پڑتے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں تعلقات کی بنیاد اپنے اپنے مفادات اور ضروریات کے گرد گھومتی ہے۔ اس کے باوجود کچھ تعلقات غیر مشروط اور مفادات سے بالاتر ہوتے ہیں جیسے پاکستان اور سعودی عرب دہائیوں سے بغیر کسی معاہدے کے انتہائی مضبوط اور مستحکم تعلقات کی مثال ہیں۔ پاکستان پر کوئی ناگہانی آفت ہو ، جنگ ہو یا زمانہ امن کی ضروریات سعودی عرب نے ہمیشہ ایک قدم آگے آ کر پاکستان کو معاشی اور سفارتی طور پر مستحکم کرنے میں معاون کردار ادا کیا ہے ۔
2018 تک یہ تعلقات ہمالیہ سے اونچے تھے ۔ جب آر ٹی ایس بٹھا کر اس ملک پر ایک ایسے شخص کو مسلط کیا جس کے ہاں نہ تو کوئی رشتہ اہم تھا ، نہ اس کے ہاں معاشرتی رکھ رکھاؤ تھا اور نہ وہ سفارتی تعلقات اور آداب سے واقف تھا یوں ساری دنیا سمیت سعودی عرب سے بے مثال دوستی میں بھی دراڑ آ گئی ، چین جیسا دوست بھی ناراض ہوگیا ۔ بات سعودی عرب کی ہو رہی تھی عمران خان نے اپنی گھٹیا فطرت کے عین مطابق سعودی شہزادے کے طیارے میں بیٹھ کر ان کی شان میں ناقابلِ بیان گستاخی کی اوریوں پاک سعودی تعلقات میں سرد مہری چھا گئی ۔ جب پی ٹی آئی کی حکومت کو آئین و قانون کے مطابق اقتدار سے ہٹایا گیا تو جہاں ملک دیوالیہ ہونے کے بالکل قریب تھا وہیں سفارتی طور پر باقاعدہ دیوالیہ ہو چکا تھا۔ ایسے میں مرد حر شہباز شریف نے یہ دونوں چیلنج قبول کیے اور شبانہ روز محنت سے ملک کو معاشی طور پر دیوالیہ ہونے سے بچایا اور سفارتی محاذ پر بھی شہباز شریف صاحب نے کمر کس لی۔ ہماری گورنر ہاؤس لاہور میں شہباز شریف صاحب سے ایک ملاقات ہوئی تھی تو میں نے بس اتنا کہنے پر اکتفاء کیا کہ میاں صاحب آپ کی ساری خدمات اپنی جگہ مگر آپ کا یہ احسان پاکستان تاقیامت نہیں فراموش کر سکتا کہ آپ نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا ہے ۔
2024 کے عام انتخابات سے قبل ماڈل ٹاؤن مسلم لیگ ہاؤس میں میاں شہباز شریف صاحب سے میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا کے چند دوستوں کے ہمراہ ملاقات ہوئی تو میری نامکمل بات مکمل ہوئی ۔ میرے دو سوال تھے ایک تو در پیش معاشی چیلنج اور دوسرا سوال انتہائی اہم نوعیت کا تھا کہ خارجہ پالیسی اور ایسے دوست جو اب لا تعلق ہو چکے اور بعض تو دشمنی کی حد تک اتر آئے ہیں تو آپ کی اس حوالے سے پالیسی کیا ہوگی۔ اس پر شہباز شریف صاحب نے فرمایا کہ یقیناً یہ بہت بڑا چیلنج ہے ہمارے دوستوں کی اکثریت ہم سے دور ہوچکی ہے۔ اور دہائیوں کی محبت اور محنت سے قائم ہونے والے تعلقات کو بحال کرنا یقیناً ایک چیلنج ہے اور ہم اس کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے ۔
چنانچہ 2024 میں جب شہباز شریف صاحب دوسری مرتبہ وزیراعظم پاکستان منتخب ہوئے تو ان کیلیئے سب سے بڑا چیلنج روٹھے دوستوں کو منانا تھا۔ عمران خان کی نا اہلی ، کم عقلی اور من گھڑت قسم کی ذاتی انا اور خود پسندی نے جو گرہیں ہاتھوں سے لگائیں وہ شہباز شریف صاحب کو دانتوں سے کھولنی پڑیں۔ ازسرنو سعودی عرب سمیت تمام دوستوں کو منا کر تعلقات کو دہائیوں سے قائم بلندی پر لانا تھا۔ مرد حر میاں محمد شہباز شریف نے دن رات ایک کر کے دوستوں کو نہ صرف منایا بلکہ تعلقات کو اوج کمال پر پہنچا دیا ۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب اور شہباز شریف صاحب نے یہ بیڑا اٹھایا اور دنیا میں پاکستان کو وہ اہمیت دلائی جس کا خواب ہر پاکستانی دیکھتا تھا۔ پھر پاک بھارت جنگ میں پاکستان کو نا قابلِ تسخیر برتری حاصل ہوئی ۔ دس گنا بڑے اور مکار دشمن کو ناکوں چنے چبوا دیے ۔ یہ فتح شہباز شریف کی فتح تھی اور تاقیامت جیسے ایٹمی دھماکوں کا کریڈٹ میاں محمد نواز شریف کو جائے گا ایسے ہی بھارت کو شکست دینے کا تاج شہباز شریف کے سر ہوگا۔ یقینا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور شہباز شریف صاحب کی قیادت اور قائدانہ صلاحیتوں کی بدولت یہ ممکن ہوا۔
یہ صرف بھارت کی شکست نہیں تھی بلکہ مودیوں ، یہودیوں اور یوتھیوں کے منہ پر طمانچہ تھی ۔ تحریک انصاف نے اس جنگ میں کھلم کھلا بھارت کی حمایت کی اور ہر موقع پر یہ باور کرایا کہ وہ پاکستان اور حکومت پاکستان سمیت مسلح افواج کے خلاف ہیں۔ وہ ہر اس پاکستان دشمن کے ساتھ کھڑے ہیں جو اس حکومت کو چلتا کرے اور پی ٹی آئی کو پھر سے اقتدار میں لائے گا اور یہ کھیل آج بھی جاری ہے۔ ملک دشمنی میں ان طالبان کے سیاسی ونگ نے اب بھی سوشل میڈیا پر ملک دشمنی کی ہر حد عبور کر رکھی ہے۔ ان کا سوشل میڈیا بھارت اور اسرائیل سے آپریٹ ہوتا ہے۔ پاک افغان جنگ ہویا ایران اسرائیل جنگ اندرونی و بیرونی دشمن ایک پیج پر ہیں ۔ یوتھییے اس حد تک چلے گئے ہیں کہ اے آئی سے افغانستان کی فتح کی ویڈیوز اپ لوڈ کرکے عوام کو گمراہ اور افراتفری پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔ افغانستان کے دہشت گردوں کا کھلم کھلا ساتھ دے رہے ہیں ۔
دوسری طرف میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر مستعدی سے کام کرتے ہوئے پاکستان کو سفارتی محاذ پر الحمدللہ فاتح کے طور پر منوا چکے ہیں۔ ایران اسرائیل جنگ ہو یا غزہ امن معاہدہ پاکستان اور شہباز شریف مرکز نگاہ ہیں۔ جس شہباز حکومت کو ناکام بنانے کیلیئے عمران خان عالمی اداروں کو خطوط لکھتا تھا آج وہ عالمی مالیاتی ادارے اور عالمی طاقتیں شہباز شریف کو ملنے کیلئے کھڑی ہوتی ہیں ، عالمی طاقتیں اور ان کے سربراہ عالمی میڈیا کے سامنے شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں۔ پاکستان کی جیو پولیٹیکل پوزیشن اور شہباز شریف کی قائدانہ صلاحیتوں نے ملک کو عالمی افق پر ایک نئی پہچان دی ہے۔ ایسی پہچان جس کے ہر پہلو سے شان و شوکت اور عزت جھلکتی ہے۔ اسرائیل، امریکہ اور ایران جنگ نے جہاں اب دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے اور ساری دنیا کی معیشت اس وقت متاثر ہو چکی ہے وہیں خلیجی ممالک اس جنگ کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ ابوظہبی ، دبئی ، بحرین سمیت دیگر ریاستیں آگ کی لپیٹ میں آچکی ہیں ۔ بالخصوص ایران اور سعودی عرب کی کشیدگی سے عالم اسلام کا اتحاد بری طرح متاثر ہو سکتا ہے ۔ ایسے میں ایک بار پھر پاکستان نے وزیر اعظم شہباز شریف کی اعلیٰ قیادت اور سفارتی محاذ پر ناقابل فراموش کردار ادا کیا ہے ۔ شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایرانی اور سعودی قیادت کو معاملے کی حساسیت سے نہ صرف آگاہ کیا بلکہ اس کے بھیانک نتائج بارے بریفننگ دی اور یوں ایرانی قیادت نے سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک سے معذرت کی اور آئندہ حملے نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی اور سعودی عرب کی طرف سے بھی ایران پر حملہ نہ کرنے کا بیان سامنے آنا خوش آئند ہے۔ اس ساری سفارتی کامیابی کا راز شہباز شریف کی حکمت عملی، سفارتی سمجھ بوجھ ، ان کی ذات پر دوست ممالک کے اعتماد اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
امریکہ ، روس ، برطانیہ سمیت ایران اور سعودی حکومت اس وقت شہباز شریف کی طرف دیکھ رہی ہے ۔ اسرائیل ایران جنگ نے پاکستان کو لائم لائٹ میں لا کھڑا کیا ہے۔ ایسے میں حکومت پاکستان کے دانشمندانہ اقدامات نے عالمی سطح پر پاکستان کو ایک اہم ترین ملک بنا دیا یے۔ ایک ایسا ملک جو تیسری عالمی جنگ کے خطرات کو کم کر سکتا ہے ۔ جنگ اعصاب کا کھیل ہوتا یے۔ جنگ کا نام آسان اور نتائج بہت بھیانک نکلتے ہیں ۔ کچھ عاقبت نااندیش اور بالخصوص یوتھییے دانشور ایران کو ہلا شیری دے رہے ہیں کہ وہ جنگ طویل کرے اور اسرائیل سمیت خلیجی ممالک کو بھی نشانہ بنائے ان ملک دشمن دانشوروں کے اس عمل کے پیچھے عزائم ہیں وہ چاہتے ہیں کہ ایک تو امت مسلمہ کا اتحاد پارہ پارہ ہو جائے مسلم ممالک ایک دوسرے کے ساتھ بر سرِ پیکار ہو جائیں اور دوسری طرف ایران کو شکست ہو یہاں موجودہ رجیم کو تبدیل کرکے امریکہ اور اسرائیل اپنی من پسند حکومت قائم کرے اور یوں سیستان ایک الگ ریاست بنے اور ساتھ بلوچستان بھی پاکستان سے الگ ہو جائے اور پاکستان توڑنے کا خواب پورا ہو سکے۔ یاد رکھیئے کہ ایران بے شک ایک با ہمت اور بہادر قوم ہے تاہم وہ امریکہ اور اسرائیل کا مقابلہ نہیں کر سکتا ، حکمت اسی میں ہے کہ مصلحتاً جنگ کو ختم کیا جائے ۔ حکومت پاکستان اس حوالے سے انتہائی فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ وزیر اعظم پاکستان ہنگامی دورے کر رہے ہیں اور دوست ممالک کو اس آگ سے ہر ممکنہ طور پر بچانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ شہباز شریف صاحب سفارتی محاذ پر ناقابلِ فراموش کردار ادا کر رہے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان کا یہ کردار امت مسلمہ رہتی دنیا تک یاد رکھے گی ۔ اور ان کی اعلیٰ ترین قائدانہ صلاحیتوں کی دنیا میں مثالیں دی جائیں گی۔