رمضان المبارک اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ یہ وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں ایمان والوں کے دل عبادت، خشوع اور اللہ تعالی کی رضا کے جذبے سے معمور ہو جاتے ہیں۔ روزہ، نماز، تلاوتِ قرآن اور ذکر و اذکار کے ذریعے مسلمان اپنے رب کے قریب ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس پورے مہینے میں اللہ تعالی کی رحمتیں بندوں پر سایہ فگن رہتی ہیں اور مغفرت کے دروازے کھلے ہوتے ہیں۔ انہی بابرکت ساعتوں میں ایک ایسی عظیم رات بھی پوشیدہ ہے جسے قرآن و حدیث میں بے حد فضیلت اور عظمت عطا کی گئی ہے۔ یہ مبارک رات شبِ قدر ہے، جو ایمان والوں کے لئے مغفرت، رحمت اور نجات کا پیغام لے کر آتی ہے۔رمضان المبارک دراصل انسان کی روحانی تربیت کا مہینہ ہے۔ اس میں بندہ صبر، تقوی اور اطاعت کا درس حاصل کرتا ہے۔ دن کے وقت روزہ رکھ کر خواہشاتِ نفس پر قابو پاتا ہے اور راتوں کو قیام، تلاوت اور دعا کے ذریعے اپنے رب سے تعلق کو مضبوط بناتا ہے۔ جیسے جیسے یہ بابرکت مہینہ اختتام کی طرف بڑھتا ہے، ویسے ویسے عبادت کا ذوق مزید بڑھ جاتا ہے۔ خصوصا آخری عشرہ میں مسلمان زیادہ انہماک کے ساتھ عبادات میں مشغول ہو جاتے ہیں کیونکہ انہی راتوں میں شبِ قدر جیسی عظیم نعمت پوشیدہ ہے۔شبِ قدر وہ مقدس رات ہے جس میں اللہ تعالی کی رحمت اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ اس رات میں نیکیوں کا اجر بے حد بڑھا دیا جاتا ہے، گناہوں کو معاف کیا جاتا ہے اور بندوں کے درجات بلند کئے جاتے ہیں۔ قرآنِ مجید میں اس رات کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ’’بے شک ہم نے اس قرآن کو شبِ قدر میں نازل کیا، اور آپ کیا جانیں کہ شبِ قدر کیا ہے؟ شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس رات میں فرشتے اور روح الامین اپنے رب کے حکم سے ہر خیر کے کام کے لئے نازل ہوتے ہیں، اور یہ رات طلوعِ فجر تک سراسر سلامتی ہوتی ہے۔یہ آیات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ شبِ قدر صرف ایک رات نہیں بلکہ رحمت، برکت اور سلامتی کا ایسا سمندر ہے جس کی کوئی حد نہیں۔اس مبارک رات کی ایک بڑی خصوصیت یہ بھی ہے کہ اسی رات قرآنِ مجید کا نزول ہوا۔ اللہ تعالی نے اپنی ہدایت کی کتاب کو ایک عظیم رات میں اپنے محبوب رسول حضرت محمد مصطفیﷺ پر نازل فرمایا تاکہ انسانیت کو روشنی اور رہنمائی کا راستہ مل سکے۔ یہی وجہ ہے کہ اس رات کو قدر و منزلت کی رات کہا جاتا ہے۔ اس میں کی جانے والی عبادت، دعا اور ذکر عام دنوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ اجر و ثواب رکھتی ہے۔احادیث مبارکہ میں بھی شبِ قدر کی بے شمار فضیلتیں بیان کی گئی ہیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ لیلتہ القدر میں حضرت جبریل علیہ السلام فرشتوں کے ایک بڑے گروہ کے ساتھ زمین پر نازل ہوتے ہیں اور وہ ہر اس بندے کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں جو اللہ کے ذکر میں مشغول ہو۔ اس روایت سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس رات آسمانوں سے رحمت کا نزول کس قدر وسیع پیمانے پر ہوتا ہے۔رسولِ اکرم ﷺ خود بھی اس رات کی تلاش اور اس کے حصول کے لئے خصوصی اہتمام فرمایا کرتے تھے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب رمضان المبارک کا آخری عشرہ آتا تو حضور ﷺ عبادت میں مزید جدوجہد فرماتے، راتوں کو ذکر و عبادت سے زندہ رکھتے اور اپنے اہلِ خانہ کو بھی عبادت کے لئے بیدار کرتے۔ یہ طرزِ عمل اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ مسلمان کو ان مبارک راتوں کو غفلت میں نہیں گزارنا چاہئے بلکہ عبادت اور دعا کے ذریعے اپنے رب کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ایک اور حدیث میں حضور ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے ایمان اور ثواب کی نیت سے شبِ قدر میں قیام کیا اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔ اس ارشادِ نبوی سے واضح ہوتا ہے کہ شبِ قدر دراصل مغفرت کی رات ہے۔ جو شخص اخلاص کے ساتھ اس رات کو عبادت میں گزارے وہ اللہ تعالی کی رحمت سے محروم نہیں رہتا۔ابن ماجہ کی روایت میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ رمضان میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے اور جو شخص اس رات کی برکتوں سے محروم رہا گویا وہ ہر خیر سے محروم رہا۔ یہ حدیث ہمیں اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ شبِ قدر کی اہمیت کو معمولی نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ اس کی قدر کرتے ہوئے بھرپور عبادت کرنی چاہئے۔شبِ قدر میں سب سے افضل عمل دعا اور استغفار ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ حضور ﷺ سے عرض کیا کہ اگر مجھے شبِ قدر نصیب ہو جائے تو میں کیا دعا مانگوں؟ اس پر آپ ﷺ نے ایک نہایت جامع دعا تعلیم فرمائی: اے اللہ! تو بے شک معاف فرمانے والا اور کریم ہے، معاف کرنا پسند کرتا ہے، پس مجھے بھی معاف فرما دے۔یہ دعا دراصل بندے کی عاجزی اور اللہ کی رحمت پر کامل اعتماد کا اظہار ہے۔علمائے کرام کے نزدیک شبِ قدر رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کی جاتی ہے۔ اکثر روایات میں ستائیسویں شب کا زیادہ ذکر ملتا ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی تعلیم دی گئی ہے کہ آخری عشرہ کی تمام طاق راتوں میں عبادت کا خصوصی اہتمام کیا جائے۔ اس طرح بندہ اس عظیم رات کی سعادت حاصل کرنے کے زیادہ قریب ہو جاتا ہے۔شبِ قدر کا اصل پیغام یہی ہے کہ انسان اپنے رب کی طرف رجوع کرے، گناہوں سے توبہ کرے اور اپنی زندگی کو نیکی اور تقوی کے راستے پر گامزن کرے۔ اگر کوئی شخص اس رات کو اخلاص کے ساتھ عبادت، دعا اور ذکر میں گزارے تو اس کے دل میں روحانی سکون پیدا ہوتا ہے اور اس کی زندگی میں مثبت تبدیلی آ سکتی ہے۔آج کے دور میں جب انسان مادی مصروفیات اور دنیاوی الجھنوں میں گھرا ہوا ہے، شبِ قدر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل کامیابی اللہ تعالی کی رضا میں ہے۔ یہ رات ہمیں موقع فراہم کرتی ہے کہ ہم اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کریں، اپنے گناہوں پر ندامت محسوس کریں اور اپنے رب سے معافی طلب کریں۔آخر میں یہی دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں رمضان المبارک کی برکتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے اور شبِ قدر کی حقیقی سعادت نصیب کرے۔ اگر ہم اس مبارک رات کو اخلاص، عاجزی اور عبادت کے ساتھ گزاریں تو یقینا اللہ تعالی کی رحمت ہمارے شاملِ حال ہوگی اور ہماری زندگیوں میں خیر و برکت کا نزول ہوگا۔ اللہ کریم ہمیں اپنی رضا کے راستے پر چلنے اور اس عظیم رات کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔