Wed, September 16, 2026

سفارت کا سنہرا لمحہ : پاکستان کی وقار بھری پیش رفت

سفارت کا سنہرا لمحہ : پاکستان کی وقار بھری پیش رفت


بین الاقوامی سیاست کے پیچیدہ اور کٹھن افق پر بعض لمحے ایسے بھی طلوع ہوتے ہیں جو تاریخ کے ماتھے پر سنہری حروف سے ثبت ہو جاتے ہیں۔ یہ وہ ساعتیں ہوتی ہیں جب قومیں محض جغرافیہ نہیں رہتیں بلکہ ایک مو¿ثر آواز، ایک ذمہ دار کردار اور ایک معتبر شناخت بن کر ابھرتی ہیں۔ اپریل 2026 کے یہ ایام بھی پاکستان کے لیے ایسے ہی یادگار لمحات لے کر آئے ہیں جب ایران اور امریکہ جیسے متحارب فریقین کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں پاکستان نے نہ صرف کلیدی کردار ادا کیا بلکہ دنیا کو یہ باور کرا دیا کہ امن کی راہ میں سب سے مضبوط قدم وہی قوم اٹھاتی ہے جو بصیرت، تدبر اور عزم سے مزین ہو۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی امن کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ ایسے حساس وقت میں پاکستان نے محض ایک خاموش مبصر بننے کے بجائے ایک فعال ثالث کا کردار ادا کیا۔ اس عمل میں چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر نے نہ صرف سفارتی سطح پر اہم روابط قائم کیے بلکہ عالمی قیادت کے ساتھ اعتماد سازی میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ کامیابی کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم، مربوط اور دور اندیش سفارتی حکمتِ عملی کا ثمر ہے۔ اس کامیابی کے پس منظر میں جہاں ریاستی اداروں کی ہم آہنگی کار فرما رہی وہیں سید عاصم منیر کی بے مثال قیادت اور غیرمعمولی بصیرت نے ایک مضبوط ستون کا کردار ادا کیا۔ ایک سپہ سالار کے طور پر انہوں نے نہ صرف داخلی استحکام کو یقینی بنایا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے وقار کو بھی ایک نئی جہت عطا کی ہے۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے یہ ثابت کیا کہ طاقت صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ حکمت، برداشت اور صحیح وقت پر درست فیصلے کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔
دوسری جانب شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے جس مہارت اور تدبر کے ساتھ سفارتی محاذ سنبھالا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ وزیراعظم کی قیادت میں پاکستانی سفارت کاری نے ایک متوازن اور فعال کردار ادا کیا، جس میں نہ صرف علاقائی حساسیتوں کو مدنظر رکھا گیا بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان اعتماد سازی کی فضا بھی پیدا کی گئی۔ یہی وہ سفارتی لائحہ عمل تھا جس نے پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔ اسلام آباد کا اپریل میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کرنا محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ یہ پاکستان پر عالمی اعتماد کا عملی اظہار ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب اسلام آباد محض ایک دارالحکومت نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے ایک مرکزِ امید بن گیا۔ اس میز پر بیٹھنے والے فریقین جانتے تھے کہ پاکستان نہ صرف غیر جانبدار ہے بلکہ امن کے قیام میں مخلص بھی ہے۔یہاں خاص طور پر یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ ایران اور امریکہ سمیت دنیا کے متعدد ممالک کی جانب سے پاکستان کو جنگ بندی میں کامیاب ثالثی پر مبارکباد پیش کی گئی۔ یہ مبارکبادیں محض رسمی بیانات نہیں بلکہ اس اعتراف کا اظہار ہیں کہ پاکستان نے ایک نازک اور خطرناک صورتحال کو سنبھالنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں مفادات کی جنگ اکثر امن کی کوششوں کو نگل جاتی ہے وہاں پاکستان کا یہ کردار یقینا قابلِ تحسین ہے۔
مزید برآں، یہ لمحہ اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ پاکستان، جو ماضی میں دہشت گردی اور منفی پراپیگنڈے کا نشانہ بنتا رہا، آج عالمی سطح پر عزت و وقار کی نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ وہ پاکستان جسے کمزور اور غیر مستحکم ظاہر کرنے کی کوششیں کی جاتی رہیں، آج ایک مضبوط، خودمختار اور ذمہ دار ریاست کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہ تبدیلی محض بیانیے کی نہیں بلکہ عملی کارکردگی کی بنیاد پر حاصل کی گئی ہے۔ دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ آج وہ ممالک بھی پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا اعتراف کرتے نظر آ رہے ہیں جو ماضی میں اس کے ناقد رہے ہیں۔ بھارت جیسا روایتی حریف بھی پاکستان کی اس سفارتی کامیابی کو سراہنے پر مجبور دکھائی دیتا ہے۔ یہ ایک غیر معمولی پیش رفت ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جب کوئی قوم اخلاص، حکمت اور مستقل مزاجی کے ساتھ آگے بڑھتی ہے تو اس کے مخالفین بھی اس کی صلاحیتوں کے معترف ہو جاتے ہیں۔
یہ تمام تر کامیابیاں اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ پاکستان ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے،ایک ایسا دور جہاں اس کی پہچان محض ایک ترقی پذیر ملک کی نہیں بلکہ ایک ذمہ دار عالمی کردار کی ہے۔ یہ وہ پاکستان ہے جو نہ صرف اپنے مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ عالمی امن کے قیام میں بھی مو¿ثر کردار ادا کر سکتا ہے۔موجودہ عالمی حالات میں سید عاصم منیر کی قیادت ایک ایسے مدبر سپہ سالار کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے جس نے دفاعی حکمتِ عملی کو سفارتی بصیرت کے ساتھ اس مہارت سے ہم آہنگ کیا کہ پاکستان عالمی سطح پر ایک ذمہ دار اور مو¿ثر کردار کے طور پر تسلیم کیا جانے لگا۔ ایران اور امریکہ جیسے حساس اور متحارب فریقین کے درمیان کشیدگی کے ماحول میں ان کا متوازن، سنجیدہ اور دوراندیش رویہ نہ صرف خطے میں استحکام کا باعث بنا بلکہ عالمی قوتوں کو بھی پاکستان کے کردار کا معترف کر گیا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ امریکہ، ایران سمیت متعدد ممالک پاکستان کی دفاعی پختگی اور سفارتی تدبر کو سراہتے ہوئے نظر آتے ہیں اور اس کامیابی کا بڑا سہرا سید عاصم منیرکی قیادت کو دیا جا رہا ہے جنہوں نے ثابت کیا کہ مضبوط دفاع اور مو¿ثر سفارت کاری ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک مکمل اور کامیاب ریاستی حکمتِ عملی کے دو اہم ستون ہیں۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ کامیابی اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت اور ان قیادتوں کی محنت کا نتیجہ ہے جنہوں نے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی وقار کو ترجیح دی۔ سید عاصم منیر کی بصیرت اور شہباز شریف کی سفارتی مہارت نے مل کر ایک ایسا باب رقم کیا ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگا۔یہ صرف ایک کامیابی نہیں، بلکہ ایک پیغام ہے،دنیا کے لیے، خطے کے لیے اور خود پاکستان کے لیے اور وہ یہ کہ امن، تدبر اور قیادت جب یکجا ہو جائیں تو ہر ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

ٹیگز: