ایک زمانہ تھا جب لوگ علم اور معلومات کے حصول حاصل کے لیے بزرگوں اوراساتذہ کی صحبت اختیار کرنے کے ساتھ کتابیں، رسالے، اخباروں کے اداریے اور کالم پڑھا کرتے تھے۔ جن گھروں میں ریڈیو تھا وہاںشام کو لوگ ریڈیو پر خبریں،ڈرامے،گیت اور اپنی پسند کے دیگر پروگرام سننے کے لئے اس کے گرد ایسے جمع ہوتے جیسے شمع کے گرد پروانے ۔ پھر ٹیلی ویژن کا دور آیا اور دیکھتے ہی دیکھتے الیکٹرانک میڈیا نے گھر گھر میں اپنی حکومت قائم کر لی۔ مگر پھر زمانہ بہت تیزی سے بدل گیا ۔ اب علم ، معلومات اور تفریح کا سب سے تیز ترین،آسان،سستا اور بڑا سرچشمہ موبائل فون کی اسکرین یعنی سوشل میڈیا ہے۔ انٹرنیٹ کی آمد کے ساتھ ہی سوشل میڈیا نے ایسا دھاوا بولا کہ معلومات ،خبروں کے دیگر ذرائع کے ساتھ الیکٹرانک میڈیا کو بھی اپنا آپ سمیٹنا پڑا۔ وہ لوگ جو سوشل میڈیا کی فسوں کاریوںسے واقف ہیں وہ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ سوشل میڈیا ایک ایسی عجیب و غریب شے ہے جہاں ہر وقت ایک ایسا رنگا رنگ میلہ لگا رہتا ہے جس میں ہر شخص اپنی الگ الگ دکان سجائے بیٹھا ہے۔ کوئی حکمت و دانائی کے موتی بانٹ رہا ہے،کوئی سیاسی تجزیہ کاری کی آڑ میں سیاستدانوں کے بخیے ادھیڑ رہا ہے،کوئی اُلجھی ہوئی ڈورسُلجھا رہا ہے تو کوئی سُلجھی ہوئی ڈور اُلجھا رہا ہے،کوئی کھیل رہا ہے کوئی کھلا رہا ہے،کوئی ہنس رہا ہے کوئی ہنسا رہا ہے،کوئی میٹھی گولیاں دے کر اور کوئی براہ راست ٹیکے لگا کر لوگوں کو الو یا گدھا بنا رہا ہے۔مختصر یہ کہ اس پلیٹ فارم پر ہر مرض کی دوا اور ہر طرح کا مریض ہے۔یہاں ایک پورا جہان موجود ہے جس میں ڈاکٹر، حکیم، نیم حکیم، مبلغ، استاد، سیاستدان، دانشور، تجزیہ کار، صحافی، اداکار، شاعر، انجینئر ، مزدور، عاشق، معشوق اور پتا نہیں کیا کیا کچھ ہے لیکن اس جادونگری کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ’’ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ ‘‘ کے مصداق یہاں اکثر لوگ وہ ہیں جو وہ حقیقت میں نہیں ہوتے۔ ایک سروے کے مطابق پاکستان کی تقریباً چوبیس پچیس کروڑ آبادی میں سے لگ بھگ اٹھارہ کروڑ افراد کے پاس موبائل فون موجود ہیں۔ گویا اگر بہت چھوٹے بچوں اور انتہائی بزرگ افراد کو اس حساب سے نکال دیا جائے تو باقی تقریباً ہر شخص کے پاس اپنا موبائل فون ہے۔ فون استعمال نہ کرنے والوںکے حساب میں ذہنی معذور اور پاگل افراد کو میں نے اس لئے شامل نہیں کیا کیونکہ بڑے بڑے پاگل بھی سوشل میڈیا پراپنی جہالت کا پرچار کرتے دکھائی دیتے ہیں بلکہ ان سے اکثر پاگلوں کی تو الیکٹرانک میڈیا اوراخباروں تک بھی رسائی ہے۔ گویا سوشل میڈیا کی شکل میں ہر شخص کو ایک ایسا اسٹیج مل گیا ہے جہاں وہ بیک وقت مقرر بھی ہے، سامع بھی، استاد بھی اور شاگرد بھی۔ سوشل میڈیا پر آپ کو ایسے ایسے کردار نظر آئیں گے کہ عقل حیران رہ جائے۔ جو صاحب کل تک سارا دن محلے میں نائی کی دکان پر فارغ بیٹھ کر محلے والوں کی جاسوسی اورچغلیاں کرتے تھے۔آج وہ عالمی سیاست کے بڑے بڑے تجزیے پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ جو شخص ڈاکٹر کو ہمیشہ ’’ڈاک ڈار‘‘ کہہ کر مخاطب کرتا تھاوہ سوشل میڈیا پر طب اور صحت کے ایسے ایسے نسخے بتا رہا ہوتا ہے کہ لگتا ہے جیسے یونانی حکمت کا پورا خزانہ اسی کے پاس محفوظ ہے۔اسی طرح بعض حضرات مذہبی خطیب بن جاتے ہیں۔ وہ آیات و احادیث کے حوالے اس اعتماد سے دیتے ہیں کہ سننے والا چند لمحوں کے لیے انہیں کسی بڑے عالمِ دین کے درجے پر فائز سمجھنے لگتا ہے۔ کچھ لوگ سیاست کے ماہر بن جاتے ہیں، کچھ سماجی مسائل کے حل بتانے لگتے ہیں۔ادب کا حال بھی کچھ مختلف نہیں ہے یہاں بھی بے ادبوں کا راج ہے۔ خود کو ادب و شاعری کا شہسوار سمجھ کر چند ٹافی و ضریون قسم کے نام نہاد شاعر ایسے اشعار لکھتے ہیں کہ آج اگر غالب اور میر زندہ ہوتے تو انہیں پڑھ یا سُن کے شاید بے اختیار کہہ اٹھتے’’ توبہ توبہ کرا دتی تُوں ظالما‘‘۔یہ سب دیکھ کر کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا ایک ایسی منڈی بن چکا ہے جہاں علم، رائے اور معلومات سب کچھ بغیر کسی معیار کے
تھوک کے ہی نہیں بلکہ ’’ تُھوک ‘‘کے بھائو فروخت ہو رہا ہے۔ یہاں کوئی نہیںجو یہ پوچھ سکے کہ’’ جو بات آپ بیان کر رہے ہیں اس کا ماخذ کیا ہے اور جو دعویٰ آپ کر رہے ہیں اس کے پیچھے دلیل اور ذلیل دونوں کیا ہے‘‘۔مسئلہ صرف اتنا نہیں کہ لوگ خود کو ہر فن مولا سمجھنے لگے ہیںبلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک غلط خبر یا افواہ پل بھر میں سینکڑوں اور ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی نے بغیر تحقیق کے کوئی بات لکھ دی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ پورے معاشرے میں پھیل گئی۔جھوٹی خبریں، غلط معلومات اور بے بنیاد الزامات سوشل میڈیا کے ذریعے ایسی رفتار سے پھیلتے ہیں کہ سچائی کہیں بہت پیچھے رہ جاتی ہے۔ کسی کے بارے میں کوئی بے بنیاد بات لکھ دی جائے تو اس کی ساکھ اور عزت کو جو نقصان پہنچتا ہے اس کی تلافی اکثر ممکن نہیں ہوتی۔ نکمے سے نکما اور فارغ سے فارغ انسان کو بھی سوشل میڈیا نے بظاہر بہت مصروف بنا دیا ہے۔ لوگ گھنٹوں موبائل کی اسکرین پر نظریں جمائے رہتے ہیں۔ کبھی پوسٹ لکھ رہے ہیں کبھی تبصرے کر رہے ہیں اور کبھی دوسروں کی زندگیوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ مگر اس مصروفیت میں ان کے اپنے حقیقی رشتے اور تعلقات کمزور پڑنے لگتے ہیں۔ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک ہی گھر میں بیٹھے لوگ ایک دوسرے سے بات کرنے کے بجائے اپنے اپنے موبائل فون میں اپنی اپنی الگ دنیا بسائے بیٹھے ہیں۔ سوشل میڈیا کی یہ ساری خامیاں اور برائیاں اپنی جگہ مگر یہ حقیقت بھی ہے کہ سوشل میڈیا بذاتِ خود کوئی بری چیز نہیں۔ یہ ایک ایسا طاقتور ذریعہ ہے جس کے ذریعے علم پھیلایا جا سکتا ہے اور دنیا کے مختلف حصوں میں رہنے والے افراد کو ایک دوسرے سے جوڑا جا سکتا ہے۔ اگر اسے مثبت انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ علم کے فروغ، آگاہی اور رابطے کا بہترین وسیلہ بن سکتا ہے۔ بہت سے لوگ اسی پلیٹ فارم کے ذریعے علم و ادب کی خدمت بھی کر رہے ہیں، سماجی مسائل اجاگر کر رہے ہیں اور مثبت پیغامات پھیلا رہے ہیں۔اصل مسئلہ اس کا غیر ذمہ دارانہ استعمال ہے۔اس لیے بہتر یہی ہے کہ سوشل میڈیا کو ایک ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ جو بات لکھیں تحقیق کے بعد لکھیںجو خبر شیئر کریں اس کی سچائی ضرور پرکھ لیں اور جو رائے دیں اس میں شائستگی اور احترام کو ملحوظ رکھیں۔