ایک وقت تھا پشاور، راولپنڈی یا لاہور سے کوئٹہ تک کا ٹرین سفر ایک حقیقی تفریح ہوا کرتی تھی۔ میں نے خود بھی بچپن میں لاہور سے کوئٹہ کاسفر لاتعداد مرتبہ کیا ہے۔ پنجاب اور سندھ کے سر سبز کھیتوں میں سے گزرتی اور مختلف دریاﺅں کو عبور کرتی ہوئی ٹرین اکثر اگلے روز دن چڑھے بلوچستان میں داخل ہوتی تھی۔ بلوچستان کی حدود کی بڑی نشانی یہ تھی کہ یہاں پر اینٹوں کا رنگ سرخ کے بجائے پیلا ہوتا ہے ۔ پہاڑوں کے درمیان گزرتی ہوئی ٹرین کو چڑھائی چڑھنے کے لیے ایک انجن تو کافی نہیں ہوتا اس لیے اسے دو یا بعض اوقات تین انجن لگائے جاتے اور پھر جب سرنگوں کا سلسلہ شروع ہوتا تو عجیب ہی سماں ہوتا۔ بعض سرنگیں تو اتنی لمبی ہیں کے ٹرین کافی ٹائم تک ان کے اندر ہے چلتی رہتی ہے۔ اس خوشگوار سفر کو جانے کس کی نظر لگ گئی کہ اب تو اس سفر کے ذکر سے ہی خوف آنے لگتا ہے۔
ماضی میں ہم نے ہوائی جہازوں کی ہائی جیکنگ کی خبریں تو متعدد بار سنی ہیںلیکن اس کے مقابلے میں، ٹرین ہائی جیکنگ بہت ہی کم ہوئی ہے۔پچھلی پانچ دہائیوں کے دوران، پوری دنیا میں سینکڑوں طیاروں ہائی جیک ہوئے ہیں، جن میں امریکہ، ہندوستان، مشرق وسطیٰ اور یورپ شامل ہیں۔ تاہم، ٹرین کے ہائی جیکنگ کے صرف دو ریکارڈ شدہ واقعات ہوئے ہیں۔ تقریبا ً 100سال قبل چین کی ایک ٹرین جو کچھ غیر ملکیوں کو لے کر جا رہی تھی کو ڈاکووں کی جانب سے ہائی جیک کر لیا گیا تھا اور مسافروں کو تقریبا ً 37 دن تک یرغمال بنائے رکھا گیا تھا۔ لیکن جعفر ایکسپریس سانحہ سے قبل ٹرین ہائی جیکنگ کا آخری ریکارڈ شدہ واقعہ 1977 میں پیش آیا تھا، جب کچھ قوم پرستوں نے نیدرلینڈ میں ایک ٹرین کو ہائی جیک کر کے 50 افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔یہ ہائی جیکنگ 20 دن تک جاری رہی اور ڈچ انسداد دہشت گردی کی اسپیشل فورسز کے چھاپے کے ساتھ ختم ہوئی، اس آپریشن کے دوران دو یرغمالیوں اور چھ ہائی جیکرز ہلاک ہوئے۔
اگر تکنیکی اعتبار سے دیکھا جائے تو یقینا کسی ٹرین کو ہائی جیک کرنا ایک بہت ہی مشکل کام ہے۔ سکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ متعدد عوامل ٹرین کی ہائی جیکنگ کو مشکل تر اور بعض اوقات ناممکن بناتے ہیں۔ ان میں: 1) مسافروں کا بڑی تعداد میں موجود ہونا ہے; ایک طیارے میں عموماً200 یا اس سے کم مسافر سوار ہوتے ہیںجبکہ ٹرین میں مسافروں کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔ اس قدربڑی تعداد میں مسافروں پر قابو پانا انتہائی مشکل ہوسکتا ہے۔ نیز، وہ ہائی جیکرز کے خلاف آسانی سے ردعمل بھی دے سکتے ہیں۔
2)ایک طیارے میں داخلی اور خارجی مقامات محدود ہوتے ہیں تاہم ایک ٹرین کی ہر بوگی میں کم از کم چار داخلی اور خارجی راستے ہوتے ہیں۔ ان راستو ں سے مسافروں کے فرار ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں مزید براں اسپیشل فورسز ایکشن کے لیے ٹرین میں داخل ہو کر آپریشن کرنے کے لیے انہیں پوائنٹس کا استعمال کرسکتی ہیں۔
3) ہوائی جہاز کے برعکس، ٹرینوں کو نسبتا زیادہ بہتر انداز میں اور تیزی سے روکا یا محدود کیا جاسکتا ہے کیونکہ ٹرینیں ایک فکس ٹریک تک ہی محدود رہ سکتی ہیں۔
ہماری فورسز نے تمام مسافروں کی حفاظت کو یقینی بناتے ہوئے جس پیشہ ورانہ مہارت اور سبک رفتاری سے اس خطرناک آپریشن کو مکمل کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ہمیں اپنی فورسز کی صلاحیتوں کا اندازہ تو تھا ہی لیکن اس آپریشن کے بعدتو مقامی اور بین الاقوامی ناقدین بھی سوچنے پر مجبور ہو گئے ہوں گے۔ دوسرا اس واقعہ کے فوراً بعد وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اراکین اور مسلح افواج کی قیادت کے ہمراہ بلوچستان کا دورہ کرنا تھا۔ یقینا وزیر اعظم کے اس عمل سے ایک تو دہشت گردی سے متاثر بلوچستان کے عوام کوحوصلہ ملا ہو گا اور دوسرا دہشت گردوں کو بھی ایک مضبوط پیغام بھی پہنچا ہو گا۔
سانحہ جعفر ایکسپریس کے ردعمل میں جو ایک اور بہت ہی خوش آئند اورمثبت بات سامنے آئی وہ قومی اسمبلی سے اس سانحہ کے خلاف متفقہ قرارداد منظور ہونا تھا۔ اس عمل سے بھی یقینا دہشت گردوں اور بیرون ملک میں موجود ان کے آقاوںکو ایک پیغام تو ضرور ملے گا۔
بلوچستان کو درپیش سیاسی اور سماجی مسائل ، یہاں کے عوام کو درپیش محرومیوں، مسنگ پرسنز اور یہاں کے وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم جیسے مسائل پر ہر تجزیہ کار اور سیاستدان بات کرتا رہا ہے۔بلاشبہ یہ وہ مسائل ہیں کہ جن کا فوری حل وقت کی ضرورت بھی ہے۔ لیکن سانحہ جعفر ایکسپریس کے نتیجہ میں کچھ چھوٹے لیکن بہت اہم مسائل بھی سامنے آئے ہیں۔ اگرچہ ان مسائل پر بھی تواتر سے بات ہوتی رہی ہے لیکن اب بالخصوص بلوچستان میں ان مسائل پر فوری توجہ وقت کی ضرورت بن چکی ہے۔
پاکستان کو طویل عرصے سے داخلی اورخارجی دونوں طرح کے خطرات اور چیلنجوں کا سامنا ہے ٹرین ہائی جیکنگ واقعہ کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے ۔بلاشبہ پاکستان ریلویز کے آپریشن میں کسی بھی قسم کا خلل یا رکاوٹ بڑے پیمانے پر معاشی اور سٹرٹیجک خرابیاں پیدا کر سکتا ہے۔
جعفر ایکسپریس سے متعلق اس المناک واقعے نے ایک بار پھر قومی اور بین الاقوامی سطح پر مضبوط حفاظتی اقدامات کی فوری ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ مستقبل میں اس طرح کی آفات سے بچنے کے لئے ایک جامع، کثیر الجہتی نقطہ نظر کی ضرورت ہے جس میں بنیادی ڈھانچے میں بہتری، پالیسی نافذ کرنے والے اداروں، تکنیکی ترقی، اور عوامی آگاہی جیسی مہموں کو شامل کیا جانا چاہیے۔ قومی سطح پر، سب سے پہلے ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کو اپ گریڈ کرنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ٹریک، سگنلز اور ٹرینوں کو اعلی ترین معیار پر برقرار رکھا جائے اس کے ساتھ ساتھ ٹریکس کے روٹین معائنے کو سختی سے نافذ کیا جانا چاہئے۔ اے آئی سے چلنے والے نگرانی کے نظام کی مدد سے ممکنہ خطرات کا قبل از وقت پتہ لگایا جا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے علاوہ امریکہ ، آسٹریلیا، آزربائی جان،بیلاروس، چین ، یورپین یونین، جرمنی ایران، نیدر لینڈ، ناروے، رومانیہ، روس ، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، برطانیہ سمیت دنیا بھر سے پاکستان میں ہونے والی اس دہشت گردی کی کاروائی کی مذمت کی جا رہی ہے حتیٰ کہ بھارت اور افغانستان جنہیں اس واقعہ کا براہ راست یا بالواسطہ ذمہ دار گردانا جا رہا ہے کی جانب سے بھی اس دہشت گردی کے واقعہ کی مذمت کی گئی ہے لیکن سوال ہے کہ کیا صرف زبانی کلامی دہشت گردی کے اس واقعہ کی مذمت کر دینے کو ہی کافی سمجھا جائے گا یا پھر پاکستان میں جاری اس دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پاکستان کی ٹھوس بنیادوں پر مدد اور سرپرستی کی جائے گی؟ ۔