Wed, September 16, 2026

پنجاب میں الیکٹرک و میٹرو بس اور اورنج ٹرین کے بعد فاسٹ ٹرین چلے گی

پنجاب میں الیکٹرک و میٹرو بس اور اورنج ٹرین کے بعد فاسٹ ٹرین چلے گی

ایک وقت تھا پاکستان میں لوگ امریکہ اور یورپ کی مثالیں دیتے تھے اور امریکہ اور یورپ کے ٹریفک قوانین شہریوں کو ملنے والی بنیادی سہولیات کی باتیں کی جاتی تھی۔ آج یہ سب کچھ پنجاب میں ممکن ہوتا نظر آرہا ہے۔ پنجاب میں دو سال کے عرصے میں ہر شعبے میں جدت کو متعارف کروایا گیا ہے۔ پنجاب واحد صوبہ ہے جس نے تیزی کے ساتھ انٹرنیشنل سٹینڈرڈ کوپورا کیا ہے اسی لیے آج بیرون ملک بھی بیٹھے لوگ پنجاب کے لوگوں کو ملنے والی سہولیات سے متعلق بات کرتے ہیں۔ پنجاب کے تین چار بڑے شہروں میں ٹریفک ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اس مسئلے کو بھی حل کرنے کے لیے مریم نواز نے ایک جامع روڈ میپ کی منظوری دے دی ہوئی ہے۔ اس پر پہلے مرحلے میں لاہور کی سطح پر جدید ٹریفک کا نظام متعارف کروایا جا رہا ہے۔ اگر دنیا کے جدید اور ترقی یافتہ ممالک میں ٹریفک کے تمام قوانین کی ہم پابندی کر سکتے ہیں تو پھر اپنے ملک میں ان قوانین کو لاگو اور ان پر عمل درآمد کیوں نہیں کر سکتے ۔سیٹ بیلٹ باندھنا اور ہیلمٹ پہننا یقینا حکومت کے لیے نہیں ہر گاڑی چلانے والے اور موٹر سائیکل سوار کے لیے فائدہ مند ہے ۔گزشتہ دنوں اس حوالے سے ایک باقاعدہ رپورٹ سامنے آئی تھی کہ ایک سال میں موٹر سائیکل سواروں کی ہیڈ انجری کے واقعات میں بڑی کمی ہوئی ہے۔ اس کی اہم وجہ اب ہر موٹر سائیکل سوار ہیلمٹ پہنتا ہے اگر کوئی حادثہ ہو بھی جائے تو وہ جان لیوا ثابت نہیں ہوتا ۔دنیا میں آج جدید ٹریفک کا نظام متعارف کروایا جا رہا ہے اس کو سب سے پہلے متعارف کروانے کا بھی کریڈٹ پنجاب کو ہی جاتا ہے ۔پنجاب میں شہباز شریف نے پہلی مرتبہ جدید ٹرانسپورٹ کا سسٹم متعارف کروایا۔ جس میں لاہور، ملتان اور راولپنڈی میں میٹرو بس سروس شروع کی۔ لاہور کی 19 روٹ پر جدید بسیں اے سی والی چلائی۔ جن میں سپیڈو اور پنگ بس نمایاں تھی۔ اس کے بعد وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے اورنج لائن ٹرین جیسا شاہکار منصوبہ شروع کیا۔ جس کو اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے 11 ماہ صرف اس لیے روکے رکھا کہ الیکشن سے پہلے اورنج ٹرین کا منصوبہ مکمل ہو گیا تو اس کا مسلم لیگ نون کو بطور جماعت سیاسی فائدہ ہوگا۔ حقیقت میں اس سے منصوبہ زیر التواءہونے کی وجہ سے لاگت میں اربوں روپے کا اضافہ ہوا۔ پنجاب میں چار سال تحریک انصاف کی حکومت میں ایک بھی نئی بس نہیں خریدی گئی پھر مریم نواز کی پنجاب میں حکومت بنی تو مریم نواز نے پورے پنجاب میں الیکٹرک بسوں کا جال بچھا دیا۔ مریم نواز نے الیکٹرک بسوں کی فراہمی کا آغاز بھی میانوالی سے کیا جہاں سے بانی پی ٹی آئی کئی سال رکن اسمبلی منتخب ہوتے رہے لیکن انہوں نے میانوالی کے لیے کوئی بھی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔آج پورے پنجاب میں آپ کو سڑکوں پر الیکٹرک بسیں چلتی نظر آ رہی ہیں۔ اس کا کرایہ بھی صرف 20 روپے ہے یہ عوام کو موجودہ دور میں ملنے والی سب سے سستی اور لگژری سفری سہولت ہے۔ اب مریم نواز نے گزشتہ روز وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کے ساتھ پنجاب میں پاکستان کی پہلی فاسٹ ٹرین چلانے کا معاہدہ کیا ہے۔ لاہور سے راولپنڈی تک 1415 کلومیٹر کے 20 ریجن میں 8 لوکل روٹ سپر جدید ترین فاسٹ ٹرین چلے گی ۔یہ ٹرین تقریباً آدھے سے زیادہ پنجاب کو کور کرے گی صرف اس ایک ٹرین سے 9کروڑ افراد مستفید ہوں گے گو کہ یہ منصوبہ بہت مہنگا اور بڑا ہے لیکن مریم نواز بڑے اور مشکل ٹاسک حاصل کرنے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتی ۔دو سال کے عرصے میں مریم نواز نے وہ کام کیے ہیں جو پاکستان کی تاریخ میں پہلے کوئی صوبائی حکومت نہیں کر سکی فاسٹ ٹرین منصوبے کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی قیادت میں ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہوئی ہے۔ مریم اورنگزیب نے ایک سال مسلسل ورکنگ کی جس کے بعد باقاعدہ ریلوے اور حکومت پنجاب کے درمیان معاہدہ طے پایا۔مریم اورنگزیب انتہائی محنتی اور ذمہ دار وزیر ہیں یہ انہوں نے دو سال میں ثابت کیا۔وہ ثابت کررہی ہیں کہ میاں نوازشریف کا انکو پنجاب میں ہی رکھنے کا فیصلہ درست تھا اور وہ میاں نوازشریف کے اعتماد پر بھی پورا اتر رہی ہیں ۔ پنجاب میں اورنج ٹرین کے بعد فاسٹ ٹرین ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک بڑا انقلاب لائے گی ۔ایسی ٹرینیں ہم دنیا کے جدید اور ترقی یافتہ ممالک میں دیکھتے ہیں اور ان کی مثالیں دیتے ہیں اب یہ ٹرین پنجاب میں چلنے جا رہی ہے ۔ گجرانوالہ میں بھی میٹرو بس منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے ۔اس کو بھی ہر صورت مریم نواز نے مقررہ مدت تک مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن دے دی ہے۔مریم نوازکی ایک بڑی خصوصیت ہے کہ وہ اپنے منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کرواتی ہیں۔ مریم نواز اپنی متعدد تقریروں میں ایک جملہ استعمال کرتی ہیں پنجاب میں پہلے بھی یہی وسائل تھے جو آج ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ پنجاب کے عوام پر وہ وسائل پہلے خرچ کیوں نہیں ہوتے رہے جو آج لوگوں پر خرچ ہو رہے ہیں اور نظر بھی آ رہے ہیں ۔مریم نواز کی مجھے ذاتی طور پہ جو سب سے اچھی بات لگتی ہے وہ کوئی بھی منصوبے کی تکمیل ہونے پر کہتی ہیں کہ یہ میں آپ پر احسان نہیں کر رہی بلکہ یہ آپ کا حق تھا جو آپ کو تاخیر سے مل رہا ہے۔ اس بات کو عوام کی جانب سے بہت زیادہ پذیر ائی ملی ہے۔ آئی پور کے حالیہ سروے میں مریم نواز کے مقبولیت بڑھنے اور پنجاب کے 69 فیصد عوام کا ان کی دو سالہ کارکردگی پر اطمینان کا اظہار اس کی بڑی دلیل ہے۔

ٹیگز: