Thu, September 17, 2026

بس بہت ہوگیا

بس بہت ہوگیا


سانحہ جعفر ایکسپریس ہائی جیکنگ واقعہ جتنا دلخراش تھا وہیں پر یہ انمٹ تکلیف دہ نقوش بھی چھوڑ گیا۔ ایک طرف وفاقی اور بلوچستان حکومتیں پاکستانی مسلح افواج کی وساطت سے تمام تر ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے دہشتگردوں کے ہاتھوں مغوی نہتے پاکستانی شہریوں کو بازیاب کرانے کے لیے آپریشن میں مصروف عمل دکھائی دے رہی تھیں تو دوسری طرف پاکستان کا ازلی دشمن بھارت کا میڈیا طوفان بدتمیزی بھرپا کیے ہوئے تھا۔ تیسری طرف ہم پاکستانیوں کی بدقسمتی یہ کہ ہمارے اپنے ہی لوگ بھارت اور دہشتگردوں کی من گھڑت خبروں کی تشہیر میں مصروف عمل دکھائی دیئے۔ حد تو یہ ہے کہ سرکاری خبر پر ٹرولنگ کے نہ ختم ہونے والے سلسلہ کو بآسانی دیکھا گیا۔ جیسے ہی سرکاری اداروں خصوصاً پاکستانی مسلح افواج کے تعلقات عامہ کی جانب سے کوئی نئی اپ ڈیٹ منظر عام پر آتی ہمارے اپنے پاکستانی سوشل میڈیا پر ٹرولنگ اور بیہودہ قسم کے تبصرے کرتے دکھائی دیئے۔ جہاں ایک طرف پاکستانی قوم، قانون نافذ کرنے والے اداروں بالخصوص پاکستانی مسلح افواج، نہتے بے گناہ پاکستانی شہریوں کی بازیابی کے لیے دعا گو تھی۔ وہیں پر پاکستان کی اک سیاسی جماعت کے پیروکار حکومتی کوششوں کی ٹرولنگ اور من گھڑت پروپیگنڈا کا حصہ بن چکے تھے۔ بسا اوقات ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے بھارت، بدنام زمانہ دہشتگرد تنظیم بی ایل اے اور سیاسی جماعت کے پیروکار وں کا مقصد ایک ہی ہے کہ کسی صورت مغویوں کی بازیابی نہ ہو سکے اور پاکستانی حکام ان دہشتگردوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں۔ کاش ٹرولنگ کرنے والے اک لمحہ کے لیے یہ محسوس کرتے اور سوچ لیتے کہ اگر انکا اپنا عزیز بھی اسی ٹرین میں یر غمال ہو چکا ہوتا تو کیا پھر بھی ٹرولنگ کرتے؟
ہم بحیثیت پاکستانی مزید کتنی پستی میں جانا پسند کریں گے کہ سوشل میڈیا پر بی ایل اے کی جانب سے جاری کردہ من گھڑت خبروں اور پروپیگنڈا کو اپنی ٹائم لائن پر نہ صرف شیئر کیا گیا بلکہ پاکستانی حکام خصوصاً پاکستانی مسلح افواج کا مذاق اُڑایا گیا۔ پاکستانی حکام اور اداروں کے خلاف ہر قسم کا اختلاف رائے رکھنا آئینی و قانونی طور پر جائز تصور ہوتا ہے مگر اسکا یہ ہرگز مقصد نہیں کہ کسی معاملے میں اختلاف کی صورت میں ریاست پاکستان کی آئینی و جغرافیائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والی دہشت گردہ قوتوں خصوصاً دشمن ملک کے پروپیگنڈا کا حصہ بن کر انکا آلہ کار بن جائیں۔ یاد رہے ہمارے ازلی دشمن ممالک عرصہ دراز سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ بلوچستان کو پاکستان سے علیحدہ کرنے کی تحریک کا باقاعدہ حصہ بن چکے ہیں۔ بھارت، یورپ اور کئی مغربی ممالک کی پارلیمنٹ و دیگر فورمز پر بلوچستان عوام کے حقوق اور گمشدہ افراد کے نام پر باقاعدہ آزادی کی باتیں کی جاتی ہیں۔ رہی سہی کسر مملکت پاکستان میں مادر پدر آزاد ٹی وی چینلز پر بلوچستان کے نام پر ریاست پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے عناصر کو پرائم ٹائم میں جگہ دی جاتی ہے۔ بی ایل اے کسی صورت بلوچوں کی نمائندہ جماعت نہیں ہو سکتی ہے۔ کیونکہ جس صوبہ میں پاکستان کا عظیم دوست چین سب سے زیادہ سرمایہ کاری کر رہا ہے اور سی پیک کی صورت میں بلوچستان دبئی جیسی ترقی کر سکتا ہے۔ اسی ترقی کو روکنے کے لیے یہ دہشتگرد تنظیم بلوچوں کے حقوق کے نام پر بلوچستان میں امن عامہ کی صورتحال کو خراب کر رہی ہے۔
یہ بات انتہائی قابل غور ہے کہ دہشتگرد تنظمیں صرف اور صرف بلوچ پنجابی نفرت کو اس قدر ہوا دے رہی ہیں جس کی زندہ مثالیں سانحات میں چُن چُن کر صوبہ پنجاب کے باسیوں کو قتل کیا جانا ہیں۔ تازہ ترین مثال جعفر ایکسپریس کے بازیاب ہونے والے اک مغوی کی میڈیا ٹاک میں انکشاف ہوا کہ دہشت گردوں نے پنجابی اور سرائیکی بولنے والوں کو علیحدہ ہونے کا حکم دیا پھر انکو شہید کر دیا گیا۔ اس سے پہلے بھی بسوں سے صرف پنجابی بولنے یا شناختی کارڈ پر پنجاب کا پتہ لکھے جانے والے کئی افراد کو شہید کیا گیا ہے۔ ہمارے ازلی دشمن لسانیات اور صوبائیت کو نہ صرف ہوا دے رہے ہیں بلکہ دہشتگردی کا مرکز بھی بنا رہے ہیں۔ یہ پروپیگنڈا کرنا کہ مسلح افواج کا تعلق صرف اور صرف صوبہ پنجاب سے اور پاک فوج کو پنجابی فوج کہنا انتہائی من گھڑت ہے۔ کیونکہ پاکستان کی مسلح افواج میں تمام صوبوں کو متناسب نمائندگی دی جاتی ہے۔ پاکستانی افواج کے کئی سربراہان کا تعلق پنجاب کی بجائے دیگر صوبوں سے رہا ہے۔
آئین و قانون کی سربلندی کا خواب دیکھنے والا ہر پاکستانی، ماضی میں افواج کے غیر آئینی اقدامات کا ناقد رہا ہے مگر اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ پاکستان کی آئینی و جغرافیائی حدود کو پامال کرنے والے دشمن ممالک اور دہشتگردوں کا ساتھ دیا جائے۔ یاد رہے پاکستان ہے تو ہم سب ہیں۔ پاکستان نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ بس بہت ہو گیا۔ وقت آ گیا ہے کہ ریاست پاکستان کے تینوں ستون مملکت میں پائی جانے والی دہشتگردی کو جڑ سے اُکھاڑنے کے لیے باہم متحد ہو کر سخت فیصلے کریں۔ جس کی بدولت دہشتگردی کو پروان چڑھانے والے تمام عناصر اور انکی حمایت کرنے والی سیاسی، سماجی تنظیمیں اور پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا میں چھپی ہوئی کالی بھیڑوں سب کا قلع قمع کر دیا جائے۔ جیسے ہم امریکہ و دیگر ممالک کو مطلوب دہشت گرد انکے حوالے کرتے ہیں اسی طرز پر حکومت پاکستان کو یورپ و دیگر ممالک میں بیٹھے دہشتگردوں کو کیفرکردار تک پہنچانے کے لیے سنجیدہ کوششوں کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان زندہ بادہ، پاکستانی عوام پائندہ باد۔

ٹیگز: