پاکستان کے سیاسی، تزویراتی اور جغرافیائی منظرنامے میں خیبر پختونخوا منفرد اہمیت کا حامل صوبہ ہے۔ قدرتی وسائل، پن بجلی کی بے پناہ صلاحیت، سیاحت کے دلکش مقامات، معدنی ذخائر اور نوجوان آبادی جیسی بے شمار نعمتوں سے مالا مال یہ صوبہ معاشی ترقی اور سماجی خوشحالی کیلئے تمام بنیادی صلاحیتیں رکھتا ہے۔ اسکے باوجود خیبر پختونخوا آج بھی صنعتی ترقی، روزگار کے مواقع، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، معیاری تعلیم اور صحت کی سہولیات کے میدان میں ملک کے دیگر ترقی یافتہ حصوں سے پیچھے دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی مسلسل تیرہ سال سے زائد حکمرانی کے باوجود صوبہ وہ ترقی نہ کر سکا جس کے وعدے کیے گئے تھے۔ گزشتہ تیرہ برس میں دہشت گردی اور شدت پسندی نے صوبے کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا۔ نجی سرمایہ کاری متاثر ہوئی اور کئی علاقے طویل عرصے تک سکیورٹی خدشات کی زد میں رہے۔ 2013 سے پاکستان تحریک انصاف مسلسل خیبر پختونخوا پر حکمران ہے اور بارہا اس صوبے کو اپنی طرز حکمرانی کا نمونہ قرار دیتی رہی ہے۔ تیرہ سال کسی بھی سیاسی جماعت کیلئے اپنی کارکردگی ثابت کرنے اور نمایاں تبدیلی لانے کیلئے طویل عرصہ تصور کیا جاتا ہے۔ اگرچہ اس دوران پولیس اصلاحات، صحت کارڈ جیسی سکیموں اور بعض انتظامی اصلاحات کو متعارف کرایا گیا، تاہم یہ اقدامات صوبے کی مجموعی معاشی اور سماجی صورتحال میں وہ بنیادی تبدیلی نہ لا سکے جس کی توقع کی جا رہی تھی۔اسکی بڑی وجہ جامع معاشی وژن کا فقدان ہے۔ دنیا کے کامیاب خطے صنعتی توسیع، برآمدات میں اضافے، سرمایہ کاری کے فروغ اور روزگار کی فراہمی کو اپنی ترقیاتی حکمت عملی کا مرکز بناتے ہیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت کے تیرہ برس میں خیبر پختونخوا میں فلاحی اور انتظامی اصلاحات پر توجہ دی گئی نہ صنعتی ترقی کو وہ ترجیح مل سکی جو صوبے کی معیشت کو مستحکم بنیادیں فراہم کر سکتی تھی۔ نتیجتاً ہزاروں تعلیم یافتہ نوجوان روزگار کی تلاش میں دیگر صوبوں یا بیرون ملک جانے پر مجبور ہیں۔ صوبے کی معیشت اب بھی بڑی حد تک وفاقی مالی معاونت پر انحصار کرتی ہے۔
بیوروکریسی کی کارکردگی بھی ترقی کی رفتار سست ہونے کی ایک اہم وجہ رہی ہے۔ افسران کے بار بار تبادلے، منصوبوں پر عملدرآمد کے کمزور نظام، انتظامی تاخیر اور ادارہ جاتی صلاحیت کی کمی نے حکومتی اقدامات کی افادیت کو محدود کر دیا۔ کئی منصوبے لاگت میں اضافے، تکمیل میں تاخیر اور ناقص نگرانی کا شکار رہے۔ پالیسی سطح پر اعلان کردہ اصلاحات اکثر زمینی حقائق میں مثر تبدیلی پیدا نہ کر سکیں۔سیاسی ترجیحات نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنایا۔ قومی سطح پر سیاسی محاذ آرائی کے ان تیرہ برس میں تحریک انصاف کی قیادت نے اپنی تمام توانائیاں وفاقی سیاست اور بعد میں عمران خان کی رہائی کیلئے کوششوں پر مرکوز رکھیں۔ یوں محسوس ہوتا رہا کہ صوبہ معاشی انقلاب کا ماڈل بننے کے بجائے سیاسی طاقت کے مرکز کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ بڑے صنعتی زونز، برآمدات پر مبنی صنعتوں، ٹیکنالوجی پارکس اور طویل المدتی معاشی منصوبہ بندی کو وہ توجہ نہ مل سکی جو صوبے کی تقدیر بدلنے کے لیے ضروری تھی۔ یہ مسئلہ صرف سیاسی خواہش کی کمی کا نہیں بلکہ انتظامی صلاحیتوں کا بھی ہے۔ مو¿ثر حکمرانی کیلئے مضبوط ادارے، تکنیکی مہارت، پالیسیوں کا تسلسل اور پیشہ ورانہ انتظام ضروری ہوتا ہے۔ تحریک انصاف سیاسی متحرک سازی میں تو کامیاب رہی، تاہم معاشی نظم و نسق اور ترقیاتی منصوبوں کے مو¿ثر نفاذ میں اسکی کارکردگی انتہائی کمزور اور غیر تسلی بخش دکھائی دی۔ ترقی نعروں سے نہیں بلکہ منصوبہ بندی، عملدرآمد اور جوابدہی سے حاصل ہوتی ہے۔اس پسماندگی میں عمران خان کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بطور بانی اور مرکزی فیصلہ ساز، وہ اپنی جماعت کے سب سے اہم صوبے کی مجموعی کارکردگی کے سیاسی طور پر ذمہ دار ہیں۔ خیبر پختونخوا کو تحریک انصاف کے طرز حکمرانی کے ماڈل کے طور پر پیش کیا گیا تھا تو صوبے کی مسلسل ترقیاتی کمزوریاں لازماً پارٹی قیادت کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھاتی ہیں۔ صوبائی وزرا، اراکین اسمبلی، مقامی حکومتیں، بیوروکریسی اور انتظامی ادارے سب اس صورتحال میں شریک ذمہ داری ہیں۔ ترقی ایک اجتماعی عمل ہے جس میں مختلف اداروں اور فریقین کا کردار اہم ہوتا ہے۔ کمزور بلدیاتی ڈھانچے، پالیسیوں پر غیر مستقل عملدرآمد اور محکموں کے درمیان مو¿ثر رابطے کے فقدان نے بھی ترقی کی رفتار کو بے حد متاثر کیا۔ صوبے میں بے انتہا کرپشن، وسائل کی تقسیم اور ترقیاتی ترجیحات کے حوالے سے خدشات بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں۔ ترقیاتی فنڈز کو معاشی ضروریات کے بجائے سیاسی مصلحتوں کے تحت تقسیم کیا جاتا رہا، جس سے عوامی سرمایہ کاری کے طویل المدتی فوائد محدود ہو کر رہ گئے۔ پی ٹی آئی کے اقتدار کے ان تیرہ برس میں ایک اور اہم مسئلہ انسانی وسائل کی ترقی پر ناکافی توجہ رہا ہے۔ تعلیمی معیار اب بھی پست اور غیر یکساں ہے۔ بڑی تعداد میں فارغ التحصیل نوجوان جدید صنعتوں کی ضروری مہارتوں سے محروم ہیں۔ اسی طرح دور دراز اضلاع میں صحت کی سہولیات سرے سے موجود ہی نہیں۔
تعلیم، فنی تربیت اور صحت کے شعبوں میں مو¿ثر سرمایہ کاری کے بغیر پائیدار معاشی ترقی کا حصول ممکن نہیں۔ نجی شعبے کی محدود شمولیت بھی ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ سرمایہ کار سیاسی استحکام، معیاری انفراسٹرکچر، توانائی کی دستیابی اور مستقل پالیسیوں کے خواہاں ہوتے ہیں۔ سیاحت اور پن بجلی کے بے شمار مواقع موجود ہونے کے باوجود خیبر پختونخوا مطلوبہ سطح کی سرمایہ کاری حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ بیوروکریٹک پیچیدگیاں اور پالیسیوں میں غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی کرتی رہی ہیں۔صوبے کے جغرافیائی چیلنجز کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں انفراسٹرکچر کی تعمیر مہنگی اور پیچیدہ ہوتی ہے۔ تاہم دنیا کے کئی ایسے خطے بھی موجود ہیں جنہوں نے اسی نوعیت کے جغرافیائی مسائل کے باوجود سیاحت، رابطہ کاری اور جدید انفراسٹرکچر کے ذریعے نمایاں ترقی حاصل کی۔ اس لیے جغرافیہ کو ہمیشہ کیلئے پسماندگی کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔خیبر پختونخوا کی پسماندگی بیوروکریٹک رکاوٹوں، ناکافی اور ناقص معاشی اور ترقیاتی منصوبہ بندی، محدود سرمایہ کاری اور حکمرانی کی خامیوں کی وجہ سے ہے۔ تیرہ برس سے زائد عرصے تک حکومت کرنے کے بعد تحریک انصاف مکمل طور پر بری الذمہ قرار نہیں دی جا سکتی۔ پی ٹی آئی صوبے کو وہ مثالی ماڈل نہ بنا سکی جس کا وعدہ بارہا کیا گیا تھا۔ عوامی مقبولیت اور سیاسی نعروں سے ترقی حاصل نہیں ہوتی۔ پائیدار ترقی کیلئے واضح معاشی وژن، مضبوط ادارے، شفاف احتساب، سرمایہ کاری کے فروغ اور عام شہری کی زندگی میں بہتری لانے کے عزم کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب تک یہ عناصر خیبر پختونخوا کی حکمرانی اور پالیسی سازی کا بنیادی حصہ نہیں بنتے تب تک صوبے کی بے پناہ صلاحیتیں پوری طرح بروئے کار نہیں آ سکیں گی اور ترقی کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔