راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ملک کے مسائل کے حل کے لیے اچھی حکمرانی ناگزیر ہے، جبکہ بلوچستان کے حالات بہتر بنانے کے لیے گڈ گورننس، ترقی اور ریاستی رٹ کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔
نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ عوام حکومت سے مطمئن ہیں یا نہیں، اس کا فیصلہ آئین کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بہتر حکمرانی کے لیے اگر انتظامی ری سیٹ کی ضرورت ہو تو اس پر غور کیا جانا چاہیے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ رواں سال ملک بھر میں 40 ہزار 348 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں 2 ہزار 84 دہشت گرد مارے گئے۔ ان کے مطابق بلوچستان میں 31 ہزار 80، خیبرپختونخوا میں 7 ہزار 177 جبکہ دیگر علاقوں میں 2 ہزار 91 آپریشنز کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں 819 اہلکار شہید ہوئے، جبکہ شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں نے بھی قربانیاں دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں، انہیں ہتھیار ڈالنا ہوں گے یا ریاست ان کے خلاف کارروائی جاری رکھے گی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ صرف سکیورٹی کا نہیں بلکہ گورننس، ترقی اور ریاستی رٹ سے بھی جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں پانی، صحت، تعلیم اور ترقیاتی منصوبوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں اور عوام کو بااختیار بنانا ضروری ہے۔
انہوں نے لاپتہ افراد کے معاملے پر قائم کمیشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ متعدد درخواستوں میں افراد کی شناخت ہوئی، جبکہ بعض کیسز میں دہشت گرد سرگرمیوں سے تعلق بھی سامنے آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست حقائق سامنے لانے کے لیے کام کر رہی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں بیرونی معاونت اور پروپیگنڈا نیٹ ورکس کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے خلاف بیانیوں کا مقابلہ حقائق کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سکیورٹی کے لیے گڈ گورننس بنیادی شرط ہے اور نیشنل ایکشن پلان کے نکات پر تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین اور قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے اور ریاست اپنی ذمہ داریاں آئینی دائرے میں رہتے ہوئے ادا کرتی رہے گی۔