ایک سو مجرم سزا سے بچ جائے تو اتنا بڑا المیہ نہیں کہ ایک بے گناہ سزا پا جائے، ہانیہ احمد کا قتل، پولیس اختیارات اور ریاستی جوابدہی کا بحران کہیں گے یا چار سو پھیلتی ہوئی بے حسی، ریاستی سطح پر ماورائے آئین و قانون پالیسیوں کا راج، ریاست اور شہری کے درمیان تعلق محض شناختی کارڈ، ٹیکس یا سرکاری دفاتر تک محدود نہیں ہوتا بلکہ یہ اعتماد، تحفظ اور انصاف کے ایک غیر تحریری معاہدے پر استوار ہوتا ہے۔ جب شہری یہ محسوس کرے کہ اس کی جان، عزت اور حقوق قانون کے سائے میں محفوظ ہیں تو ریاست مضبوط ہوتی ہے، لیکن جب اسی شہری کو یہ احساس ہونے لگے کہ وہ اپنے ہی محافظوں سے محفوظ نہیں تو ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ کمزور پڑنا شروع ہو جاتا ہے۔ چکوال میں نو سالہ ہانیہ احمد کی المناک ہلاکت اسی بحران کی نشاندہی ہے۔ یہ سانحہ صرف ایک معصوم بچی کی موت نہیں بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ تربیت، طاقت کے استعمال کے اصولوں، احتسابی نظام اور شہری تحفظ کے تصور پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ آسٹریلیا سے آ کر پھر حج کی سعادت حاصل کرنے کے بعد اپنے آبائی وطن آنے والا ایک خوش و خرم خاندان چند لمحوں میں ایسے اندوہناک حادثے کا شکار ہوا جس نے پاکستان کے اندر اور بیرونِ ملک بسنے والے کروڑوں پاکستانیوں کو غم، صدمے اور اضطراب میں مبتلا کر دیا۔ ہانیہ اپنے والد عدیل، والدہ ڈاکٹر سدرہ خان اور بھائی عفان کے ہمراہ چکوال میں رشتہ داروں سے ملنے آئی ہوئی تھی۔ رات گئے موٹر سائیکل سوار مسلح ڈاکوو¿ں نے خاندان کو یرغمال بنا کر لوٹ لیا۔ اسی دوران کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے ایک اہلکار نے صورتحال دیکھی، اسلحہ لیا اور واپس آ کر فائرنگ شروع کر دی۔ خوف زدہ والد نے اپنے اہلِ خانہ کو بچانے کے لیے گاڑی آگے بڑھائی مگر اہلکار نے ڈاکوو¿ں کے بجائے ان کی گاڑی کو نشانہ بنا لیا۔ نتیجتاً نو سالہ ہانیہ موقع پر جاں بحق جبکہ اس کا والد اور بھائی شدید زخمی ہو گئے۔ یہاں سوال صرف ایک گولی کا نہیں بلکہ اس سوچ کا ہے جس کے تحت کسی اہلکار کو یہ اختیار حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ بھرے بازار یا رہائشی علاقے میں شناخت اور تصدیق کے بغیر اندھا دھند فائرنگ کر دے۔ دنیا بھر کے مہذب ممالک میں پولیس طاقت کے استعمال کو آخری آپشن کے طور پر استعمال کرتی ہے اور وہ بھی سخت قواعد و ضوابط کے دائرے میں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے ہاں طاقت کا اظہار پیشہ ورانہ مہارت پر غالب آ جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کیا ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بحران سے نمٹنے، خطرے کی درست تشخیص اور شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دینے کی مناسب تربیت دی جا رہی ہے؟ اگر ایک تربیت یافتہ اہلکار ڈاکو اور متاثرہ خاندان کی گاڑی میں فرق نہ کر سکے تو یہ محض ایک فرد کی غلطی نہیں بلکہ پورے تربیتی نظام کی ناکامی ہے۔ یہ پہلا واقعہ نہیں۔ ماضی میں سانحہ ساہیوال سمیت کئی ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں جن میں بعد ازاں معلوم ہوا کہ طاقت کا غیر ضروری استعمال یا غلط معلومات کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔ ہر بار تحقیقات، معطلیاں اور کمیٹیاں بنتی ہیں مگر نظامی اصلاحات کا عمل کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ اس سانحے کا ایک اور اہم پہلو ریاست اور شہری کے تعلق سے جڑا ہوا ہے۔ آسٹریلیا میں مقیم پاکستانی خاندان اپنے وطن اس یقین کے ساتھ آیا کہ یہ ان کا گھر، ان کی شناخت ہے اور ان کے عزیز یہاں موجود ہیں۔ لیکن جب ایک خاندان اپنے ہی وطن میں ڈاکوو¿ں اور پھر مبینہ طور پر ریاستی اہلکار کی گولیوں کا شکار ہو جائے تو اس کے اثرات صرف ایک گھرانے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا میں پاکستان کے تشخص اور ریاستی اداروں پر اعتماد کو متاثر کرتے ہیں۔ آسٹریلیا کے وزیر اعظم کی جانب سے شفاف تحقیقات کے مطالبے نے اس واقعے کی بین الاقوامی اہمیت کو بھی اجاگر کیا ہے۔ یہ محض ایک فوجداری مقدمہ نہیں رہا بلکہ پاکستان کے نظامِ انصاف، پولیسنگ اور ریاستی جوابدہی کا امتحان بن چکا ہے۔ انصاف کی فراہمی اب صرف متاثرہ خاندان کی ضرورت نہیں بلکہ ریاستی ساکھ کا مسئلہ بھی بن گئی ہے۔ اس سارے معاملے میں ایک تشویشناک پہلو یہ بھی ہے کہ تفتیش وہی ادارے کر رہے ہیں جن سے متعلق سوالات اٹھ رہے ہیں۔ دنیا بھر میں ایسے حساس معاملات میں آزاد اور غیر جانبدار تحقیقات کو ترجیح دی جاتی ہے تاکہ عوام کا اعتماد قائم رہے۔ اگر عوام کو یہ محسوس ہو کہ ادارے خود اپنے ہی اہلکاروں کے جج بنے ہوئے ہیں تو انصاف کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ محض ایک اہلکار کی گرفتاری یا معطلی اس مسئلے کا حل نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بنیادی اصلاحات متعارف کرائی جائیں۔ سب سے پہلے پولیس اور سکیورٹی فورسز کے لیے Rules of Engagement کو ازسرِنو مرتب کیا جائے اور شہری علاقوں میں مہلک اسلحے کے استعمال کو انتہائی محدود کیا جائے۔ دوسرا، ہر فیلڈ اہلکار کے لیے نفسیاتی جانچ اور دباو¿ میں فیصلہ سازی کی تربیت لازمی قرار دی جائے۔ تیسرا، باڈی کیمروں اور جدید نگرانی کے نظام کو فروغ دیا جائے تاکہ ہر
کارروائی کا ریکارڈ موجود ہو۔ چوتھا، کسی بھی شہری ہلاکت کی صورت میں خودکار عدالتی یا آزاد کمیشن انکوائری لازم قرار دی جائے۔ پانچواں، صرف براہِ راست ذمہ دار اہلکار ہی نہیں بلکہ کمانڈ چین میں موجود افسران کو بھی جوابدہ بنایا جائے تاکہ احتساب کا خوف ہو۔ ریاست کی اصل طاقت اسلحے، وردی یا اختیارات میں نہیں بلکہ عوام کے اعتماد میں ہوتی ہے۔ امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ جمہوری معاشروں میں پولیس کی موجودگی شہری کو تحفظ کا احساس دلاتی ہے، خوف کا نہیں۔ وہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے طاقت کے مظاہرے سے زیادہ پیشہ ورانہ مہارت اور جوابدہی پر یقین رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شہری اور ریاست کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط رہتا ہے۔ ہانیہ احمد کی موت ایک خاندان کا ذاتی سانحہ ضرور ہے، لیکن اس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہو رہے ہیں۔ ریاست شہری کے تحفظ میں ناکام ہو جائے تو محرومی کا احساس جنم لیتا ہے، اور جب محرومی بڑھ جائے تو اعتماد ختم ہونے لگتا ہے۔ کسی بھی ریاست کے لیے اس سے بڑا خطرہ کوئی نہیں کہ اس کے شہری انصاف کے نظام سے امید کھو بیٹھیں۔ ہمارے ریڈ وارنٹ پر گرفتار ہونے والوں کے ڈیتھ وارنٹ میں تبدیل ہونے پر تحفظات اور تشویش رکھتے ہیں۔ CCD انچارج چٹھہ صاحب پینٹ کوٹ جیب میں رومال کے ساتھ تعزیت پر گئے، اچھی بات یہ ہے مگر ادارے نہیں عوامی منصب پر بیٹھی وزیراعلیٰ یا وفاق کی علامت گورنر صاحب کو جا کر تعزیت کرنا چاہیے۔