راقم کی جنم بھومی چک نمبر 190/W.Bسے قریباًآٹھ کلومیٹر کے فاصلہ پر ملتان،وہاڑی روڈ پے ضلع وہاڑ ی میں مقام گڑھا موڑ ہے ،آج سے قریباً تیس سال قبل ایک سرکاری بنک،ایک ہائی سکول فار بوائز، ایک ڈسپنسری، اشیاءضرورت کی چند دوکانیں، اور یونین کونسل اور بوہڑ کا درخت اُس کا کل اثاثہ تھا ، اسکی آبادی بھی واجبی اور بے ترتیب تھی،بجلی کی ترسیل دور دراز سے جاری تھی،ماضی میں چند ایک جننگ فیکٹری اور آئل ملز تھیں جو مقامی افراد کے روزگار کا ذریعہ تھیں۔ مذکورہ مدت میں انتظامی طور پر جن سہولیات میں اضافہ ہوا ہے، ان میں ڈسپنسری کا اپ گریڈ ہو کر رورل ہیلتھ سنٹر بن جانا ہے، گریڈ سٹیشن کا بننا، ہائی سکول کا ہائر سیکنڈری کا درجہ پا نا، علاوہ ازیں، زرعی دفتر لائبریری اور پولیس اسٹیشن کا قیام بھی خوبصورت اضافہ ہے، تجارتی طور جتنی ترقی گڑھاموڑ کا مقدر بنی ہے وہ ٹبہ سلطان پور، جہانیاں،دوکوٹہ کو بھی نصیب نہیں ہوئی ، ایک محتاط اندازے کے مطابق کم و بیش 600 دوکانیں یہاں موجود ہیں، ہوٹل، ریسٹورنٹ ،خوانچہ فروش اس کے علاوہ ہیں، اس مقام پر قریباً ہر برینڈ کا بنک قائم ہے پرائیویٹ سکولز، کالجز،شفاخانے، ہسپتال، میڈیکل سٹورز، کلینکل لیبارٹیز ،آٹو ورکشاپس، فاسٹ فوڈز کی شاپس بھی یہاں پائی جاتی ہیں، ایک اندازے کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر دسیوں لاکھ کا کاروبار ہو رہا ہے شادی ہال،پٹرول پمپس،سبزی منڈی،اور آڑھت کا کاروبار بھی ہل من مزید کی کیفیت پیدا کر رہا ہے، اگر یہ کہا جائے کہ بل اور بالواسطہ اس تجارتی مرکز سے سرکار کو روزانہ کی بنیاد پر بھاری بھر شرح سے روزانہ ٹیکس وصول ہو رہا ہے تو بے جا نہ ہوگا۔
اس کے باوجود ضلعی انتظامیہ نئی مونسپل کمیٹی بنانے کی تجاویز مانگتی ہے تو اسکی بشرف نگاہ اس تجارتی مرکز پر نہیں ٹھہرتی، اس مقام کو ساٹھ کی دہائی سے یونین کونسل کا ہی اعزاز حاصل ہے، کھگہ ،کھچی ، منیس ،ترین ، بھابھہ ،آرائیں خاندانوں کے سیاسی خوانوادے اقتدار پر براجمان رہنے کے باوجود بھی اس مقام کو مونسپل کمیٹی کا درجہ تاحال نہیں دلواسکے، اخباری ذرائع بتاتے ہیںمونسپل کمیٹی کا درجہ دینے کے احکامات 2023
میںبھی صادر ہوئے ،چار چکوک 94/W.B، ,102/W.B,96/W.B100/W.Bظہیر آباد شامل کئے گئے،اور 37045مردو خواتین پر مشتمل آبادی ظاہر کرتے ہوئے، اسکی ریوینو حیثیت کی تبدیلی کا پروانہ جاری ہوا تھا۔ حکم نامہ کی روشنائی خشک ہونے سے قبل ہی واپس لیا گیا، اس میں کون سی مصلحت کارفرما تھی اس پر راوی دانستہ خاموش ہے۔
ضلعی ا نتظامیہ وہاڑی کے تازہ عوامی فرمان کے مطابق جن مقامات کو مونسپل کمیٹی کی حیثیت دینے کے لئے تجاویز مانگی گئی ہیں، ان میں گڑھا موڑ کا نام شامل نہیں ہے ،اس فعل سے سیاسی عمل دخل اور بد نیتی کی بوآتی ہے، نجانے اہل گڑھاموڑ کی ”سیاسی ریاضت“ میں کون سی کمی رہ گئی ہے کہ مجوزہ نئی مونسپل کمیٹی کی فہرست سے نکال باہر کیا ، حالانکہ مونسپل کمیٹی کا درجہ دینے کے لئے جو قواعد ضوابط درکار ہیں، یہ مقام اِس پر پورا اترتا ہے،عام شہری یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ ساٹھ کی دہائی سے قائم یونین کونسل کا ”سٹیٹس“ حلقہ کی انتظامی،سماجی اور تجارتی ترقی کے بعد باوجود بھی نہیں بدل رہا ہے تو پھر کب بدلے گا،سیاسی مقامی شخصیات سے اور کتنی ریاضت درکار ہے؟۔
گڑھا موڑ کی آبادی محتاط اندازے کے مطابق 6000ہزار سے زائد ہے، چار یونین کونسل کے دیہاتوں کا یہ صرف تجارتی ہی نہیں بلکہ انتظامی مرکز بھی ہے، سیکڑوں مردو خواتین یہاں خریداری کے علاوہ ہسپتالوں، بینکوں،زرعی اور ایجوکیشن کے دفاتر میں آتے ہیں ان کے لئے عوامی ٹائیلٹس تک تعمیر نہیں ہیں وہاڑی کی ضلعی انتظامیہ کی آنکھوں سے درینہ مسئلہ کیسے اوجھل رہا؟ نادرا اور واپڈ دفاتر تک رسا ئی کے لئے خواتین کو بھی پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرناپڑتا ہے، ان دفاتر کا یہاں قیام وقت کی ضرورت ہے۔ملحقہ چکوک میں سرکاری اراضی کے حصول سے مذکورہ دفاتر، ماڈل پولیس سٹیشن،غلہ اور سبزی منڈی کا قیام ممکن ہے، اس سے گڑھا موڑ کومونسپل کمیٹی کا رتبہ حاصل کرنے میں آسانی بھی ہوگی اوراہل علاقہ بھی مستفید ہوں گے۔ الخدمت فاﺅنڈیشن کے واٹر فلٹر پلانٹ کے علاوہ سرکاری طور مقامی آبادی کے لئے صاف شفاف پانی کی سہولت بھی میسر نہیں ؟۔ مذہبی فریضہ کی ادائیگی کے لئے جنازہ اور عید گاہ تک بھی میسر نہیں ، نسل نو کے لئے کھیل کا میدان، لیڈیز پارک ،مرد و خواتین کے لئے ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ نہیں ، نہ ہی علاج مال مویشیوں کےلئے وٹرنری ہسپتال ہے تاکہ کسان مستفید ہو سکے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کے نام سے یہاں کا رورل ہسپتال بھی ہے، مگر میڈیکل آفیسر اور سپشلسٹ ڈاکٹرز،سٹاف کی کمی بتائی جاتی ہے ،رات کے اوقات میں لیڈی ڈاکٹر نہ ہونے کا دکھ وہی غریب خاندان سمجھ سکتاہے، جس کی بیوی یا بیٹی، بہن کو ایمرجنسی میں اسکی ضرورت ہو،ذرائع بتاتے ہیں، اس سنٹر کی اپنی ایمبولینس بھی نہیں ہے، دیہاتوں میں بیسک ہیلتھ سنٹر کے قیام کا شاندار پروگرام جونیجو عہد میں شروع ہوا، ڈاکٹرز اور سٹاف کی رہائش گاہیں بھی بنیں تاکہ24گھنٹے سہولت میسر ہو چند چکوک میں یہ منصوبہ بھی بد انتظامی کی نذر ہوچکا ہے۔ موٹر وے تک رسائی چند کلومیٹر کی دوری پرہے، تاجروں کی بڑے شہروں تک رسائی میںگڑھاموڑ تا خانیوال کی خستہ حال سٹرک رکاوٹ ہے نئے اداروں کے قیام کے لئے کوئی صاحب ثروت خان محمد کھوکر، حاجی شفیع جمال ،پروفیسر عبد الجبارکے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی اراضی صدقہ جاریہ کے طور پرپیش کرے جس سے مخلوق خدا کا بھلا ہو۔
اب کون ہے جو خان محمد کھوکھر اورچوہدری میاں زمان گجر (مرحومین) کی طرح صوبائی الیکشن میں شریک ہو کر مقامی قیادت کرے؟یہاں نظریاتی نہیں شخصی سیاست کا چلن ہے،کسی سیاسی جماعت کا یہاں کوئی دفتر نہیں، تاہم اسلامک سنٹر میں جماعت اسلامی گڑھاموڑ کا دفتر زیر تعمیر ہے۔ صاحب ثروت افراد بھی معروف سیاسی شخصیات کے سائے میں پل کرجواں ہونے میں اپنی نجات چاہتے ہیں، گڑھاموڑ کو مونسپل کمیٹی کا رتبہ نہ ملنے کی بنیادی وجہ مقا می سیاسی قیادت کا نہ ہونا بھی ہے، فی الوقت ایک حل یہ بھی ہے کہ حلقہ کے زیرک، معاملہ فہم ،دوراندیش افراد پر مشتمل سول سوسائٹی کا قیام عمل میں لایا جائے، اسی پلیٹ فارم سے ضلعی انتظامیہ سے لے کر اعلیٰ حکام تک اس ایشو سے متعلق تحریری طور پر آگاہ کیا جائے، کیونکہ بہت سے مسائل کا حل گڑھا موڑ کی انتظامی اور ریونیو حیثیت کی تبدیلی سے وابستہ ہے۔