Thu, September 17, 2026

تعلیم یافتہ مگر غیر محفوظ عورت

تعلیم یافتہ مگر غیر محفوظ عورت

تحصیلِ علم کو ہم نے صدیوں سے نجات کا زینہ سمجھا، اسے اندھیروں میں چراغ، جہالت کے صحرا میں آبِ حیات اور معاشرتی جمود کے خلاف خاموش بغاوت کہا گیا۔ ہم نے اپنی بیٹیوں کو کتاب تھماتے ہوئے یہ یقین دلایا کہ ڈگری اُن کے ہاتھ میں ایک ڈھال ہو گی۔ ایک ایسی ڈھال جو زمانے کی سختیوں، تعصبات اور نا انصافیوں سے انہیں بچا لے گی۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا حقیقت میں ایسا ہوا؟ کیا تعلیم نے عورت کو محفوظ بنایا؟ یا ہم نے علم کو صرف سند تک محدود کر کے اس کے سماجی، اخلاقی اور قانونی مضمرات کو نظر انداز کر دیا؟
آج کی عورت اعلیٰ اسناد حاصل کر رہی ہے، پیشہ ورانہ مہارتوں سے لیس ہے، اداروں کی سربراہی کر رہی ہے، معاشی طور پر خود مختار بھی ہے اور زندگی کے ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہے لیکن اس کے باوجود وہ عدم تحفظ کے حصار میں کیوں کھڑی ہے؟ یہ تضاد محض اتفاق نہیں یہ ہمارے سماجی ڈھانچے، قانونی نفاذ اور اجتماعی شعور کی کمزوریوں کا نتیجہ ہے۔ ہم نے تعلیم کو کامیابی سے توجوڑا مگر تحفظ سے نہیں۔ گویا ڈگریاں تو دی جا رہی ہیں مگر تحفظ فراہم نہیں کیا جا رہا، انہیں اعتماد تو سکھایا جا رہا ہے مگر اعتماد کی فضا نہیں دی جا رہی۔ ہم نے سمجھا کہ اگر عورت پڑھ لکھ جائے گی تو وہ خود کو بچا لے گی لیکن حقیقت یہ ہے کہ عدم تحفظ صرف جہالت کا مسئلہ نہیں یہ طاقت کے عدم توازن، سماجی رویوں اور قانون کے نفاذ کی کمزوری کا مسئلہ ہے۔ گلوبل جینڈر گیپ رپورٹس بارہا اس حقیقت کی نشاندہی کرتی رہی ہیں کہ تعلیم میں بہتری کے باوجود خواتین کو معاشی مواقع، قیادت اور ذاتی تحفظ میں مساوی مقام حاصل نہیں ہو پاتا۔ یعنی ڈگریا ںبڑھتی ہیں مگر تحفظ کی ضمانت نہیں۔ تعلیم انسان کو شعور دیتی ہے، خود آگاہی عطا کرتی ہے، سوال کرنے کا حوصلہ دیتی ہے اور حق و باطل میں تمیز کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ مگر ہمارے معاشرے کا ایک کربناک تضاد یہ ہے کہ یہاںعورت جتنی زیادہ تعلیم یافتہ ہے اتنی ہی غیر محفوظ ہے۔ وہ جتنی زیادہ با خبر ہے اتنی ہی زیادہ نشانے پر ہے۔ وہ جب دفتر کی دہلیز پار کرتی ہے تو اسے اپنی قابلیت ثابت کرنے اور اپنے وقار کے تحفظ کی دوہری جنگ لڑنا پڑتی ہے۔ ہراسانی کے قوانین موجود ہیں لیکن شکایت درج کرانے سے پہلے ہی مستقبل کے خاتمے، سماجی بدنامی کا خوف، کردار کشی کا خدشہ سب مل کر اسے خاموش رہنے پر مجبور کر دیتے ہیںکیونکہ ہمارا سماج سوال اب بھی صرف عورت سے کرتا ہے مجرم سے نہیں۔ ہم نے عورت کو تعلیم تو دی مگر اس کے لیے کام کی فضا محفوظ بنانے میں آج تک ناکام رہے۔ ہم نے اسے بار بار معاشی خود مختاری کا درس دیا مگر اس کے لیے عزتِ نفس کی ضمانت فراہم نہ کی۔ کیا وہ اپنے دفتر جاتے ہوئے، گھر لوٹتے ہوئے، سوشل میڈیا پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے یا کسی اختلافِ رائے کا حق استعمال کرتے ہوئے خود کو بے خوف محسوس کرتی ہے؟ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ تعلیم نے عورت کے اندر شعور تو بیدار کیا مگر ہمارے معاشرتی ڈھانچے کی فرسودہ اینٹیں تبدیل نہیں کیں۔ مسئلہ صرف جسمانی عدم تحفظ کا نہیں ہے یہاںذہنی اور سماجی عدم تحفظ بھی اتنا ہی سنگین ہے۔ ہراسانی صرف سڑک پر نہیں ہوتی دفاتر میں بھی ہوتی ہے۔ کردار کشی صرف گلیوں میں ہی نہیں ہوتی ڈیجیٹل دنیا میں بھی کی جاتی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ عورت جب قلم اٹھاتی ہے، جب وہ کسی نا انصافی کے خلاف آواز بلند کرتی ہے تو اسے خاموش کرانے کی منظم کوششیں کی جاتی ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر تعلیم کا مقصد کیا ہے؟ اگر تعلیم عورت کو صرف معاشی خود کفالت تک محدود رکھے مگر اس کے وجود کو تحفظ فراہم نہ کرے تو کیا یہ مکمل تعلیم ہے؟ تعلیم کا اصل جوہر تو آزادیِ فکر، وقارِ ذات اور سماجی احترام میں پوشیدہ ہے۔ اگر ایک تعلیم یافتہ عورت کو اپنے ہی گھر اپنے ہی دفتر، اپنے ہی معاشرے میں خود کو ثابت کرنا پڑے تو یہ اجتماعی ناکامی ہے۔ ہمارے ہاں اس ترقی یافتہ دور میں بھی ایک عجیب نفسیاتی تضاد پایا جاتا ہے۔
ہم اپنی بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانے پر فخر کرتے ہیں مگر ان کی خود مختاری سے خوفزدہ بھی رہتے ہیں۔ ہم یہ تو چاہتے ہیں کہ وہ ڈاکٹر بنیں، افسر بنیں، پروفیسر بنیں مگر ہم آج بھی یہ برداشت نہیں کر پاتے کہ وہ اپنی زندگی کے فیصلے خود کریں اور یہی دوغلا پن اس عدم تحفظ کی اصل جڑ ہے۔ تعلیم یافتہ عورت کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ وہ سوال کرتی ہے۔ وہ روایتوں کو اندھا دھند قبول نہیں کرتی، وہ دلیل چاہتی ہے، برابری چاہتی ہے اور یہی مطالبات بعض حلقوں کو ناگوار گزرتے ہیں چنانچہ اسے دبانے کے لیے ہر بار سماجی دبائو، جذباتی بلیک میلنگ اور کردار کشی جیسے ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تعلیم یافتہ عورت محض ایک فرد نہیں ایک عہد کی علامت ہے وہ ایک معاشرے کے ارتقا کی نشانی ہے۔ اگر وہ غیر محفوظ ہے تو دراصل پورا معاشرہ ہی غیر محفوظ ہے کیونکہ جس سماج میں شعور رکھنے والے افراد کو خوف میں رکھا جائے وہاں فکری بانجھ پن جنم لیتا ہے اور ترقی کی رفتار سست ہو جاتی ہے۔ وقت کی اشد ضرورت ہے کہ ہم عورت کی تعلیم کو اس کے تحفظ سے جوڑیں، اس کے وقار کو اس کی ڈگری سے آگے لے جائیں اور اس کا شعور اس کی کمزوری کے بجائے طاقت بنائیں۔ ہمیں ایسے تعلیمی نصاب کی ضرورت ہے جوصرف عورت کو نہیں بلکہ مرد کو بھی یہ سکھائے کہ احترام، برابری اور تحفظ انسانی قدر ہیں نہ کہ صنفی رعایت۔ اگر ہم نے اپنی بیٹیوں کو قلم دیا ہے تو ہمیں ان کے ہاتھوں سے خوف کی لرزش بھی ختم کرنا ہو گی۔ اگر انہیں خود مختاری کا درس دیا ہے تو ہمیں ہی اُن کی آزادی کی ضمانت بھی دینا ہو گی۔ ہمیں ہی انہیں ایک ایسا معاشرہ بھی دینا ہو گا جہاں وہ بے خوف ہو کر جی سکیں اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔ یہی حقیقی ترقی اور اصل روشن خیالی ہے۔

ٹیگز: