عظیم انقلابی لینن نے کہا تھا کہ ’’ مستقبل اُسی کا ہے جس کے ساتھ نوجوان ہیں۔‘‘ لیکن میرا خیال ہے کہ ’’مستقبل اُسی کا ہوتا ہے جس کے ساتھ تربیت یافتہ نوجوان ہوتا ہے۔‘‘ غیر تربیت یافتہ نوجوان طاقت کے بل بوتے پر اپنی خواہشات کو مطالبات میں ڈھال لیتا ہے جب کہ تربیت یافتہ نوجوان اپنے سیاسی ٗسماجی ٗمذہبی ٗ اخلاقی نظریات کو مکالمے کے الائو میں ڈال کر پختہ کرنے کے بعد مطالبے کی شکل دیتا ہے۔ خواہشات اورمطالبات میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ خواہش ذاتی اورانفرادی ہوتی ہے لیکن مطالبہ اجتماعی اورمکمل سائنسی علم ہے ۔ چند دن پہلے استحکام ِپاکستان پارٹی پنجاب کے جنرل سیکرٹری اور ممبر پنجاب اسمبلی شعیب صدیقی سے تفصیلی ملاقات ہوئی ۔ اس ملاقات میں میرا بیٹا تخلیق جمشید جس کی عمر 10سال ہے وہ بھی میرے ہمراہ تھا۔ موجودہ سیاسی معروض پر تفصیلی بات چیت کے بعد نوجوانوں کی سیاسی تربیت کے حوالے سے بات شروع ہوئی تو گفتگو طویل ہوتی چلی گئی۔شعیب صدیقی سے میرا بھائیوں جیسا تعلق ہے لیکن یہ تعلق کبھی ایسا نہیں تھا کہ جون ٗجولائی 2004ء میں کینٹ میں ہونے والے والے ضمنی انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار عمر سرفراز چیمہ کے مد مقابل شعیب صدیقی ہی الیکشن میں حصہ لے رہے تھے۔ ایسی چلچلاتی دھوپ کہ چیلیں بھی انڈے چھوڑ رہی تھیں ۔ آکسیجن کی کمی لیکن میں بطور جنرل سیکرٹری لاہور اُس وقت اس الیکشن میں پوری تندہی سے جُتا ہوا تھا ۔ پھر وہ الیکشن شعیب صدیقی نے بڑے مارجن سے جیت لیا اور ہم واپس اپنی تنظیم سازی میں جُت گئے۔ شعیب صدیقی سے دوبارہ تحریک انصاف میں تعلق قائم ہوا ۔ہم نے بہت سیاسی کام اکھٹے کیا اور جس جلسے کو آج بھی تحریک انصاف اپنا سب سے بڑا معرکہ تصور کرتی ہے یعنی2011ء میں مینار پاکستان کا پہلا جلسہ ٗ اُس کے انتظامات بھی شعیب صدیقی نے عبد العلیم خان کے کہنے پر کیے تھے جب کہ اُس وقت ابھی عبد العلیم خان نے تحریک انصاف میں شمولیت بھی نہیں کی تھی۔
تحریک انصاف میں شعیب صدیقی نے اپنی انتظامی صلاحیتوں سے بانی چیئرمین سمیت سب کے دل جیت لئے اوربانی کو ہرجلسے میں شعیب صدیقی کے انتظامات اور ایڈمنسٹریٹو خوبیوں کا ٗجبکہ عبد العلیم خان کی شاہ خرچی کا اعتراف کرنا پڑتا تھا ۔ عمران خان وزیر اعظم بننے کے بعد عمران نیازی بن کر سامنے آیا تو پھر تحریک انصاف کی صفو ں میں کھلبلی مچ گئی۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ کون کیا کررہا ہے لیکن سب یہ بھی جانتے تھے کہ کون کون کیا کیا کررہا ہے ۔ دوستیوں میں پہلے ناراضیاں ہوئیں اور پھر علیحدگیاں ہونا شروع ہو گئی ۔ عمران نیازی نے وزیر اعظم بننے سے پہلے بالکل درست کہا تھا کہ ’’اب تحریک انصاف کو تحریک انصاف ہی برباد کرسکتی ہے۔‘‘ اور پھر بربادی کا عمل شروع ہو گیا ۔ عمران نیازی نے دوستوںکو دشمن اور اختلاف کرنے والوں کو مخالف بنا لیا ۔ عبد العلیم خان اپنے تمام تر خلوص اورسچے جذبے کے باوجود عمران نیازی کے نئے مقرر کردہ ’’معیارات ‘‘پر پورا نہ اتر سکے۔ عمران نیازی پرپاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کامیاب عدمِ اعتماد ہوا تو وہ بجائے اسمبلی میں بیٹھنے کے سڑک پرآگیا اور پھر اِس ملک میں خوارج اور فتنہ الہندوستان کا بیانیہ راج کرنا شروع ہو گیا ۔ اداروں پر وہ حملے ہوئے جس کی مثال پاکستان کی تاریخ میں اِس سے پہلے نہیں ملتی ۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو ورغلاکر ٗ گمراہ کرکے ٗ غیر اخلاقی او ر غیر سماجی رویوں میں ڈھال کرریاست پر حملہ کرا دیا گیا۔ قومی اسمبلی اتحادیوں کے پاس چلی گئی ۔ افواج ِ پاکستان کے سربراہ اور دوسرے جرنیلوں سمیت عدلیہ ٗ الیکشن کمیشن اورقانون ساز اداروں ٗ سب کو عمران نیازی نے اپنے جعلی اسلامی ٹچ ٗ جعلی اینٹی امریکہ ٗ جعلی اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیوں کے جھانسوں میں پھانس لیا ۔غیر تربیت یافتہ سیاسی ورکر کو کوئی بھی سبز باغ دکھایا جاسکتا ہے اورایساہم نے دیکھا بھی اور سنا بھی ۔
شعیب صدیقی سے طویل ملاقات میں اُن کو بھی یہی مشورہ دیا کہ جب تک کوئی سیاسی جماعت اپنی سیکنڈ لیڈر شپ پیدا نہیں کرتی اُسے بانجھ تصورکیا ہے اور پاکستان کی سیاسی جماعتو ں کو پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔ بھٹو کے ساتھ تربیت یافتہ سیاسی ورکرتھے سو وہ بہت کچھ کرنے میں کامیا ب ہو گیا اوروہ ساراورکر بائیں بازو کا تربیت یافتہ تھا لیکن جب مقتول بھٹو نے سٹڈی سرکل بند کرائے تو آج کی پیپلز پارٹی آپ کے سامنے ہے۔ عمران نیازی کے پاس غیر تربیت یافتہ ہجوم تھا لیکن وہ نہ تو اُن کی تربیت کرسکا اورنہ ہی انہیں تنظیمی ڈھانچے میں ڈھال سکا ۔ شاید وہ تنظیم بنانا ہی نہیں چاہتا تھا کہ جمہوری سیاست میں اداروں پر حملے نہیں ہوتے یہ کام غیر تربیت یافتہ اوریاست کی طاقت نے ناواقف لوگ ہی کرتے ہیں سو اُس نے جو کرانا تھا کرا لیا۔ کتنی عجیب بات ہے کہ ہم نے ڈاکٹر بنانے کیلئے میڈیکل کالج بنا رکھے ہیں انجینئرز کیلئے انجینئرنگ یونیورسٹی ہے ٗ جرنیل بنانے کیلئے اکیڈمیاں ہیں ٗ سول بیوروکریسی بنانے کیلئے اکیڈمیاں اورسہولتوں کی بھر مار ہے لیکن جنہوں نے ان تمام اداروں کو چلانا ہوتا ہے اُن کی تربیت کاکوئی بندوبست نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم یافتہ اورتربیت یافتہ بیوروکریٹ ان پڑھ ٗجاہل اورغیر تربیت یافتہ سیاسی لیڈر کو جب اورجہاں چاہتا ہے چونا لگا لیتا ہے ۔ سیاستدان قوم کے لیڈرز اور ریاستی اہلکار ملازم ہوتے ہیں یہی آئین پاکستان میں لکھا ہے
۔برادرم شعیب صدیقی نے میرے ساتھ مکمل اتفاق کیا کیونکہ میں نے ثبوت کے طور پر دس سالہ تخلیق جمشید سے عابد حسین عابدکی طویل نظم ’’سوال ‘‘ اُنہیںسنوائی تو شعیب صدیقی کے چہرے پر خوشی اورفخرکے تاثرات تھے انہوں نے تخلیق کو پیار بھی کیااورانعام بھی دیا ۔ عنقریب آئی پی پی نوجوانوں کی سیاسی تربیت کا پروگرام ضرور شروع کرے گی جس کیلئے ضرور ی کام شروع ہوچکا ہے اوراس کے سٹڈی سرکل اورکامیاب ہونے والے سیاسی ورکروں کو اسناد اور تحسین سے بھی نوازا جائے گا تاکہ ہمارا مستقبل آئندہ کسی بہروپیے کے جھانسے میں نہ آئے ۔ میں تویہاں تک کہنے میں خو د کو حق بجانب سمجھتا ہوں کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو چاہیے کہ وہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو اپنے ورکر ز کی تربیت کا پابند کریں اس سے ایک توموروثی سیاست کاخاتمہ ہو گا اور دوسرا زیادہ محب وطن ٗ ریاست اوراس کے اداروںکا احترام کرنے والے پیدا ہوں گے ۔ یقینا یہ عمل کچھ وقت لے گا لیکن دیر پا ضرور ہو گا جیسے آج بھی پیپلز پارٹی میں ہمیں تربیت یافتہ چراغ کہیں نہ کہیں ٹمٹماتے دکھائی ضرور دیتے ہیں ۔ تعداد کم ہونے کی وجہ سے وہ اس مکمل تاریکی کو مٹانے میں تو ناکام ہیں لیکن بہت زیادہ تاریکی میں بہت کم روشنی بھی امید کی کرن ضرور ہوتی ہے کہ اس سے دوسرے چراغ چلائے جا سکتے ہیں ۔ورنہ یہ سیاسی جماعتیں غیر تربیت یافتہ ورکروں کامقتل ہی رہیں گی اور ریاست کو اپنے ادارے اِن سے ہمیشہ بچا کر رکھنا ہوں گے۔