پاکستان میں وفاقی محتسب کا ادارہ ایک ایسا آئینی اور انتظامی فورم ہے جو عام شہری کو سرکاری اداروں کی بدانتظامی، تاخیر، اختیارات کے ناجائز استعمال اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے کا حق دیتا ہے۔ یہ ادارہ 1983 میں قائم ہوا اور گزشتہ چار دہائیوں سے عوام اور ریاست کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اگرچہ اس ادارے کا بنیادی تصور ابتدا ہی سے نہایت اہم اور عوام دوست تھا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی سامنے آتی رہی کہ اس کی افادیت کا دار و مدار ادارے کے سربراہ، اس کے وژن اور انتظامی طرزِ عمل پر ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بعض ادوار میں یہ ادارہ محدود اثر رکھتا نظر آیا، جبکہ بعض ادوار میں یہ حقیقی معنوں میں عوامی انصاف کی علامت بن کر ابھرا۔ دسمبر 2021 میں جناب اعجاز احمد قریشی نے وفاقی محتسب کی ذمہ داریاں ایسے وقت میں سنبھالیں جب عوامی شکایات میں اضافہ، سرکاری اداروں کی پیچیدگی اور شہریوں کی بڑھتی ہوئی بے چینی ایک حقیقت بن چکی تھی۔ انہوں نے اپنے وسیع انتظامی تجربے، غیر معمولی وژن اور عوام دوست سوچ کے ذریعے وفاقی محتسب کے ادارے کو نہ صرف فعال بنایا بلکہ اسے عوامی اعتماد کا مرکز بھی بنا دیا۔ ان کے دور کی سب سے نمایاں خصوصیت کارکردگی میں تسلسل، فیصلوں کی رفتار اور عمل درآمد کی مضبوطی ہے۔ جناب اعجاز احمد قریشی کے عہد میں وفاقی محتسب کے پاس آنے والی شکایات کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ بظاہر یہ اضافہ کسی کمزوری کی علامت محسوس ہو سکتا ہے، مگر حقیقت میں یہ عوام کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا مظہر ہے۔ شہری اب یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ان کی آواز سنی جائے گی اور ان کے مسائل کا بروقت حل ممکن ہے۔ لاکھوں شکایات کا اندراج اور ان کا ازالہ اس ادارے کی عملی افادیت واضح کرتا ہے۔ اس دور میں ایک اہم پیش رفت فیصلوں پر عمل درآمد کی شرح میں نمایاں بہتری ہے۔ ماضی میں ایسا ہوتا رہا کہ سفارشات جاری تو ہو جاتیں مگر متعلقہ ادارے ان پر سنجیدگی سے عمل نہیں کرتے تھے۔ جناب اعجاز احمد قریشی کے دور میں یہ رجحان تبدیل ہوا اور وفاقی محتسب کے فیصلے محض کاغذی کارروائی کے بجائے عملی نتائج دینے لگے۔ اس سے نہ صرف ادارے کا وقار بلند ہوا بلکہ سرکاری محکموں میں جوابدہی اور قانون کی پاسداری کا شعور بھی پروان چڑھا۔ انصاف تک رسائی کو آسان بنانا
جناب اعجاز احمد قریشی کی پالیسی کا ایک نمایاں پہلو رہا۔ انہوں نے اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ انصاف صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اسی سوچ کے تحت آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، جنوبی پنجاب اور دیگر پسماندہ علاقوں میں وفاقی محتسب کے علاقائی دفاتر قائم کیے گئے۔ ان دفاتر نے ہزاروں شہریوں کو اپنے ہی علاقوں میں انصاف فراہم کیا، جو ماضی میں طویل سفر، اضافی اخراجات اور ذہنی اذیت کے باعث ممکن نہ تھا۔ قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ جناب اعجاز احمد قریشی نے اپنے دور میں صدارتی احکامات کے ذریعے IRD یعنیInformal Resolution of Disputes کا نظام متعارف کرایا، جس کا مقصد یہ تھا کہ وفاقی محتسب کے ادارے کے ذریعے عام شہریوں کے مسائل کا فوری، مو¿ثر اور باہمی رضامندی پر مبنی حل ممکن بنایا جا سکے۔ اس اقدام کو پورے ملک میں شاندار پذیرائی حاصل ہوئی۔ اسی کی بدولت شہر شہر، نگر نگر کھلی کچہریاں لگائی گئیں، جہاں عوام کے مسائل براہِ راست سنے گئے اور فوری، عملی اور رضامندانہ حل فراہم کیا گیا۔ میڈیا نے بھی اس جدت کو بھرپور پذیرائی دی۔ یہ ایک عمدہ مصالحتی اور پنچائتی نظام کے قیام کی مثال بن گیا، جس کے تحت شہریوں کو ان کے بنیادی انسانی حقوق اور انصاف کے اصولوں کے مطابق مفت انصاف ان کی دہلیز پر فراہم کیا جانے لگا۔ ٹیکنالوجی کے مو¿ثر استعمال نے بھی وفاقی محتسب کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کر دیا ہے۔ آن لائن شکایات، ویڈیو سماعتیں، ڈیجیٹل فالو اپ اور واٹس ایپ کے ذریعے رابطے نے انصاف کے عمل کو نہایت سہل بنا دیا ہے۔ بزرگ افراد، خواتین اور بیرونِ ملک پاکستانی اب گھر بیٹھے شکایات درج کرا سکتے ہیں اور سماعت میں شریک ہو سکتے ہیں۔ یہ اقدامات شفافیت، سہولت اور اعتماد کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ وفاقی محتسب کے کردار کو محض شکایات کے ازالے تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ جناب اعجاز احمد قریشی نے اسے ایک اصلاحی ادارے میں تبدیل کر دیا ہے۔ بار بار سامنے آنے والی انتظامی خامیوں کی نشاندہی، سرکاری اداروں کو اصلاحی سفارشات اور مستقبل میں بدانتظامی کے سدباب کے لیے رہنمائی ان کے دور کی ایک اہم پہچان ہے۔ یوں وفاقی محتسب کا ادارہ ردعمل کے بجائے پیشگی اصلاح کی سمت گامزن دکھائی دیتا ہے۔ جناب اعجاز احمد قریشی نے پنجاب یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز اور امریکہ کی پنسلوانیا سٹیٹ یونیورسٹی سے پبلک پالیسی اینڈ پلاننگ میں تعلیم حاصل کی۔ 1972 میں سول سروس آف پاکستان میں شمولیت اختیار کی اور چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا و سندھ، وفاقی سیکرٹری ریلوے اور ماحولیات سمیت متعدد اعلیٰ عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ وہ کینیڈا میں پاکستان کے قونصل جنرل اور اقوام متحدہ کی باڈی انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن میں پاکستان کے مستقل نمائندے بھی رہے۔ 2005 کے زلزلے میں شاندار خدمات پر انہیں تمغہ ایثار سے نوازا گیا۔ وہ ایشین اومبڈسمین ایسوسی ایشن کے صدر اور متعدد عالمی فورمز کے رکن بھی ہیں، جو پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ بطور وکیل میں سول، فوجداری، کسٹمز اور وفاقی اداروں جیسے کسٹم، ایف آئی اے، واپڈا وغیرہ سے متعلق مقدمات ہینڈل کرتا ہوں، میرا ذاتی مشاہدہ اور عوامی ردعمل یہ ہے کہ وفاقی محتسب کا ادارہ مظلوم اور پریشان حال شہری کے لیے ایک مضبوط ڈھارس بن چکا ہے۔ یہاں فوری شنوائی، مو¿ثر داد رسی اور بروقت انصاف عملی صورت میں نظر آتا ہے۔ یہ ادارہ شاید ملک کا واحد فورم ہے جو سستا ترین نہیں بلکہ مکمل طور پر مفت انصاف اور وہ بھی دہلیز پر فراہم کر رہا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وفاقی محتسب کا ادارہ اگرچہ کئی دہائیوں قبل قائم ہوا، مگر اس کی نمایاں کارکردگی اور عوامی پذیرائی جناب سید طاہر شہباز اور موجودہ وفاقی محتسب جناب اعجاز احمد قریشی کے ادوار میں بھرپور انداز میں سامنے آئی۔ اس سے قبل یہ ادارہ کسی حد تک غیر فعال یا علامتی نوعیت کا تھا۔ اطلاعات کے مطابق جناب اعجاز احمد قریشی کا دورِ تکمیل کے قریب ہے۔ بلاشبہ وہ مبارکباد اور ستائش کے بھرپور مستحق ہیں، انہوں نے خوشامد، خود ستائشی اور نمائشی اقدامات کے بجائے حقیقی عوامی اور قومی خدمت کو اپنا شعار بنایا۔ کاش ایسے ہی دیانت دار، متحرک اور عوام دوست سربراہ دیگر قومی اداروں کو بھی میسر آئیں، تاکہ ریاستی نظام حقیقی معنوں میں عوامی خدمت کا مظہر بن سکے۔ جناب اعجاز احمد قریشی کے پورے کیریئر اور کردار پر کوئی بھی انگلی کبھی نہیں اٹھائی گئی اور نہ ہی کوئی گرے ایریا (Gray Area) رہا۔ انہیں ایک ایسی باوقار اور شفاف کردار کی شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہے، جو ادارے پر اور عوامی اعتماد کو مزید مستحکم کرتی ہے۔