فلاڈلفیا میں دقیا نوس گورنر بنا۔ اس نے شہنشاہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے فلاڈلفیا کو خوبصورت اور زیادہ منظم بنانے کی ٹھان لی۔ دقیا نوس کی حکومت سے پہلے ہی بہت سی شورشوں کے باوجود، روم کی مادی ترقی اور شان و شوکت دنیا میں بطور مثال پیش کی جانے لگی تھی۔اسی بنا پر رومی خود کو متمدن ترین لوگ مانتے تھے جہاں فنون کی پرورش کی جاتی تھی، امور زندگی میں خصوصی پروٹوکولز کا خیال رکھا جاتا تھا اور یہاں خواص کے تکلفات نے ایک نئی طرح کی تہذہب کو بھی جنم دیا تھا۔دقیا نوس گورنر اور سینیٹر رہا بعد ازاں روم کا بادشاہ بھی بنا۔ اس دوران روم کو اپنی سخت پالیسیوں کی وجہ سے نئی مشکلات چ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ایڈرین کے نسبتاً پر امن دور میں ترقی کرنے والے روم کو دقیا نوس نے مکمل طور پر تبدیل کر دیا۔ اس فکری اور بعد ازاں مادی زوال کی طرف روم کی اشرافیہ کی نظر بھی نہ گئی جو دقیا نوس اپنی قدامت پسندی کی وجہ سے پیدا کر رہا تھا۔ انگلینڈ میں موجود شہنشاہ ایڈرین کے دور بنائی گئی ہڈرین وال روم کے فن تعمیر کا ایک نمونہ ہے جو دشمنوں سے حفاظت کے لیے بنائی گئی تھی۔
دقیا نوس نے فلاڈلفیا کی مادی ترقی اور شان و شوکت میں اضافے کے لیے وہاں کے قوانین کو مزید سخت بنا دیا۔ وہ مزاجاً سخت، خود پسند اور ظالم حکمران تھا۔ اس کا مقصد ایک طرف تو پیدا ہونے والے چینلز سے نمٹنا تھا اور دوسری طرف روم کی قدیم اور کلاسیکی روایات کا احیا تھا۔ اس نے جبراً لوگوں کامذہب تبدیل کرانا شروع کیا۔گورنری کے دوران ہی اس نے مذہبی تعصب کی بنیاد پر معاشرے کو بری طرح تقسیم کیا۔ یہ معاشرہ پہلے ہی طبقاتی تقسیم کا شکار تھا۔ دقیا نوس نے نہ صرف مذہبی اور نسلی تقسیم کو شدید تر کیا بلکہ اس حوالے سے سخت ترین سزاو¿ں کا سلسلہ بھی شروع کر دیا۔ روم کی تاریخ میں یہ رویہ وہ غلطی بنتا گیا جو روم کی سلطنت کی مکمل تباہی کا سبب بنی۔ اس کے نتیجے میں لوگوں کے مذہبی معاملات میں سب سے غالب جذبہ مزاحمت کا پیدا ہوا۔ مذہب ایک روحانی تحریک سے کہیں زیادہ انقلابی تحریک بنتا چلا گیا اور وہاں کے مسیحی مبلغین نے ظالم حکومت اور غیر متوازن معاشرے کے خلاف اپنے مذہبی ماخذات اور عقلی استدلال کو بھرپور استعمال کیا۔ یہ روش جوق در جوق لوگوں کو مسیحیت کی طرف راغب کرنے کا سبب بنی۔ صورت حال تیزی سے بدلنے لگی۔ اب روم میں مہنگائی بڑھ رہی تھی، تجارت کمزور ہو رہی تھی، خزانہ خالی ہو رہا تھا۔ دوسری جانب دقیا نوس عوام کو مزید مزاحمت پر اکسا رہا تھا۔ آج بھی روم میں دی جانے والی سزائیں تاریخ اور افسانوی روایات میں بد ترین مثالوں کی صورت میں پیش کی جاتی ہیں۔
حاکم اور محکوم کے درمیان پایا جانے والا فاصلہ تو ہر طبقاتی معاشرے کی شناخت رہا ہی ہے لیکن جب یہ فرق قوانین اور حقوق سلب کرنے سے لے کر بد ترین مظالم تک پھیل جائے تو انسانی آبادیوں کا پورا ڈھانچہ بکھر کر رہ جاتا ہے۔ اس طرح عدم مساوات اس وقت سلطنتوں کی تباہی کا سب سے پہلا محرک ثابت ہوتی ہے جب معاشرے اپنا اخلاقی وجود مکمل طور پر کھو دیتے ہیں۔
دقیا نوس نے پہلے سے بٹے اور پسے ہوئے معاشرے کو مزید تقسیم کر کے جن مظالم کا سلسلہ شروع کیا ان سے پوری سلطنت کا اخلاقی وجود ختم ہو گیا۔ رومی سلطنت کا خیا تھا کہ بچاریوں کی روحانی ریاضتوں اور بکھرتے ہوئے سماج کے ٹکڑوں کی ملمع کاری سے روم کو قائم دائم رکھا جائے گا اور اسے ترقی دی جائے گی۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ روم داخلی طور پر ایسی شکست و ریخت کا شکار ہو چکا تھا جو اس کی مکمل تباہی تک جاری رہی۔
لوگوں کے مذہبی اجتماعات مزاحمتی تحریک بنتے گئے۔ نئی ٹیکنالوجی سے آراستہ، ایک بڑی فوج اور سیاسی ڈھانچے پر مشتمل روم کی سلطنت اپنے وجود کا اخلاقی جواز فراہم کرنے سے بھی قاصر رہی۔ تاریخ میں متمدن، مہذب اور ناقابلِ تسخیر سمجھے جانے والا روم آنے والے دور کی مزاحمتی تحریکوں نے اپنے پاو¿ں تلے روند ڈالا۔ روم اپنی آب و تاب کے ساتھ خاکستر ہوگیا۔ آج ہم اس کے پر شکوہ انفراسٹرکچر اور آنکھوں کو خیرہ کر دینے والے تعیشات سے کہیں زیادہ اس کے عبرتناک احوال کا ذکر کرتے ہیں۔
ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ فلاڈلفیا کا شہر پنسلوانیا کی ریاست میں واقع ہے اور امریکہ کی آزادی میں اس شہر کا بڑا اہم کردار ہے۔ اسی شہر میں امریکہ کی آزادی کے اعلان پر دستخط ہوئے تھے۔
تاریخ بڑی ظالم شے ہے یہ ماضی کا حصہ ہونے کے باوجود حال میں زندہ رہتی ہے۔ تاریخی حوالے انسانی مستقبل کی پیشین گوئی کرتے ہیں اور بعض اوقات تاریخی کردار حال اور مستقبل میں اپنے واقعات سمیت چلتے پھرتے نظر آنے لگتے ہیں۔
ہمیں آج کی دنیا میں امریکہ اپنا اخلاقی وجود مکمل طور پر کھوتا ہوا نظر آتا ہے۔ امریکی سلطنت طویل عرصے سے اندرونی شکست و ریخت کا شکار ہے اور مادی ترقی کی پیچیدگیاں اسے زوال کی طرف دھکیلنے کے لیے کافی نظر آتی ہیں۔ خود امریکی عوام کو اپنے پالیسی سازوں اور حکمرانوں سے خطرہ لاحق ہے۔ جدید دنیا میں، تقسیم، رجعت پسندانہ رویہ اور قدیم استعماری مزاج ایسی ایسی مزاحمتی تحریکوں کو جنم دے چکے ہیں جو امریکہ کے نظریاتی خاتمے کے لیے کافی ہیں۔ ایسی صورت میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ایسی سلطنتوں کے باسیوں کی کسی دوسرے نظام میں زندگی بسر کرنے کی کوئی تیاری نہیں ہوتی۔ یہ کسی دوسری حیثیت میں زندہ رہنے کی مدافعت سے عاری ہونے کے باعث بہت تیزی سے ٹوٹتے اور بکھرتے ہیں۔ تاریخ لکھی جا رہی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اب کی بار مورخ کو منظر کتنی تیزی سے کروٹ بدلتے نظر آتے ہیں۔