Wed, September 16, 2026

خدمتِ خلق وسماج سیوا،حقیقی تصور

خدمتِ خلق وسماج سیوا،حقیقی تصور

کبھی کبھی کوئی خیال، کوئی جملہ، یا کسی فکری مجلس میں کہی گئی بات دل پر ایسا اثر کرتی ہے کہ روح کی گہرائیوں میں اتر جاتی ہے۔ گذشتہ اتوارکو ایسی ہی ایک فکری محفل میں شرکت کا موقع ملا۔ رحیمیہ انسٹیٹیوٹ آف قرآنک سائنسز میں عید ملن تقریب کا دعو ت نامہ ملا تو اس پر درج موضوع ’خدمت خلق و سماج سیوا میں متحرک کردارکی ضرورت و اہمیت‘ نہایت دلچسپ اور میرے اپنے مزاج سے قریب تر تھا۔ اتوار کادن عمومی طورپرآرام اور اپنے ذاتی کاموں کے لئے مختص ہوتا ہے لیکن جب کچھ نیا اور اجتماعی حوالے سے سیکھنے کو ملے تو ذاتی ترجیحات میں تبدیلی کرنا پڑتی ہے۔ میں مقررہ وقت پر ادارہ رحیمہ پہنچا تو ادارے کے السعید بلاک کا مسجد ہال نوجوانوں سے بھرا ہو تھا۔ مجھے پچھلی نشستوں پر بیٹھنے کی جگہ ملی۔ موضوع کے مقرر ڈاکٹر شاہ زیب خان صاحب جو کہ پنجاب یونیورسٹی میں انگریزی کے پروفیسر ہیں، لیکچر کا آغازکر چکے تھے۔ ادارہ رحیمیہ کے ساتھ میراتعار ف کافی پرانا ہے۔ اس ادارے کی بانی حضرت شاہ سعید احمد رائے پوری ؒنے پاکستان کے مسلمانوں خصوصاً نوجوانوں میں، نظام کی پیدا کردہ ،دین سے بے زاری، خودغرضی، انفرادیت پسندی اور سامراجی نظام کے آلہ کار بننے کی بجائے امام شاہ ولی اللہ کے فکری تناظر میں نظام کاسیاسی،معاشی اور سماجی شعور اور بااخلاق انسان بننے کے ساتھ ساتھ حقیقی تبدیلی کی دینی جدوجہد کی تحریک شروع کی۔ آپ کا وصال 26 ستمبر 2012 میں ہوا لیکن ان کی پیدا کی گئی تحریک کی تر وتازگی نوجوانوں کی بھرپور موجودگی سے محسوس ہورہی تھی۔ اسی خیال میں ڈاکٹر شاہ زیب صاحب کی گفتگو جاری تھی اور ان کی زبان سے ادا ہونے والے اس جملے نے توجہ کھینچ لی۔
 سماج، جسے ہم ایک عمومی لفظ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، درحقیقت ایک ایسی سفید چادر کی مانند ہے جس پر ہر فرد کا عمل ایک رنگ چھوڑتا ہے۔ سوال یہ ہے ہم اس چادر پر کیسے رنگ بکھیر رہے ہیں؟ کہیں ہم خودغرضی، منافقت، مفاد پرستی اور بے حسی کے داغ تو نہیں لگا رہے؟ یا پھر ہم اخلاص، ایثار، رحم دلی اور سچائی کے رنگ سے اسے سنوار رہے ہیں؟ان جملوں نے احساس پیدا کیا کہ موضوعِ گفتگو فقط 
خدمت نہیں بلکہ انسان کی اصل پہچان، معاشرتی ذمہ داری اور روحانی ارتقاء کا وہ راستہ تھا جو ہمیں اصل انسان بننے کا درس دیتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے قرآن حکیم کا حوالہ دیتے ہوئے آیت کا ترجمہ پیش کیا، اللہ کا رنگ سب سے بہتر ہے، اور کون ہے جو اس سے بہتر رنگ دے؟ یہ آیت دل کو ایسے لگتی ہے جیسے ہماری تمام دنیاداری، سیاسی چالاکیاں، اور مادی دوڑ کو آئینہ دکھا رہی ہو۔ اللہ کا رنگ وہ ہے جو انبیاء کے کردار، عدل، سچائی اور خدمت سے جھلکتا ہے۔ مگر افسوس! ہم نے اللہ کے رنگ کو چھوڑ کر دنیا کے رنگوں میں گم ہو جانا پسند کر لیا ہے۔ڈاکٹر صاحب کی ایک گھنٹے کی مدلل گفتگو نے سامعین کو ایک لمحے کیلئے بھی غیر متوجہ نہیں ہو نے دیا۔ ہر ایک جملہ موجودہ سماجی رویوں کے تجزیئے کی دعوت دے رہا تھا۔خدمت خلق اور سماج سیوا کی بجائے سرمایہ دارانہ نظام نے ہمیں ایک ایسی مصنوعی سوچ دے دی ہے جس میں ہر رشتہ، ہر جذبہ اور ہر خدمت ایک قیمت کے تابع ہو گئی ہے۔ ایڈم سمتھ کی مشہور تھیوری کہ ''ہر فرد اپنا مفاد خود دیکھے'' نے ہمیں ایک ایسے خودغرض انسان میں بدل دیا ہے جو اپنے سوا کسی کو دیکھنے کے قابل نہیں رہا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسانیت مرتی ہے، اور صرف جسم زندہ رہ جاتے ہیں۔انسان کی فطرت میں عزت، امن، اور انصاف کا تقاضا قدرتی طور پر موجود ہے۔ جب ہم ان تقاضوں کو دباتے ہیں، تو ایک اجتماعی بے امنی جنم لیتی ہے۔ احساس محرومی، ذہنی اضطراب، اور سماجی تفریق ہمارے معاشرے کے وہ زخم ہیں جن کا علاج صرف خدمتِ خلق سے ہو سکتا ہے۔ اس دوران میں ایک دہری کیفیت میں تھا ، ایک جانب موضوع پر اسقدر جامع اورمدلل تقریر اور دوسری جانب اپنی سوسائٹی کی حالت ذہن میں سمائی ہوئی تھی۔ ہم سب مسلمان ہیں اور نبی اکرمﷺ سے بے پناہ محبت رکھتے ہیں۔ لیکن سیرت نبی ﷺ کے خدمت خلق اور سماج سیوا کے پہلوسے کتنے دور ہیں؟ آپ کی زندگی کا ہر لمحہ ایک مظلوم، محروم، یا ضرورت مند کے لیے امید کا چراغ تھا۔ شاہ زیب صاحب نے ایک خوبصورت جملہ ادا کیا کہ خدمت خلق کے لئے ہر وقت سر گرداں رہتے تھے، آپ ﷺ کا فرمان کہ ’تمام مخلوق اللہ کا کنبہ ہے۔ اللہ کو وہ شخص سب سے زیادہ پسند ہے جو اس کے کنبے کے لئے سب سے زیادہ نفع مند ہے‘۔سوال یہ ہے کہ آج ہم اللہ اس کنبے سے کیا سلوک کر رہے ہیں؟ آپﷺ کا یہ فرمان کہ کسی شخص کے کامل ایمان کااظہار اس کی تین صفات سے ہوتا ہے۔ سب سے پہلے معاملات میں انصاف، قیام امن(خوف کا خاتمہ) اور تنگی ء مال کے باوجود مل بانٹ کر کھانا۔ میں سوچ رہا تھا کہ آج ہمارے سروں پر جو نظام قائم ہے اس نے تو نفسی نفسی کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ حالانکہ ہمارے ہاں لوگ انفرادی طور پر سخاوت اور رحمدلی کا مظاہر ہ بھی کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود معاشر ے میں بھوک اور خوف کا عالم ہے۔ایک جبر کی فضا ہے۔ عام انسانوں کی عزت نفس کمپرومائزڈ ہے۔ آج کے دیجیٹل دورمیں بھی عام آدمی کی زندگی ایک اسیر کی سی ہے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر صاحب نے ایک بڑی اہم بات کی جانب توجہ دلائی کہ سرمایہ دارانہ نظام نے ایک اصطلاح عام کر دی ہے ’کلنگ دا ٹائم‘ یعنی وقت کا قتل، ریلز اور لایعنی کانٹینٹ پر گھنٹوں وقت کا ضیاع اس کی ایک ایسی شکل ہے جس کے ذریعے اکانومی اٹینشن حاصل کرنا، دراصل یوزر کو بھی ایک سرمایہ دارانہ نظام کی جنس میں تبدیل کر دیا ہے جسے ان پلیٹ فارمز پر ڈیٹا کی صورت میں میں فروخت کیاجاتا ہے۔ ڈیجیٹل دنیا، سوشل میڈیا اور مسلسل مصروفیت نے ہمیں خدمت خلق کے احساس سے دور کر دیا ہے۔ ہم اب ''سوچنے'' کے بجائے ''ری ایکٹ'' کرنے لگے ہیں۔ ہماری زندگی ایک دوڑ ہے جس کا اختتام صرف تھکن ہے، سکون نہیں۔ اس نشست کا آخری سوال کہ ہمیں رک کرسوچنا ہو گا کہ ہمارا سفر کس جانب ہے؟ہم سماج سیوا کے حقیقی تصور سے دور کیوں ہو گئے ہیں؟
 برطانوی سامراج کے چھوڑے ہوئے نسل پرستانہ اور غلامانہ نظام کی جگہ قرانی حکمت عملی اور سیرت نبویﷺ پر مبنی ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جو بنی آدم کی خدمت کی تعلیم اور عملی تربیت سے آراستہ ہو۔ تقریب کے دوسرا حصہ میں بخاری شریف کا افتتاح تھا۔اس موقع پر حضر ت شاہ سعید احمد رائے پوری ؒ کے جانشن اور ناظم اعلیٰ ادارہ رحیمیہ حضر ت مفتی عبدالخاق آزاد رائے پوری صاحب کے خطاب نے وہ تمام الجھنیں سلجھا دیں جو دین کے حقیقی نظام کی اساس ہے۔ اس نشست کا احوال انشاء اللہ آئندہ کالم میں۔ 

ٹیگز: