بے شرمی ہر دور میں ہوتی تھی مگر اتنی نہیں ہوتی تھی جتنی اب ہے ، اب تو کسی کو کسی کا کوئی لحاظ ہی نہیں رہا ، بدلحاظی اپنے عروج پر ہے، یہ مزید کیا گْل کھلائے گی ؟ ملک اور معاشرے کو مزید کتنا برباد کرے گی ؟ کچھ نہیں کہا جا سکتا ، جب شرم و حیا تھوڑی باقی تھی کوئی شخص کسی سے کوئی مقابلہ اگر جیت جاتا وہ اْس پر عاجزی اختیار کرتا تھا ، وہ اپنی جیت کو تکبر نہیں بناتا تھا ، انڈیا سے سیز فائر جسے ہم جنگ جیتنا قرار دے رہے ہیں کے بعد جو تکبر ہم میں آگیا وہ ہماری اسی بے شرمی کا حصہ ہے جو معاشرے میں اب سرایت کر چکی ہے ، میری دعاہے دوبارہ جنگ نہ ہو اور ہمارا یہ بھرم قائم رہے’’ہم دشمن سے مقابلے اور جیتنے کی پوری طاقت و صلاحیت رکھتے ہیں‘‘، ہمارے لیے یہ مقام شْکر کا تھا جسے ہم نے تکبر کا بنا دیاہے ، اس کے نتیجے میں اپنوں کے ساتھ جنگ میں ہم مزید تیزی لے آئے ہیں جبکہ آنی اس میں کمی چائیے تھی ، ہماری گزارش اتنی ہے ناکوں چنے چبوانے کا معاملہ صرف ہندوستان تک ہی محدود رکھا جائے ، اپنوں کے لیے گنجائش پیدا کی جائے ، ان کے لیے دل نرم اور بڑے کئے جائیں اور اْنہیں اپنی طاقت میں مزید اضافے کا باعث بنایا جائے ، یہ بے شرمی تو قومی و اجتماعی نوعیت کی ہے جس کا ذکر بڑے دکھ سے میں نے کیا ہے ، انفرادی سطح کی بے شرمیوں کا معاملہ الگ ہے ، ایک ایس پی سے میں نے پوچھا ’’تم نے میرے عزیزوں سے ایک ملین روپے بطور رشوت لیے ہیں اْن کا کام بھی نہیں کیا ، کچھ شرم کرو‘‘ ، وہ بولا ’’سر اگر میں نے ایک ملین روپے بطور رشوت لیے ہیں میں کام کروں گا میں نے اپنے بچوں کو کبھی حرام نہیں کھلایا‘‘ ، بے شرمی کی یہ کوئی الگ ہی قسم ہے جو ہمارا عمومی مزاج بن گئی ہے کہ اب اگر کوئی رشوت لے کر کام کر دے وہ اس عمل کو عین حلال بلکہ ’’عین عبادت‘‘ سمجھتا ہے ، کیونکہ رشوت لے کر کام نہ کرنے کا کلچر اب اتنا فروغ پا گیا ہے بے شمار لوگوں نے اس ملک کے طاقتوروں اور اصلی طاقتوروں کو اپنے اپنے جائز ناجائز کاموں کے ایڈوانس بلکہ طے شدہ پوری پوری رقمیں دے رکھی ہیں ، نہ اْن بیچاروں کے کام ہو رہے ہیں ، نہ اْن کی رقمیں واپس ہو رہی ہیں ، طاقتوروں سے رقمیں واپس نکلوا بھی کون سکتا ہے ؟ ایک فراڈئیے نے کسی کے پچاس لاکھ روپے دینے تھے اْس نے چیک دیا تھا جو باؤنس ہوگیا ، ایک اعلیٰ افسر کی سفارش سمیت کچھ دے دلا کر اْس فراڈیے کے خلاف ایف آئی آرہوگئی ، میرے تک بات پہنچی میں نے’’فراڈیا صاحب‘‘ سے کہا ’’ایک آدھ دن میں پولیس تمہیں گرفتار کر لے گی تم اگر گرفتاری سے بچنا چاہتے ہو اپنے خلاف ہونے والی اس ایف ائی آر کے مدعیوں سے مل کے معاملہ طے کر لو‘‘وہ بولا آپ مجھے گرفتاری سے نہ بچائیں میں نے اور لوگوں کے بھی کروڑوں روپے دینے ہیں ، ان حالات میں باہر میں غیر محفوظ ہوں ، میں ایک آدھ دن میں خود ہی گرفتاری دے دوں گا تاکہ میں جیل میں محفوظ رہ سکوں ، فراڈ کی کون سی پاکستان میں کوئی سزائے موت ہے ؟ چھ چار ماہ بعد میری ضمانت ہوجائے گی ، اس دوران میں نے جن کی رقمیں دینی ہیں وہ بھی یہ سوچ کر ٹھنڈے ہو کر بیٹھ جائیں گے اْن کی رقمیں کھوہ کھاتے میں چلی گئی ہیں‘‘۔۔ اسی لئے اب اکثر لوگ چیک باؤنس کے پرچے کرانے سے گریز کرتے ہیں ، اور پولیس سے مْک مْکا کر کے کوشش کرتے ہیں بغیر ایف آئی آر کے معاملہ طے ہو جائے ، پچھلے دنوں بدنام زمانہ سی آئی اے میں تعینات کچھ’’ڈاکو‘‘ اپنے ذاتی مقاصد کے لیے اور اعلیٰ افسروں کے اسی قسم کے ذاتی مفادات کے لیے صرف اسی کام پر لگے ہوئے تھے ، وہ بغیر ایف آئی آر قصور واروں کو پکڑتے ، روایتی انداز میں اْن پر تشدد کرتے اور اْن سے رقمیں نکلوا کر اپنا پورا حصہ رکھ کے بچا کھچا بقایا حقداروں کے سپرد کر دیتے تھے ، بے شمار اعلیٰ و ادنی پولیس افسران اس کھاتے میں اربوں پتی بن گئے ہیں، پولیس کے یہی ڈاکو اب سی سی ڈی میں تعینات ہو گئے ہیں لاہور پولیس کے انویسٹی گیشن ونگ میں جو منڈی کْھلی ہے اْس کی داستانیں الگ سے زبان زد عام ہیں ، ایک واقعہ ذرا مزید تصدیق کے بعد اپنے کسی کالم میں عرض کروں گا کس طرح انویسٹی گیشن پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے قبضے کے ایک رولے میں مداخلت کر کے لاکھوں روپے ایڈوانس پکڑے ، پاکستان میں ہونے والی کرپشن اب عالمی سطح پہ اس طرح پھیلتی جا رہی ہے ہمارے بے شمار پولیس سول و غیر سول افسران لوگوں کے ناجائز کام پاکستان میں کرتے ہیں اور رقمیں بیرون مْلک دبئی یورپ امریکہ برطانیہ اور کینیڈا وغیرہ میں پکڑتے ہیں ، مجیں چونکہ مجوں کی بہنیں ہوتی ہیں ، چور چونکہ چوروں کے ہاتھ نہیں کاٹ سکتے ورنہ کوئی ادارہ کوئی ایماندار حکمران اگر یہ تحقیقات کروائے کس کس افسر کی اندرون ملک خصوصاً بیرون ملک کتنی جائیدادیں ہیں ؟ ہوش رْبا انکشافات ہوں گے ، مسئلہ مگر یہ ہے یہاں پورے سسٹم کا منہ کالا ہے ، پچھلے دنوں ایک ناکے پر پولیس نے دوران تلاشی ایک میراثی سے دو شراب کی بوتلیں برآمد کر لیں ، میراثی نے اپنی صفائی میں کلمہ پڑھ کر کہا ’’لا الہ الا اللہ میں عیسائی ہوں ‘‘ ، پولیس والے بولے ’’ اسی تیری ایس گل تے صرف اک شرط تے یقین کراں گے اک بوتل ساہنوں دے‘‘ ، مطلب کہ
پاکستان کا مطلب کیا
پیسے ساہڈے ہتھ پھڑا
جیڑا مرضی کام کرا
ایک زمانے میں رشوت کو بہت بڑی گالی بہت بڑی بے غیرتی سمجھا جاتا تھا ، اب رشوت نہ لینے کو بہت بڑی بے غیرتی بہت بڑی گالی سمجھا جاتا ہے ، پچھلے دنوں ہمارے ایک جاننے والے نے اپنی بیٹی کا ایک افسر کے لیے آنے والا رشتہ ٹھکرا دیا ، میں نے وجہ پوچھی کہنے لگا ’’اسی پتہ کروایا اے اوہ بے غیرت رشوت ای نئیں لیندا ، ساہڈی کْڑی دے خرچے اوہنے کتھوں پورے کرنے نے ؟ (جاری ہے)