Wed, September 16, 2026

غزہ میں ظلم کی انتہا: اسرائیلی حملے میں مزید 9 فلسطینی شہید

غزہ میں ظلم کی انتہا: اسرائیلی حملے میں مزید 9 فلسطینی شہید

غزہ : غزہ کے علاقے خان یونس میں ایک ماں پر قیامت گزر گئی۔ اسرائیلی بمباری نے ماہر اطفال ڈاکٹر عالہ النجار کے گھر کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ان کے 10 میں سے 9 معصوم بچے شہید ہو گئے۔ صرف ایک بچہ بچ سکا، وہ بھی زخمی حالت میں۔

شہید ہونے والے بچوں کی عمریں صرف 7 ماہ سے 12 سال کے درمیان تھیں۔ ایک ماں کے لیے یہ غم ناقابلِ بیان ہے، جہاں ایک ہی لمحے میں اس کی گود خالی ہو گئی۔ ڈاکٹر عالہ کے شوہر بھی اس حملے میں زخمی ہوئے۔

یہ صرف ایک خاندان کی کہانی نہیں، بلکہ غزہ میں روزانہ ایسے کئی خاندان برباد ہو رہے ہیں۔ قطری میڈیا کے مطابق پچھلے 24 گھنٹوں میں درجنوں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک 54 ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، اور زخمیوں کی تعداد 1 لاکھ 22 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

غزہ میں صرف گولہ بارود نہیں، بھوک بھی بچوں کی جان لے رہی ہے۔ عالمی ادارہ خوراک کے مطابق ایک 4 سالہ بچہ، محمد یٰسین، خوراک نہ ملنے کی وجہ سے جان کی بازی ہار گیا، جبکہ 70 ہزار سے زیادہ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں پانچ لاکھ افراد فاقوں سے دوچار ہیں۔ اگرچہ حالیہ دنوں میں کچھ امداد داخل ہونے دی گئی ہے، مگر یہ ضروریات کے سامنے نہایت معمولی ہے۔

ٹیگز: