دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں مٹی، پانی اور سونا جیسے وسائل کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل مہارت بھی قومی دولت میں شمار ہوتی ہے۔ پاکستان کا آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر آج اسی عالمی دوڑ میں اپنی موجودگی کا اعلان کر رہا ہے اور یہ صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیں بلکہ ایک قومی ذہنیت کی تبدیلی کا عکس ہے۔قومی اقتصادی سروے کے مطابق رواں برس پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں 23.7 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا، جو 2.825 ارب ڈالر تک جا پہنچی ہیں۔ صرف مارچ 2025 میں ہی یہ برآمدات 342 ملین ڈالر کی سطح کو چھو گئیں، جس میں ماہانہ بنیاد پر 12.1 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ اضافہ محض کاروباری سرگرمیوں کی بہتری کی علامت نہیں بلکہ ملک میں ابھرتا ہوا ڈیجیٹل شعور، نوجوانوں کی خود اعتمادی اور عالمی سطح پر پاکستانی سافٹ ویئر اور سروسز کی مانگ میں اضافے کا ثبوت ہے۔
ترقی پذیر ممالک میں آئی ٹی کے شعبے کو صرف ایک روزگار پیدا کرنے والی صنعت نہیں بلکہ ایک نیا ترقیاتی ماڈل سمجھا جا رہا ہے۔ یہ وہ شعبہ ہے جو کم سے کم سرمائے میں زیادہ سے زیادہ فائدہ دے سکتا ہے۔ نہ صرف برآمدات میں اضافہ بلکہ سب سے اہم بات یہ کہ آئی ٹی نے پاکستان کو ایک ایسا معاشی توازن فراہم کیا ہے جو پرانے صنعتی ماڈلز کے بس کی بات نہیں تھی۔ اس وقت پاکستان میں آئی ٹی خدمات میں تجارتی سرپلس 2.4 ارب ڈالر ہے، اور یہ اعداد و شمار پاکستان جیسے ملک کے لیے نہایت اہم ہیں جہاں برآمدات اور درآمدات کے درمیان توازن ایک دیرینہ مسئلہ رہا ہے۔ایک اور قابلِ فخر پہلو فری لانسرز کی طرف سے 400 ملین ڈالر کا زرمبادلہ ملک میں لایا جانا ہے۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو کسی دفتر میں نہیں بیٹھے، کسی بڑے بینک سے قرض لیے بغیر اپنے علم اور ہنر کو دنیا بھر میں فروخت کر رہے ہیں۔ ان کی کامیابی اس لیے زیادہ معنی خیز ہے کیونکہ یہ نئی نسل کا بدلتا ہوا مزاج ہے۔خود پر یقین، روایتی نوکری کے تصور سے انکار، اور بین الاقوامی معیار پر کام کرنے کی جستجو۔ اس بدلے ہوئے رویے نے پاکستان کو ایک ایسا پلیٹ فارم دیا ہے جہاں صرف دارالحکومت اور بڑے شہر ہی ترقی کا مرکز نہیں بلکہ دور دراز کے شہر، قصبے اور دیہات بھی عالمی معیشت سے جڑ رہے ہیں۔
آئی ٹی کی ترقی کے ساتھ ساتھ ٹیلی کام کا شعبہ بھی خاموشی سے لیکن مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔ 803 ارب روپے کی آمدنی، 199.9 ملین صارفین اور 81.3 فیصد ٹیلے ڈینسٹی کے ساتھ یہ شعبہ اب محض فون کالز یا ایس ایم ایس کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ ڈیجیٹل زندگی کا بنیادی ڈھانچہ بن چکا ہے۔ دور دراز علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ کی دستیابی، ای لرننگ، ٹیلی میڈیسن اور موبائل بینکنگ جیسے تصورات کو حقیقت میں بدل رہی ہے۔ یہ وہ انفرا اسٹرکچر ہے جو کسی بھی قوم کی ڈیجیٹل تبدیلی کی بنیاد بنتا ہے۔قومی اقتصادی سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ ٹیلی کام سیکٹر نے 271 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آئی ٹی اور ٹیلی کام نہ صرف نجی شعبے کے لیے فائدہ مند ہیں بلکہ ریاست کے لیے بھی ایک مضبوط مالیاتی سہارا بن چکے ہیں۔ ان دونوں شعبوں میں ترقی کے لیے پاکستان اور چین کے درمیان آئی ٹی ورکنگ گروپ کا قیام اور سائبر سیکیورٹی و ڈیجیٹل ترقی میں اشتراک، اس بات کا عندیہ ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کو ایک سنجیدہ ڈیجیٹل شراکت دار کے طور پر قبول کیا جا رہا ہے۔ ایک اور مثبت پیش رفت یہ ہے کہ 1900 سے زائد اسٹارٹ اپس نے نیشنل انکیوبیشن سینٹرز سے تربیت حاصل کی۔ یہ سینٹرز صرف کاروباری تربیت کے ادارے نہیں بلکہ خوابوں کو شکل دینے کی مشینیں ہیں۔ وہ نوجوان جن کے پاس سرمایہ نہیں لیکن خیالات کی دنیا وسیع ہے، وہ یہاں سے رہنمائی اور تربیت لے کر ایک نئی کاروباری دنیا کا آغاز کرتے ہیں۔ یہی نوجوان کل پاکستان کے ڈیجیٹل ایکوسسٹم کو مستحکم کریں گے۔ا س تمام منظرنامے میں سب سے زیادہ متاثر کن بات یہ ہے کہ 12,000 سے زائد خواتین کو کاروباری طور پر بااختیار بنایا گیا ہے۔ پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں خواتین کو عملی زندگی میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے، یہ تبدیلی ایک خاموش انقلاب کی حیثیت رکھتی ہے۔ آئی ٹی کی بدولت ایک خاتون گھر بیٹھے، بچوں کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ، گرافک ڈیزائن، ڈیجیٹل مارکیٹنگ یا پروگرامنگ جیسے شعبوں میں عالمی سطح پر کام کر سکتی ہے۔ یہ محض روزگار نہیں بلکہ آزادی کی وہ شکل ہے جو روایتی معاشرتی حدود کو عبور کرتی ہے۔
جب ہم دنیا کے دوسرے ترقی پذیر ممالک کی طرف دیکھتے ہیں، جیسے کہ بھارت، ویتنام یا فلپائن، تو ایک بات واضح ہوتی ہے کہ ان قوموں نے آئی ٹی کو محض ایک معاشی سرگرمی نہیں بلکہ قومی ترجیح کے طور پر اپنایا۔ بھارت میں آئی ٹی کی برآمدات 190 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔ وہاں کی حکومت، تعلیمی ادارے اور نجی شعبہ سب ایک ہی ہدف پر کام کر رہے ہیں ڈیجیٹل برتری۔ پاکستان کے لیے یہ ایک سبق ہے کہ اگر پالیسی میں تسلسل، تعلیمی نظام میں ٹیکنالوجی کی شمولیت اور کاروباری ماحول کو مزید بہتر کیا جائے، تو ہم بھی عالمی سطح پر اپنی جگہ مضبوطی سے بنا سکتے ہیں۔عوام کا رویہ بھی اب بدل رہا ہے۔ پہلے جو والدین صرف ڈاکٹر یا انجینئر بننے کا خواب دیکھتے تھے، اب وہ فری لانسنگ، سافٹ ویئر انجینئرنگ اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کو بھی ایک معزز پیشہ سمجھنے لگے ہیں۔ دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ بھی اب یوٹیوب یا دیگر آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے سیکھ رہے ہیں، اپنی مہارت بڑھا رہے ہیں اور چھوٹے چھوٹے منصوبے شروع کر رہے ہیں۔ یہ تبدیلی اگرچہ دھیرے دھیرے آئی ہے لیکن اس کی بنیادیں بہت گہری ہیں۔
آنے والا وقت ان اقوام کا ہے جو ٹیکنالوجی کو صرف ایک ضرورت نہیں بلکہ ایک ثقافت، ایک وڑن کے طور پر اپنائیں گی۔ مصنوعی ذہانت، بلاک چین، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور سائبر سیکیورٹی جیسے شعبے محض کاروباری مواقع نہیں بلکہ قومی دفاع اور خودمختاری کے ضامن ہوں گے۔ اگر پاکستان اس سمت میں واضح اور مسلسل پیش رفت کرتا رہا، تو ہم صرف برآمدات نہیں بڑھائیں گے بلکہ اپنی نئی نسل کو اعتماد، خودمختاری اور عالمی معیار کے خوابوں سے جوڑ سکیں گے۔یہ وقت ہے کہ پالیسی ساز، تعلیمی ماہرین، سرمایہ کار اور عوام سب ایک مشترکہ سوچ کے ساتھ آگے بڑھیں۔ یہ صرف ڈیجیٹل ترقی کا معاملہ نہیں، یہ قوم کے مستقبل کا سوال ہے اور جب ایک قوم خواب دیکھنا سیکھ لے، تو کوئی بھی رکاوٹ مستقل نہیں رہتی۔