Wed, September 16, 2026

 بہہ جانے و الی کھاد

 بہہ جانے و الی کھاد

 یہ کہانی آپ زندگی میں کئی مرتبہ سن چکے، پہلی مرتبہ آنکھ لڑانے والی لڑکی نے دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر گھر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا اور رات کے کھانے پر اہل خانہ کو بتا دیا کہ کل ہم سے ایک فرد یہاں موجود نہ ہوگا اگلے روز ایسا ہی ہوا۔ فرار ہونے والی لڑکی کے اہل خانہ اسکی ذہانت کی تعریفیں کر رہے تھے کہ اسے آنے والے واقعات کے بارے میں قبل از وقت میں علم ہو جاتا تھا۔ خواتین کو اس کہانی پر اعتراض ہو سکتا ہے کہ کہانی میں ہمیشہ لڑکی ہی کیوں گھر سے بھاگتی ہے لڑکا کیوں نہیں تو اس خیال کے تحت اور بیلسنگ ایکٹ کے تحت ایک اور مختصر کہانی کو یاد کرلیجئے جو آپ نے اپنے بچپن میں سن رکھی ہے۔
بلبل کا بچہ کھاتا تھا کھچڑی پتا تھا پانی گاتا تھا گانے میرے سرہانے، ایک دن اکیلا بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے اڑایا واپس نہ آیا۔ اطلاع ہو کے بلبل کا بچہ اب اڑنے والا ہے، وہ ایک روز اکیلا بیٹھا ہوگا اسے اڑایا جائے گا پھر وہ واپس نہ آئے گا کیونکہ وہ گذشتہ چند برسوں سے کافی زیادہ کھچڑی کھا چکا ہے حد سے زیادہ پانی پی چکی ہے اور ہمارے سرہانے بیٹھ کر درجنوں گانے گا گاکر ہمیں سنا چکا ہے ،اسکے گانے سن سن کر ہمیں میٹھی نیند آ گئی لیکن ہر بات کی ایک حد ہوتی ہے ایک گانا آخر آپ کب تک سن سکتے ہیں۔ اپوزیشن سے ہم آہنگ اگر سوچ رہے ہیں کہ روئے سخن جناب وزیر اعظم کی طرف ہے تو براہ کرم اپنی اصلاح کر لیں وہ مرنجان مریخ شخصیت ہیں کسی کو انکی تکلیف نہیں انکے پاس ہر شخص کی تکلیف کا علاج ہے بات ان تک پہنچ جائے تو وہ مریض کے گھر بیٹھے دوائیوں کا پیکٹ بھجوا دیتے ہیں۔ جنرل ضیا الحق مرحوم کے زمانہ اقتدار میں جناب نواز شریف اور جناب چوہدری پرویز الٰہی کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرگے تو چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں لگتا تھا دونوں میں سے ایک کو گھر جانا ہوگا اندر کی کہانی یہ تھی کہ جناب پرویز الٰہی ایوان صدر کے اشارے پر ہی دھکے مار رہے تھے، جناب نواز شرکت نے فوراً ایوان صدر سے رابطہ کر کے آئی ہوئی ڈارڑ میں سیمنٹ بھر دیا، چند روز بعد جنرل ضیاء الحق لاہور تشریف لائے تو انکا خوشگوار موڈ دیکھ کر ہم نے ان سے پوچھا جناب صدر کیا نواز شریف جا رہے میں تو انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا نہیں وہ کہیں نہیں جا رہے انکا کلہ مضبوط ہے ۔جناب نواز شریف کے ایک زمانے میں کئی کلے تھے لیکن ان کاسب  سے مضبوط کلہ صدر ضیا ء الحق ہی تھے ان کا جہاز کریش ہو گیا بے نظیر اقتدارمیں آ گئیں نیا کلہ تیار کرنے میں کچھ وقت لگا لیکن نیا کلہ  تیارہو ہی گیا اور کھویا ہوا اقتدار بھی واپس مل گیا پھر کئی کلے بنے کئی ٹوٹے اب تو اقتدار کے کلوں کا بننااور ٹوٹناعام سی بات ہے لیکن فی الحال جناب وزیر اعظم کا کلہ مضبوط ہے۔
آپ کا خیال کلے کی طرف  بھی جاسکتا ہے کہ شاید کلہ خود اکھڑنے والا ہے یا کوئی کلہ اکھاڑ دے گا تو ایسی بھی کوئی بات نہیں پہلے کلہ خود اکیلا تھا اب تین نئے غیر سیاسی کلے اسکے ماتحت آچکے ہیں لہٰذا اسکی طاقت میں بہت اضافہ ہو چکا ہے وہ کہیں نہیں جا رہا تو پھر کون ہے جو جا رہا ہے اڑان کے لئے  تیار بلبل کا بچہ عموماً تین چار برس بعد پاکستان بھجوایا جاتا ہے کبھی اس کا نام معین قریشی ہوتا ہے کبھی شوکت تو کبھی حفیظ سب کامینڈیٹ ایک ہی ہوتا ہے ۔کھچڑی پکائو خود کھاؤ اپنے آقاؤں کو کھلاؤ پیٹ بھر کے پانی پیئو۔بین الاقوامی پیاسوں کو پلاؤ، کھانے پینے کے علاؤہ بھرے پیٹ سے خالی پیٹ قوم کو گانے سناؤ اور انہیں یقین دلائو کہ انکے گانوں سے انکا پیٹ بھر جائیگا۔ پاکستان آنے والے بلبل کے بچے نے ہر مرتبہ ایک ہی گانا سنایا وہ آیا ہے وہ حکومتی اخراجات کم کروا لے گا نظام کی خرابیاں دور کرے گا ٹیکس اصلاحات کرے گا۔ بزنس فرینڈلی ماحول بنائے گا، سمندر پار پاکستانیوں کی حوصلہ افزائی کرے گابیرونی سرمایہ کاری لائے گا اور خالی خزانے کو بھر دے گا۔ افسوس وہ کچھ بھی نہ کر سکا اب اس کے گانے کا سحرختم ہو چکا ہے ابتدا میں اسکا گانا بھلا لگتا تھا اب اسکی آواز مہمانوںکو اتنی ہی بری لگنے لگی ہے جتنی گرمیوں کی دوپہرمیں بعداز طعام کچھ دیر آرام کے لئے لٹیں تو کان میں پڑنے والی کوئے کی کائیں کائیں بری لگتی ہے۔ سمندر پار پاکستانیوں کی طرف سے اپنے اہل خانہ کیلئے  بھجوائی جانے والی رقوم میں اضافہ ضرورہوا ہے  لیکن یہ بلبل کے بچے کا کمال ہرگز نہیں گذشتہ دو برس میں تقریباًبارہ پندرہ لاکھ افراد ملک سے باہر گئے ہیں ۔ان میں سے اگر نصف بھی روزگار تلاش کرنے میں کامیاب رہے ہیں یا کوئی چھوٹا موٹا کاروبار شروع کر چکے ہیں تو انکی طرف سے بھجوائی جانے والی رقوم نے ہماری ریمٹنس میں اضافہ کیا ہے۔ پاکستان میں گذشتہ چار برسوں میں مہنگائی کی شرح میںہو شربا اضافہ ہوا ہے  سعودی عرب اور یواے ای میں کام کرنے والامزدور ٹیکنیشن اگر پہلے ایک ہزار درہم بجھواتا تھا تو اب اسے ہرفون کال پربتایا جاتا ہے کہ مہنگائی بڑھنے سے اب ہزار درہم میں گزارا نہیں ہوتا۔ یوٹیلٹی بلز ،سکولوں کی فیسیں،دودھ ، گوشت ،سبزیاں پھل دوائیاں کپڑے جوتے کرائے پٹرول حتی کہ موت کے بعد تدفین کے اخراجات دوگنے ہو چکے ہیں لہٰذا حل من مزید۔ سمندر پار پاکستانیوں کی طرف سے بھجوائی جانے  والی رقوم کا کریڈیٹ کسی کو نہیں دیا جا سکتا یہ کریڈٹ صرف ان محنت کشوں کا ہے؟ جو اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے اہل خانہ کا پیٹ پال رہے ہیں اور خاندانی فرض اتار رہے ہیں۔ جاری برس آنے والے تئیس ارب ڈالر پاکستان کی ضرورت ہے لیکن یہ رقم کسی بڑے منصوبے میں نہیں لگی۔ پاکستانیوں کو یہ رقم پاک کرنسی میں ملی جبکہ آنے والے ڈالر ہمارے قومی قرضوںکے سود کی ادائیگی میں ملک سے باہر چلے گے، گذشتہ چاربرسوں میں اگر اوسط ًہر سال دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آتی تو ہم کہہ سکتے تھے کہ چالیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ملک میں آئی لیکن اس حوالے سلیٹ صاف ہے، پاکستانی سرمایہ کار کے پاکستان سے سر پرپائوں رکھ کر بھاگنے کی اطلاعات ہیں۔ چار برسوں میں جانے کتنے سو ایم او یو سائن ہوئے اس اس سے اگلے مرحلے تک کوئی منصوبہ نہیں پہنچا کئی برس قبل ایک خوش کن خبر سنی تھی کہ سعودی، عرب بلوچستان کے علاقے میں ایک بہت جدیدآئل ریفائنری لگائے گا یہ منصوبہ کہاں گیا کیوں شروع نہ ہو سکا کس کو کچھ معلوم نہیں، لیکن بعض حلقے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ہمارے پیارے دوست امریکہ نے دونوں ملکوں سے کہہ دیا ہے خبردار آئندہ اس منصوبے کا ذکر بھی مت کرنا ۔جب سے اب تک ہم ہر ماہ تقریباً  تین ارب ڈالر سمندر پار پاکستانیوں سے حاصل کرتے ہیں جنہیں کھانے کے بعد یہ کھاد میں تبدیل ہوجاتے ہیں جو فلش میں بہہ جاتی ہے کسی کام نہیں آتی۔

ٹیگز: