چاچا، تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟
سٹور کیپر نے بابا برکت سے پوچھا۔
”ہاں بیٹا، میں ٹھیک ہوں، بس لگتا ہے ہلکا سا بخار ہو گیا ہے۔“
”کوئی دوائی لی ہے؟“ نوجوان سٹور کیپر نے فکرمندی سے دریافت کیا۔
”ابھی تو نہیں لی۔“
نوجوان نے محبت بھرے لہجے میں کہا، ”چاچا برکت، آپ ڈسپنسری چلے جائیں، میں فون کر دیتا ہوں۔ دوائی لے لیں، ورنہ طبیعت زیادہ خراب ہو جائے گی۔“
”اچھا بیٹا، اللہ تمہارا بھلا کرے۔“
بابا برکت آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا سٹور روم سے باہر آ گیا۔ اس نے کھلے آسمان کی طرف دیکھا۔ ٹھنڈی، تازہ ہوا کے جھونکے اس کے چہرے سے ٹکرائے تو اسے کچھ سکون محسوس ہوا۔ اسی لمحے اس کی نظر سامنے سے آتی ایک نئی مرسڈیز گاڑی پر پڑی، جو آ کر اس کے قریب رک گئی۔
گاڑی سے ایک خوبصورت نوجوان باہر نکلا۔ یہ فیکٹری کے مالک کا بیٹا تھا، جو حال ہی میں بیرونِ ملک سے تعلیم مکمل کر کے واپس آیا تھا اور اب اپنے والد کے ساتھ فیکٹری کے معاملات سنبھال رہا تھا۔
جیسے ہی بابا برکت کی نظر اس نوجوان سے ملی، اس کا ہاتھ بے اختیار پیشانی تک گیا۔
”سلام صاحب!“
نوجوان نے فوراً سلام کا جواب دیا اور اس کا حال دریافت کیا۔
بابا برکت نے حسب عادت جواب دیا، ”اللہ کا شکر ہے، میں بھلا چنگا ہوں۔“
نوجوان ہلکا سا سر ہلا کر آگے بڑھ گیا۔
بابا برکت دیر تک اسے جاتا دیکھتا رہا۔ اس کے چمکدار جوتوں کی آواز فضا میں گونج رہی تھی۔ بے اختیار بابا کی نظر اپنے جوتوں پر پڑی۔ اس نے غور سے دیکھا،وہ جگہ جگہ سے پھٹے ہوئے تھے، اور ان میں سے اس کی بوڑھی، تھکی ہوئی انگلیاں جھانک رہی تھیں۔
اپنے پاو¿ں کی یہ حالت دیکھ کر وہ یکدم ساکت ہو گیا۔
زندگی اتنی تیزی سے گزر گئی کہ اسے کبھی اپنے پاو¿ں کی طرف دیکھنے کی فرصت ہی نہ ملی۔
اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کے پاو¿ں بھی کسی پرانے، شکستہ قلعے کی مانند ہوں۔ اس نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا،وہ بھی محنت کی مار سے بوسیدہ ہو چکے تھے۔ مسلسل وزن اٹھاتے اٹھاتے اس کی کمر جھک چکی تھی، اور وہ بڑی مشکل سے زندگی کا بوجھ اٹھائے پھر رہا تھا۔
انہی سوچوں میں گم وہ ڈسپنسری پہنچ گیا۔
نرس نے اسے کرسی پر بیٹھنے کو کہا۔ فیکٹری کے اندر بنی یہ ایک چھوٹی سی ڈسپنسری تھی، جو ملازمین کی سہولت کے لیے قائم کی گئی تھی۔
نرس نے اس کا بخار چیک کیا اور کہا،
”بابا، آپ کو تو خاصا بخار ہے۔ آپ چھٹی لے کر گھر جا کر آرام کریں۔“
بابا برکت نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔
”بیٹا، میں ٹھیک ہوں۔ پہلے بھی کچھ چھٹیاں کر چکا ہوں، اور اب میری سالانہ چھٹیاں بھی ختم ہو گئی ہیں۔ اگر مزید چھٹی کروں گا تو تنخواہ کٹ جائے گی۔ دو مہینے بعد میری بیٹی کی شادی ہے، خرچے پورے کرنے ہیں، اس لیے اب آرام نہیں کر سکتا۔“
نرس نے نرمی سے کہا۔
”بابا برکت، آپ اب بوڑھے ہو چکے ہیں۔ یہ وزن اٹھانے والا کام آپ کے لیے مناسب نہیں۔ مالک سے بات کر کے کسی اور شعبے میں چلے جائیں۔“
بابا نے دھیرے سے کہا۔
”بیٹا، اب تو ریٹائرمنٹ میں چند ہی مہینے رہ گئے ہیں۔ اگر میں نے درخواست کی اور صاحب نے نہ مانی تو کیا عزت رہ جائے گی؟ باقی وقت بھی اللہ کے فضل سے گزر جائے گا۔“
نرس نے اسے دوائی دی اور کہا۔
”اگر میرے لائق کوئی کام ہو تو ضرور بتائیے گا۔ لیکن یہ بتائیں، بیٹی کی شادی کے بعد آپ اکیلے کیسے رہیں گے؟ آپ کا کوئی بیٹا بھی نہیں۔“
بابا برکت نے آہستہ سے جواب دیا۔
”بیٹا، اس دنیا میں میرا کوئی نہیں۔ لیکن میں کسی پر بوجھ نہیں بنوں گا۔ ہیومن ریسورس کے افضل صاحب نے بتایا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد مجھے پنشن ملے گی، اسی میں گزارا ہو جائے گا۔“
نرس نے مسکرا کر کہا۔
”یہ تو بہت اچھی بات ہے۔“
ڈسپنسری سے باہر آ کر بابا برکت نے رک کر آسمان کی طرف دیکھا۔ نیلگوں وسعتوں میں اسے اپنی اکلوتی بیٹی عروسی لباس میں دکھائی دی، اور اس کے چہرے پر ایک مدھم سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
دو مہینے یوں ہی گزر گئے۔
بابا برکت ٹوٹی ہوئی کمر اور زخم خوردہ ہاتھوں کے ساتھ مسلسل کام کرتا رہا۔ بھاری بوریاں اٹھاتا، سٹور روم میں رکھتا، اور کبھی کبھار کسی ساتھی کی مدد مل جاتی تو اسے دل سے دعا دیتا۔
آخرکار ریٹائرمنٹ کا دن آ گیا۔
اس کی آنکھوں میں نمی تھی اور دل میں ایک عجیب سی اداسی۔ برسوں ایک ہی جگہ کام کرنے کے بعد اب وہ اس دنیا کو چھوڑ رہا تھا جس سے اس کی پہچان جڑی ہوئی تھی۔
سٹور کیپر نے تمام عملے کو اکٹھا کیا اور بابا برکت کے اعزاز میں ایک مختصر سی چائے کا اہتمام کیا۔ اسے ایک سوٹ بطور تحفہ پیش کیا گیا۔ بابا برکت سب کا شکریہ ادا کرتا رہا۔
جب اس نے آخری بار فیکٹری سے باہر قدم رکھا تو اس کی نگاہیں بے اختیار پیچھے مڑ گئیں۔
جب وہ یہاں آیا تھا تو صرف ایک کمرہ تھا، اور آج یہ ایک وسیع و عریض فیکٹری بن چکی تھی۔
اس کے در و دیوار میں بابا برکت کا خون، پسینہ اور جوانی شامل تھی۔
وہ آگے بڑھا، دیوار کو ہاتھ لگایا اور بے اختیار اسے چوم لیا۔ دعائیں دیتا ہوا وہ وہاں سے رخصت ہو گیا۔
چند دن بعد وہ پنشن کے دفتر پہنچا۔
کلرک نے ریکارڈ دیکھ کر کہا،
”بابا برکت، آپ کا نام تو اس فہرست میں ہے ہی نہیں۔ آپ کے پاس کوئی ثبوت ہے کہ آپ اس فیکٹری میں کام کرتے رہے ہیں؟“
یہ سن کر بابا کے دل میں ایک طوفان اٹھا۔ وہ چیخ کر کہنا چاہتا تھا کہ اس فیکٹری کی ہر اینٹ میں اس کا خون اور پسینہ شامل ہے، لیکن اس کے پاس کوئی کاغذی ثبوت نہیں تھا۔
اس نے بہت منت سماجت کی، مگر کلرک نے بے زاری سے اسے باہر جانے کا کہہ دیا۔
بابا برکت بوجھل قدموں سے اٹھا اور باہر نکل آیا۔ اچانک وہ ایک شخص سے ٹکرا گیا۔ اس شخص نے اسے سہارا دیا اور پوچھا،
”بابا، خیریت ہے؟ کیا ہوا؟“
بابا کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس شخص نے نرمی سے کہا،
”آئیں، میرے کمرے میں بیٹھ کر بتائیں۔“
وہ شخص پنشن کے محکمے میں ڈائریکٹر تھا۔
بابا نے سسکیوں کے درمیان اپنی پوری داستان سنا دی۔
ڈائریکٹر نے کمپیوٹر پر ریکارڈ چیک کیا اور کہا۔
”اس فیکٹری میں تقریباً تین سو ملازمین کام کرتے ہیں، مگر رجسٹرڈ صرف ستر ہیں۔ پنشن بھی انہی کو مل سکتی ہے… اور آپ کا نام ان میں شامل نہیں۔“
بابا برکت کی آواز کانپ گئی۔
”صاحب، میں نے تو اپنی ساری زندگی وہاں گزار دی“۔
ڈائریکٹر نے آہستہ سے کہا۔
”ہر سال آڈٹ ہوتا ہے، اور ہر بار سب کچھ درست قرار دیا گیا ہے۔ لیکن آپ کا نام کبھی ریکارڈ میں نہیں آیا… ہم کچھ نہیں کر سکتے۔“
یہ الفاظ بابا کے لیے قیامت سے کم نہ تھے۔
اسے یوں محسوس ہوا جیسے آوازیں دھندلا رہی ہوں۔ وہ لڑکھڑاتے ہوئے سیڑھیوں کی طرف بڑھا، مگر اس کی بصارت بھی جواب دے گئی اور وہ سر کے بل سیڑھیوں سے نیچے جا گرا۔
نیم وا آنکھوں سے اس نے آخری بار آسمان کی طرف دیکھا۔
دور کہیں اسے اپنی بیٹی عروسی لباس میں نظر آئی....
اور انہی خیالوں میں وہ اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔
پاس ہی کتابوں کے ایک سٹال پر اخبار والا آواز لگا رہا تھا....
”پینشن کے محکمے کا افسر ایک فیکٹری سے رشوت لیتے رنگے ہاتھوں گرفتار“