چوپال سجی ہوئی تھی، چپ سائیں کے علاوہ سب موجودتھے اورایک دوسرے سے باتوں میںمصروف تھے۔باﺅ عقیل(فرضی نام) کی بارعب آواز پر سب چونک گئے اور باﺅ عقیل کا حال احوال پوچھنے لگ گئے۔کچھ دیر کے بعد چپ سائیں بھی لاٹھی ٹیکتے ہوئے چوپال میں آئے ، سب احتراما کھڑے ہوگئے،سائیں جی نے سب کو بیٹھنے کاکہا۔نتھو اور پھتوجرات کرکے بولے۔۔۔سائیں جی آج باﺅ عقیل بھی چوپال میں رونق بڑھانے آئے ہیں۔ چپ سائیں باﺅ عقیل کو دیکھ کرمسکرائے ۔۔۔بولے۔۔۔ کیا حال ہے بیٹا عقیل۔۔کیسے ہو۔۔۔؟باﺅ عقیل نے کہا یوں تو بھلا چنگا ہوں۔۔ پر۔۔باﺅ عقیل بات کرتے کرتے چپ کرگئے۔۔۔توقف کے بعد باﺅ عقیل نے کہا سائیں جی۔۔۔ میرے داداکی آمدن بہت تھوڑی تھی۔۔۔ لیکن برکت اتنی کہ ابا جی۔۔بتایاکرتے تھے کہ۔۔ جب کھانا پکتا تو آس پڑوس سے بھی لوگ آتے اور سب گھر والے بھی خوب سیر ہوکر کھاتے۔۔۔ لیکن نہ کھانا ختم ہوتا نہ ہی رقم۔۔۔باﺅ عقیل پھر چپ کرگئے۔۔۔۔ پانی پینے کے بعد بولے۔۔۔سائیں جی اب میں اپنے ابا جی کی بات کروں ۔۔۔ تو ان کی آمد بھی کم ہی تھی۔۔۔ لیکن ان کی خوش اخلاقی کی وجہ سے گھر کی بیٹھک سارا دن کھلی رہتی اور چائے کا دور چلتا۔۔۔ لیکن گھرکے کھانے میںکمی آتی نہ ہی۔۔۔اہل خانہ میں سے کوئی رونا ڈالتا۔۔۔پر سائیں جی۔۔۔ میں تو ان دونوں کے مقابلے میں بہت زیادہ صاحب حیثیت ہوں۔۔ رقم اور وسائل بہت زیادہ ہیں ۔۔۔ لیکن پھر بھی مہینہ ختم ہونے سے قبل ہی مجھے خرچ کی فکر رہتی ہے اور میں تو اپنے داد ااور ابا جی کی طرح اتنا میل ملاپ والا بھی نہیں ہوں۔۔ نہ ہی گھر میں زیادہ رشتہ داروں کا آنا جانا ہے۔۔ بس ہم بہن بھائی ،بیوی اور بچے ہی ۔۔دکھ سکھ بانٹتے ہیں اور خاندان میں سے چند لوگ ہی ہمارے دکھ ، سکھ کے ساتھی ہیں۔۔۔پر یاتو وقت میں تیزی آگئی ہے یا پھر روزی ، روٹی میں برکت اٹھ گئی ہے۔۔اب آپ ہی کچھ بتائیں سائیں جی۔۔ یہ روزی ، روٹی اور برکت کا چکر کیا ہے؟
سائیں جی باﺅ عقیل کی ساری بات سن کر زیر لب مسکرائے۔۔۔بولے بیٹا عقیل ،تم نے جب بات شروع کی تھی تو میں سب سمجھ گیاتھا کہ آج مدعا کیا ہے؟۔۔۔۔صاحبو!زندگی میں تین بنیادی ضروریات ہیں جو ہر انسان کی بقا کے لئے ناگزیر ہیں، روزی، روٹی اور برکت۔ یہ تینوں الفاظ آپس میں جڑے ہوئے ہیں، جب یہ تینوں عناصر مل کر زندگی میں آ جائیں تو انسان خوشحال، مطمئن اور کامیاب ہوتا ہے۔
دوستو!روزی کا مطلب ہے ذریعہ معاش، جس سے انسان اپنی زندگی چلانے کے لئے پیسہ یا وسائل حاصل کرتا ہے۔ قرآن و حدیث میں روزی کی اہمیت کو بہت اجاگر کیا گیا ہے اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ روزی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے مگر انسان کو کوشش بھی کرنی ہوتی ہے۔اب میں روٹی کے بارے میں بات کرتا ہوں۔روٹی ،روزی کا ایک عملی مظہر ہے، یعنی روزمرہ کی خوراک جو جسم کی ضرورت کو پورا کرتی ہے۔ اگر روزی انسان کو مل بھی جائے مگر اس کا صحیح استعمال نہ ہو، تو وہ انسان کی جسمانی اور ذہنی صحت کو قائم نہیں رکھ سکتا۔ اس لئے روٹی روزی کی ایک ظاہری شکل ہے جو زندگی کی بقا کے لئے ضروری ہے۔ روزی کی برکت کے بغیر روٹی بھی کبھی سکون نہیں دیتی۔
صاحبو! اب میں تیسرے اور اہم پہلو یعنی برکت کے بارے میں بات کرتا ہوں۔برکت ایک روحانی عنصر ہے جو روزی اور روٹی میں شامل ہو جائے تو زندگی خوشنما اور پر سکون ہوجاتی ہے۔ برکت کا مطلب ہے اللہ کی خاص رحمت اور فضل جو انسان کی محنت کو زیادہ کامیاب بناتی ہے۔ برکت کے بغیرانسان چاہے جتنا بھی کمائے، مگر دل مطمئن نہیں ہوتا۔برکت صرف مال و دولت میں نہیں بلکہ وقت، صحت، اولاد اور تعلقات میں بھی آتی ہے۔ برکت سے زندگی میں آسانیاں پیدا ہوتی ہیں، مصیبتیں کم ہوتی ہیں، اور انسان کا دل مطمئن رہتا ہے۔
میرے بچو ! خدا پر ایمان اور یقین روزی اور برکت کا اصلی ذریعہ اللہ تعالیٰ ہے، اس لئے اس پر مکمل اعتماد ضروری ہے۔ محنت سے کمائی میں برکت آتی ہے، اور ایمانداری روزی کو پاکیزہ بناتی ہے۔تاہم جو کچھ کماتے ہیں اس میں سے دوسروں کو دینا، برکت کا ذریعہ بنتا ہے۔صاحبو !اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا دل کو خوش رکھتا ہے ۔حق ہو۔۔۔چپ سائیں ۔۔بولتے بولتے چپ کرگئے۔۔۔ سرجھکایا ۔ ۔ ۔ توقف کے بعد بولے۔۔۔ ناجائز ذرائع سے حاصل کی گئی کمائی برکت سے خالی ہوتی ہے، اس لئے حلال رزق کی کوشش کرنی چاہیے۔
صاحبو!قابل غور بات یہ ہے کہ روزی صرف پیسہ یا مال نہیں بلکہ زندگی کی ہر وہ چیز ہے جو انسان کو زندہ رکھتی ہے، جیسے صحت، عقل، وقت اور خوشیاں۔اگرچہ ''روٹی'' عام زبان میں خوراک کو کہا جاتا ہے، مگر اس کا مطلب وسیع ہے لیکن برکت وہ روحانی اور مادی عنصر ہے جو روزی اور روٹی کو کامیاب اور بابرکت بناتا ہے۔
اگر روزی ہو لیکن اس میں برکت نہ ہو تو انسان کے وسائل کم ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر برکت ہو تو تھوڑی سی روزی بھی بہت زیادہ لوگوں کو کھلا سکتی ہے اور زندگی خوشگوار بناتی ہے۔
بیٹا عقیل اب سب سے اہم بات کی طرف آتا ہوں ۔ مثال کے طور پر، اگر کسی کے پاس اچھی نوکری ہے (روزی) لیکن وہ کھانے پینے میں کفایت شعاری نہ کرے اور فضول خرچی کرے، تو اس کی روٹی کم اور پریشانیاں زیادہ ہوں گی۔ مگر اگر وہ اپنے رزق میں برکت کے لئے دعا کرے، اللہ سے مدد مانگے، اور صدقہ خیرات کرے تو اس کے وسائل میں برکت آئے گی اور اس کی روٹی میں کمی نہیں ہوگی۔نتھو، پھتواور میرے بچو اللہ سے روزی میں برکت کے لئے دعا کریں خود ہی کثرت ہوجائے گی۔
باﺅ عقیل یار تمہارے داد اور اباجی جس دور میں تھے۔۔ اس دور میں وسائل اور آمدن کم تھی لیکن۔۔دل میں جگہ بہت زیادہ تھی، ہر کوئی ایک دوسرے کی مدد کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا تھا اورافراتفری نہیں تھی لیکن۔۔۔آج کے دورمیںنفسا نفسی ہے اور ہر ایک کو اپنی اپنی پڑی ہے اسی وجہ سے روزی روٹی میں برکت بھی اٹھ گئی ہے اور کسی کی پوری نہیں پڑتی۔صاحبوبرکت کے بغیر روزی کی قدر نہیں،اور روٹی کے بغیر زندگی کا کوئی مفہوم نہیں۔یہ تینوں ہی زندگی کے ایسے راز ہیں جنہیں سمجھ کر انسان نہ صرف دنیا میں کامیاب ہوتا ہے بلکہ آخرت میں بھی کامیابی حاصل کرتا ہے۔۔۔صاحبو!۔۔باقی رہے نام اللہ کا۔