Wed, September 16, 2026

’’آپریشن وانا کیڈٹ کالج ‘‘

’’آپریشن وانا کیڈٹ کالج ‘‘

جنوبی وزیر ستان میں قائم کردہ وانا کیڈٹ کالج پر ملک دشمن عناصر نے ایک بار پھر سانحہ اے پی ایس دہرانے کی سازش کی جس کے آپریشن کی نگرانی خود کرتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سپاہ نے پانچ خوارج کو جہنم واصل کیا اس سے قبل بھی 20 خوارج دوزخ کا رزق بنے۔جنوبی وزیرستان کے وانا کیڈٹ کالج میں خود کش حملہ ناکام کرنے کے لئے جس فنی و تربیتی مہارت کی ضرورت تھی وہ دنیا بھر میں مانے ہوئے جنگی صلاحیتوں اور فتح و نصرت کے امین فیلڈ مارشل عاصم منیر ہی کو حاصل تھی چونکہ معصوم جانوں کا معاملہ زیر نظر تھا اور یہ خوف کہ کوئی ایک قیمتی جان بھی دہشت گردی کا شکار نہ ہو فیلڈ مارشل نے لمحہ بہ لمحہ اپنی نگرانی میں الحمد للہ آپریشن کامیاب کروایا ۔ 
جس اندازسے بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج نے بارود سے بھری ہوئی گاڑی گیٹ سے ٹکرائی وانا کیڈٹ کالج کے گیٹ اور سٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا تا ہم دو شیطان تو فوری طور پر جہنم واصل کر دیئے گئے جبکہ تین جانوروں سے انتظامی بلاک کے احاطے میں نہایت ماہرانہ دسترس کے ساتھ شکست فاش دے کر دوزخ دھکیل دیا گیا۔ یہ بات ہمیشہ کی طرح قابل ذکر اور افغانیوں سے مذاکرات کے حامیوں کے لئے ایک طمانچہ ہے کہ وہ دہشت گرد افغانستان میں اپنے ہینڈلرز سے مسلسل رابطے میں تھے ۔ افغانستان کی سرزمین جو مسلسل ان فتنہ الخوارج اور فتنہ الہند کے لئے جائے اماں بنی ہوئی ہے اس بات سے انکاری تھے کہ ان کے ہاں کوئی دہشت گرد نہیں جبکہ اب ثابت شدہ صورتحال میں پاکستان ان فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائی کا پورا پورا حق رکھتا ہے ۔ 
یہاں یہ امر نہایت افسوس ناک اور دل گداز ہے کہ وانا کیڈٹ کالج میں داخل شدہ بچے جنوبی وزیرستان کے پسماندہ قبائلی خاندانوں سے تھے اور محنت و لگن کی بنیاد پر اپنے معاشی حالات اور اقتصادی سٹیٹس کو بہتر کرنے کے علائوہ ملک و قوم کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہوئے مستقبل بنانے جا رہے تھے اگر خدانخواستہ دشمنوں کا وار چل جاتا تو کتنے گھروں کے چراغ بجھ جاتے۔ پاک فوج نے فیلڈ مارشل کی انتہائی ذاتی دلچسپی اور مہارت سے اس موقع پر تو ان کو بچا لیا مگر جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ صوبہ کا وزیر اعلیٰ پورے صوبے کا رکھوالا ہوتا ہے ۔ 
عورتوں بچوں اور طلباء کی جان و مال کا امین کمال حیرت یہ کہ عرصہ دراز سے خیبرپختونخوا کو بدقسمتی سے ایسی قیادت ملی ہوئی ہے جس نے پورے صوبے کو معاشی ، اقتصادی اور ترقی کے لحاظ سے سب صوبوں سے پیچھے کر دیا ہے اس تمام تر نااہلی کے باوجود وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سے اس سفاکی کی امید نہ تھی کہ وہ اس سانحے میں کہیں بھی دکھائی نہ دے اس سے قبل علی امین گنڈا پور بھی دریا میں ہونے والی اذیت ناک اموات ریسکیو نہ کر سکنے والی شہادتوں پر قطعی شرمندہ نہ ہوا تھا ۔ اس موقع پر جہاں سارے ملک کے حساس لوگوں کے دل کانپ گئے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سرے سے غائب ہے ۔ پورا صوبہ ایسے لوگوں کے ہتھے چڑھا ہوا ہے جن کا مقصد تمام وقت بڑھکیں لگا کر اپنے لیڈر سے وفاداری ثابت کرنا دھرنے جلوس اور حکومتی مشنری کو محض سیاست کے لئے استعمال کرنا ہی ہے ۔ ان کے لیڈر خان کی طرف سے انہیں نہ ہی عوامی خدمت کی کوئی تلقین ہے اور نہ ہی صوبے کے انتظام سے متعلق کوئی لائحہ عمل ہی ان کی سیاست کا موضوع ہے ۔ 
اگر ایسی ابتر صورت حال میں جنوبی وزیرستان میں وانا کیڈٹ کالج میں مستقبل سنوارنے والے قبائلی بچے اپنے ملک اور خاندان کی محبت میں داخل ہو کر ٹریننگ لے ہی رہے تھے تو بجائے ان کو حوصلہ افزائی کرنے کے ان پر اتنے شدید خوارج کے حملے پر وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی مسلسل غائب رہا نہ اس نے علاقے کی ریت روایت کا خیال کیا نہ ہی اس نے اخلاقی و انتظامی ہی فرائض کا خیال کیا۔ 
اب 8 اور 9 نومبر کو دو بڑے آپریشن الگ الگ آپریشن کئے گئے پہلی کارروائی شمال وزیرستان کے علاقے سوال میں کی گئی جہاں پر بھارت کی پشت پناہی رکھنے والے 8 فتنہ الخوارج کو جہنم واصل کیا گیا دوسرے آپریشن جو درہ آدم خیل میں کیا گیا اس میں 12 فتنہ الخوارج جہنم واصل ہوئے ۔ اس طرح مختصر عرصہ میں ہی 25 دہشت گرد جہنم واصل کر کے ہزاروں معصوم جانیں بچا لی گئیں۔ کیڈٹ کالج وانا میں اگر بروقت دانشمندانہ آپریشن کر کے 650 طلباء کو نہ بچایا جاتا تو آج پورے ملک میں صف ماتم بچھ جاتی مگر فیلڈ مارشل جناب عاصم منیر نے بروقت اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اتنے زیادہ گھرانوں کے چشم و چراغ کو نہ صرف بچا لیا بلکہ دہشت گردوں کے حوصلے بھی توڑ دیئے ایک مرتبہ پھر ان کے ہینڈلرز کو یہ پیغام دے دیا کہ پاکستانی افواج سیسہ پلائی دیوار بن کر ہر منفی کارروائی کا راستہ روکیں گے جو ان کے معصوم شہریوں و دیہات میں بسنے والوں کو نشانہ بنانا چاہے گا۔ 
ابھی دل ایسی دہشت گردی سے سنبھلا بھی نہ تھا کہ کل اسلام آباد کچہری میں خود کش دھماکہ میں 12 شہری شہید اور27 زخمی ہو گئے ۔ کمال مہارت سے دہشت گرد کو کچہری میں داخل نہ ہونے دیا گیا وگرنہ نقصان کی شدت اس سے بھی زیادہ ہوتی ۔8 کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا تھا اس موقع پر آئی جی ، وکلاء اور سائلین کو عقبی دروازے سے نکالا گیا تھا ۔ 
خواجہ آصف اور محسن نقوی کے بیانات کی روشنی میں یہ امر واضع ہے کہ یہ ’’ویک اپ کال‘‘ ہے ہمیں الرٹ ہونا پڑے گا ۔ بھارت افغان رابطے اور دشمن کا دشمن سے مل جانا کھلی چنوتی ہے ۔ دھماکے سے قبل بیرونی اکائونٹس سے افغان طالبان کی ٹویٹس قابل ذکر ہیں ، جن سے یہ طے ہو گیا کہ یہ سب بھارتی سپانسر اور فتنہ الخوارج کی ملی بھگت سے ہوا۔ اسی طرح افغان ملٹری پریڈ کے موقع پر بھی لاہور میں افغان جھنڈالگانے اور اسلام آباد کو جلانے کی باتیں کی گئی تھیں۔ 
اب ان کارروائیوں کے بعد خود ہی افغان ذرئع کا کہنا ہے کہ پاکستان کے حملے کے جواب میں فوری حملہ کیا جائے گا ۔ اتنے زیادہ نفرت انگیز ماحول میں یہ کیسے دکھ کی بات ہے کہ وہ بچے جو محض تعلیم کی خاطر وانا کیڈٹ کالج میں پڑھنے گئے تھے اگر لقمہ اجل بن جاتے تو کیا ہوتا؟وطن عزیز کے لئے ہر قلم دعاگو ہے ہر آنکھ کا خواب ہے کہ امن امان ہو مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ بعض مرتبہ جنگ کو ختم کرنے کے لئے جنگ کرنا پڑتی ہے جو کہ ہماری فورسز کے لئے قطعی مشکل نہیں سرحدوں پر جانا اور مزہ چکھا دینا فضائوں کو اسیر کرنا اور جہازوں کے جہاز گرا دینا کوئی مسئلہ ہی نہیں مگر جہاں وطن کے اندر آگ لگی ہو وہاں بہت سوجھ بوجھ اور دانشمندی بھی ضروری ہے ۔ بہادری میں کوئی شک نہیں لیکن فہم و فراست کا ساتھ بھی ضروری ہے جو کہ الحمد للہ عسکری قیادت کو حاصل ہے ۔ آخر میں نہ جانے کیوں اپنا شعر یاد آ رہا ہے ۔ 
ذات کے خول میں دھونی سی مچا رکھی ہے 
گھر کے اندر ہی کہیں آگ لگا رکھی ہے 

ٹیگز: