ہمارے سینئر کالم نویس عطا الحق قاسمی نے کچھ مولوی صاحبان کی ذہنیت کی عکاسی کرتے ہوئے اُنہیں ”مولوی کمرشل سروس“ کہا تھا، ہمارے ایک سیاسی مولانا ہیں جنہیں میں ہمیشہ ”مال آنا“ کہتا اور لکھتا ہوں، کسی ادارے کے حق میں بولنے کا اُن کا ریٹ الگ ہے، خلاف بولنے کا الگ ہے، اور سب سے زیادہ ریٹ چُپ رہنے کا ہے، آج کل عوام کی اذیتوں و تکلیفوں پر وہ چُپ ہیں جس کا مطلب ہے آج کل ”کاروبار چُپ“ خوب چمک رہا ہے، جہاں تک ”مولانا ہاتھ نہ ملانا“ کا تعلق ہے میں نے کبھی خود کو اس قابل نہیں سمجھا مجھ ایسا غلیظ اور خطاکار انسان اُن کی شخصیت سے متاثر ہونے کا اعزاز حاصل کرے، البتہ جو لوگ اُن کی شخصیت کے کچھ پہلوو¿ں سے متاثر ہیں اور اُن سے عقیدت رکھتے ہیں ہمیں اُن کا احترام ہے، مجھے ایک واقعہ یاد آ رہا ہے، عام تاثر یہی تھا سابق وزیراعظم عمران خان اُن سے والہانہ عقیدت رکھتے تھے، اس بنیاد پر ہمیں یہ خدشہ بھی رہتا تھا بشریٰ بی بی اُن پر بھی بنی گالہ کے دروازے بند نہ کرا دے، بعد میں ہمیں پتہ چلا خان صاحب کی اُن سے عقیدت محض دکھاوے کی ہے، ایک روز میں نے کہیں خبر پڑھی مولانا وزیراعظم ہاو¿س میں خان صاحب سے ملنے آئے اُنہیں دو گھنٹے انتظار کرنا پڑا، مجھے دُکھ ہوا، کچھ عرصے بعد میری خان صاحب سے ملاقات ہوئی میں نے اُن سے کہا ”مولانا اللہ جانے کس وجہ سے آپ سے بے پناہ عقیدت رکھتے ہیں، اللہ نے اُنہیں بڑا رُتبہ دیا ہوا ہے، میری گزارش ہے اُنہیں جب بھی آپ سے ملنے کی طلب ہو آپ خود اُن کے پاس چلے جایا کریں“، وہ بولے ”میں کیوں جاو¿ں؟ اپنے کاموں کے لیے اُنہیں ہی میرے پاس آنا چاہیے“، ہم جیسے خطاکاروں بلکہ سیاہ کاروں نے کبھی پارسائی کا دعویٰ نہیں کیا، نہ ہی ہم نے مولانا بننے کی کوشش میں لوگوں کو ایسی باتیں سُنائیں جن پر ہم خود عمل نہیں کرتے، ہماری التجا یا گزارش لوگوں کی بے پناہ عقیدتیں و محبتیں سمیٹنے والے مولانا سے ہمیشہ یہی رہی ہے وہ لوگوں کو صرف اُن اچھے کاموں کی تلقین کیا کریں جو وہ خود کرتے ہیں، دلوں کے حال اللہ جانتا ہے یا انسان خود جانتا ہے، ایسے اچھے اعمال جن پر انسان خود عمل نہ کرتا ہو مگر دوسروں کو اُس کی تلقین پر تلقین کرتا جا رہا ہو وہ منافقت کے زمرے میں آتے ہیں، کچھ عرصہ پہلے مولانا کا ایک انٹرویو اداکارہ میرا فیم صحافی ارشاد بھٹی نے کیا تھا، اُس انٹرویو میں بیشمار سوالوں کا وہ اطمینان بخش جواب نہیں دے سکے تھے، ارشاد بھٹی نے بھی مولانا کے احترام میں اپنے اُن سوالوں پر ویسا زور نہیں دیا جیسا زور وہ اداکارہ میرا پر دے رہے تھے، ارشاد بھٹی کی شاید دو ہی خواہشیں تھیں، ایک مولانا کا دوسرے اداکارہ میرا کا پوڈ کاسٹ کرنا، دونوں کا اکٹھے بھی کیا جا سکتا تھا جیسے پچھلے دنوں اُنہوں نے ناصر ادیب اور خلیل الرحمان قمر کا اکٹھے کیا، جن سوالوں کے جوابات اداکارہ میرا نہیں دے پا رہی تھی ممکن ہے مولانا بڑی آسانی و روانی سے دے دیتے، اس طرح اُنہیں اداکارہ میرا کو گلے سے لگانے کا موقع بھی مل جاتا جیسے مہک ملک کو اُنہوں نے لگایا تھا، مہک ملک آج بھی کُھلے دل سے یہ اعتراف کرتی ہے یا کرتا ہے اُس جپھی سے اُن کے کاروبار میں بے پناہ خیرو برکت ہوئی تھی، میں نے ایک تقریب میں دیکھا مہک ملک کی برادری عقیدت سے مہک ملک کے ہاتھ چُوم رہی تھی، مجھے لگا اُن کی برادری اب اُنہیں اپنا ”مولانا“ سمجھتی ہے، چنانچہ برادری میں کوئی خوشی غمی ہو مجھے یقین ہے دعا کے لیے ”مولانا مہک ملک“ کو ہی بلایا جاتا ہو گا، ”مولانا ہاتھ نہ ملانا“ اب عمر کے جس حصے میں ہیں معاوضوں، چندوں و ہدیوں سے مکمل طور پر بے نیاز ہو کر اُنہیں آرام کرنا چاہیے، بڑے واعظ اُنہوں نے کر لیے جن کا معاشرے پر اُلٹا اثر ہی ہوا، اب وہ اپنے واعظوں میں تھوڑا وقفہ دے کے دیکھ لیں شاید معاشرہ سُدھر جائے، وہ شاید اپنے حصے کی شمع جلانے کی کوشش کرتے ہیں مگر اُس کی روشنی سے اللہ جانے وہ خود کیوں محفوظ رہنا چاہتے ہیں؟ وہ اب اتنے بوڑھے اور کمزور ہو گئے ہیں اپنی گاڑی کا دروازہ تک خود نہیں کھول پاتے اور اُنہوں نے کیا کھولنا ہے؟ اگلے روز اُن کی ایسی وڈیو نظر سے گزری جو دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، مولانا کی گاڑی جب ”جائے وقوعہ“ پر آ کر رُکی وہ تب تک گاڑی سے نہیں نکلے جب تک ایک ہیبت ناک بندوق بردار نے اُن کی گاڑی کا دروازہ نہیں کھول دیا، اُن کا موڈ سخت خراب تھا جیسے رستے میں اُنہیں یہ اطلاع ملی ہو ”محفل“ میں اُن کی شرکت کا جو معاوضہ طے کیا گیا ہے اُس کے بقایا جات اُنہیں کچھ عرصے بعد ملیں گے، یعنی فوراً نہیں ملیں گے، جتنے لوگ اُن کے استقبال کے لیے کھڑے تھے کسی کی طرف آنکھ اُٹھا کر اُنہوں نے شاید اس لیے نہیں دیکھا اُن میں سارے مرد اور بچے تھے، اتنی بیزاری میں گھر سے وہی نکل سکتا ہے جسے نہ نکلنے کی صورت میں کسی بڑے مالی نقصان کا اندیشہ ہے، اگر وہ نکل ہی آئے تھے اپنے قدر دانوں کے جذبات کا اُنہیں خیال رکھنا چاہیے تھا، اُن کے عقیدت مندوں کو چاہیے کسی محفل، نکاح، یا خطبے وغیرہ میں اُن کی شرکت کا معاوضہ طے کرتے ہوئے عقیدت مندوں کی سلام کا جواب دینے، اُن سے ہاتھ ملانے خصوصاً بچوں سے ہاتھ ملانے کی اُن سے اضافی فیس طے کر لیا کریں جیسے آج کل ہمارے شادی ہالز کی انتظامیہ ون ڈش اور ٹائمنگ کی خلاف ورزی کا الگ سے معاوضہ طے کر لیتی ہے، مولانا کے صاحبزادے یوسف جمیل نے اپنے والد کی طرف بچے کا ہاتھ جھٹک دینے کے عمل پر فرمایا ”مولانا کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی“، اُس کے بعد مختلف مجلسوں میں مولانا کو بیشمار بچوں سے ہاتھ ملاتے دکھایا گیا، یہ وضاحت صرف مولانا کے اندھا دُھند پرستاروں کے لیے ہی قابل قبول ہو سکتی ہے، اُنہیں خود بڑے پن کا مظاہرہ اس طرح کرنا چاہیے تھا جس بچے کا ہاتھ جھٹکا تھا اُسے اپنے پاس بُلاتے، گلے سے لگاتے اور معذرت کر لیتے، پر کیا کریں ہمارے کچھ مولوی ایسا عمل مشکل سے ہی کرتے ہیں جس کا اُنہیں ہدیہ یا معاوضہ وغیرہ نہ ملنا ہو۔