Wed, September 16, 2026

امریکہ کا روس-یوکرین تنازع میں ثالثی سے ہاتھ کھینچنے کا عندیہ

امریکہ کا روس-یوکرین تنازع میں ثالثی سے ہاتھ کھینچنے کا عندیہ

پیرس: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے عندیہ دیا ہے کہ اگر روس اور یوکرین کے درمیان امن معاہدے کی راہ ہموار نہ ہوئی تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ چند روز میں ثالثی کا کردار ختم کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، پیرس میں یورپی اور یوکرینی قیادت سے ملاقات کے بعد مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ امریکہ طویل المدتی ثالثی کا ارادہ نہیں رکھتا، اور ہمیں جلد یہ طے کرنا ہوگا کہ آیا معاہدہ ممکن ہے یا نہیں۔

ان کے بقول، ’’اگر معاہدے کی کوئی صورت نظر نہ آئی تو صدر ٹرمپ یہ فیصلہ لے سکتے ہیں کہ اب مزید یہ کوشش جاری نہیں رکھی جا سکتی۔‘‘

روبیو کے اس بیان پر فی الوقت پیرس، لندن، برلن یا کیف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، لیکن یورپی سفارتی ذرائع نے اشارہ دیا ہے کہ ان بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں روسی رویے سے ناراضگی بڑھ رہی ہے۔

دوسری جانب، کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ معاہدے کے حوالے سے کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے، لیکن واشنگٹن کے ساتھ رابطے پیچیدہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ روس مفاہمت کی کوششوں کو اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے ساتھ آگے بڑھانا چاہتا ہے۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ جلد یوکرین کے ساتھ ایک معدنیات کے معاہدے پر دستخط کرنے کی توقع رکھتے ہیں، جو گزشتہ مہینوں میں تعطل کا شکار رہا تھا۔

پیرس میں ہونے والی حالیہ بات چیت کو امریکہ کی امن کوششوں میں پہلی باضابطہ اور اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس میں یورپی طاقتوں نے بھی بھرپور شرکت کی۔

مارکو روبیو نے دعویٰ کیا کہ ان کا پیش کردہ امریکی فریم ورک یورپی رہنماؤں کو حوصلہ افزا لگا، جبکہ یوکرینی صدر زیلنسکی کے دفتر نے مذاکرات کو مثبت اور نتیجہ خیز قرار دیا۔

تاہم، امریکی وزیر خارجہ کے انداز میں اچانک آنے والی سختی نے عندیہ دیا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں موجودہ صورتحال پر تشویش بڑھ رہی ہے۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ عہدہ سنبھالنے کے پہلے ہی دن یوکرین میں جنگ کا خاتمہ کر دیں گے، تاہم بعد ازاں انہوں نے امن معاہدے کے لیے اپریل یا مئی کی ٹائم لائن دی۔

اگر امریکہ ثالثی کی کوششوں سے دستبردار ہوتا ہے تو امن عمل کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے، کیونکہ کسی اور ملک کے پاس ماسکو اور کیف دونوں پر بیک وقت مؤثر دباؤ ڈالنے کی صلاحیت موجود نہیں۔

ٹیگز: