اس وقت ملک میں ایک بار پھر سے دہشت گردی اپنے پنجے مضبوطی سے گاڑ چکی ہے اتنے زیادہ کہ قومی اداروں اور دہشت گردوں میں باقاعدہ محاذ آرائی شروع ہو چکی ہے۔ دہشت گرد سکیورٹی اداروں اور نہتے عوام کو باقاعدہ نشانہ بنا رکر انہیں شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے بلکہ آج جب نیٹو فورسز افغانستان سے نکل گئی ہیں تو پھر بھی پاکستان کو دہشت گردی کے ناسور کا سامنا ہے۔ گلوبل ٹیررازم انڈیکس کی حالیہ رپورٹ کے مطابق کالعدم ٹی ٹی پی پاکستان میں سرگرم سب سے بڑی دہشت گرد تنظیم ہے جسے افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں میسر جہاں سے وہ پاکستان پر حملے کرتی ہے۔ رپورٹ میں کالعدم ٹی ٹی پی کو دنیا کی چار خطرناک ترین دہشت گرد تنظیموں میں شامل کیا گیا ہے، جو گزشتہ سال پاکستان میں ہونے والے 550 سے زائد حملوں کی ذمہ دار ہے جب کہ گزشتہ ماہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی نگران کمیٹی کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ میں تفصیل سے کہا گیا ہے کہ افغانستان کے کئی صوبوں میں دہشت گرد تنظیموں نے تربیتی مراکز قائم کر رکھے ہیں اور القاعدہ کے جنگجو صوبہ کنڑ میں ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو خود کش حملوں کی تربیت دے رہے ہیں۔ اس وقت افغانستان میں بیس کے لگ بھگ دہشتگرد تنظیمیں فعال ہیں جو علاقائی ممالک کے لئے سلامتی کے مسائل پیدا کر رہی ہیں۔ اس بات کے مصدقہ شواہد موجود ہیں کہ افغان حکام ان دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کر رہے ہیں۔
نیٹو افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد توقع کی جا رہی تھی اب نہ صرف افغانستان میں بلکہ پاکستان میں بھی امن کی صورتحال پیدا ہو جائے گی۔ کیونکہ پاکستان نے ہر کڑے وقت میں افغانستان کا ساتھ دیا ہے۔ لیکن صورتحال بالکل اس کے برعکس ہو گئی ہے آج تحریکِ طالبان پاکستان کے لوگ افغانستان کی سرزمین استعمال کر کے پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں کر رہے ہیں جس میں اپنے ہی مسلمان بھائیوں کا خون بہہ رہا ہے۔ حالیہ جعفر ایکسپریس ٹرین پر دہشت گردی کے حملے اور مسافروں کو یرغمال بنانے کے واقعے میں دیکھا گیا کہ دہشت گرد بھارت سے اور افغانستان سے ہدایات لے رہے تھے۔ کوئی یہ تصور بھی نہیں کر سکتا ہے کہ کلمہ گو مسلمان رمضان کے برکتوں والے مہینے میں اپنے ہی کلمہ گو نہتے مسلمان بھائیوں کے ساتھ یوں خون کی ہولی کھیلیں گے اور مقدس مہینے میں سنگدلی اور سفاکیت کا مظاہرہ کریں گے۔
حالیہ واقعہ بڑا سنگین ہے اس کی معافی کسی صورت بھی ممکن نہیں ہے، ان قاتلوں، درندوں، انسانیت کے دشمنوں کا عمل بہت سنگین ہے، ان کا ہر حال میں خاتمہ کیا جانا چاہئے۔ ان کا نیٹ ورک توڑنا چاہئے ، ان کی قوت ختم کی جانی چاہئے۔ جہاں تک تعلق ہے قوم پرست بلوچوں کا انہیں مرکز سے کچھ شکایات ہیں یہ کوئی ایسی بڑی بات نہیں ہے شکایات اپنوں سے ہی ہوتی ہیں۔ وہ اپنے لوگوں کی بات کرتے ہیں ، اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ یہ جمہوری طرزِ عمل ہے۔ اس کا انہیں حق حاصل ہے۔ ان لوگوں سے بات کرنی چاہئے اور ان کی تمام شکایات کا ازالہ ہونا چاہئے۔ بلوچستان میں امن کے قیام کے لئے دہشت گردوں اور عوام کے درمیان فرق ضروری ہے۔ بلوچ اکثریت امن کی خواہاں ہے۔ تعلیم، صحت اور روزگار کے حوالے سے سے ان کی شکایات جائز ہیں۔ دہشت گردوں نے انہی مسائل کو اپنے تخریبی منصوبوں کے لئے بطور ہتھیار استعمال کیا ہے اور نوجوانوں کو خود کش حملوں کے لئے بھرتی کرنے میںکامیاب ہو رہے ہیں۔
" اَن دیکھے ہاتھ" ہیں جو نوجوانوں کی برین واشنگ کر کے انہیں اپنے ناپاک مقاصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ ورنہ کوئی ذی شعور نہ اس طرح موت کے منہ میں چھلانگ لگاتا اور نہ ہی اپنے مسلمان بھائیوں کا قتلِ عام کرتا ہے۔ ایسے عناصر کا سراغ لگانے کی ضرورت ہے جو " جنت میں پلاٹ" فروخت کر رہے ہیں۔ اس سے کوئی انکار نہیں کرتا کہ خود کش حملہ آوروں کی تمام تر کارروائیاں انتہائی ظالمانہ، قابلِ مذمت و نفرت ہیں۔ پاکستان کو اس نئی دہشت گردی کی لہر سے نمٹنے کے لئے فوری اور جامع حکمتِ عملی اپنانا ہو گی۔ سب سے پہلے سکیورٹی فورسز کو مزید مضبوط اور جدید آلات سے آراستہ کرنا ہو گا۔دہشت گردوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی کرنی ہو گی۔ افغانستان کے ساتھ سفارتی سطح پر معاملات کو واضح کرنا بھی ضروری ہے تا کہ افغان حکومت تحریکِ طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی کرے اور انہیں محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کرے۔ انہیں بتانا ہو گا کہ دنیا تو پہلے ہی مسلم اُمہ کو نیست و نابود کرنا چاہتی ہیں ہمیں خود کو متحد کر کے اغیار کی سازشوں کا توڑ کرنا چاہئے نہ کہ اپنے اختلافات کو ہوا دے کرمسلم ممالک کو کمزور کرنا ہے۔
دوسری جانب قوم کو نہ صرف اعتماد میں لیا جائے بلکہ پوری قوم کی تائید و حمایت سے آپریشن کیا جائے تا کہ کسی جانب سے بھی اعتراض نہ ہو اور نہ ہی کوئی انگلی اٹھ سکے۔ اس وقت سب سے اہم ضرورت قومی یکجہتی کی ہے کہ اسی طرح ایسی قوتوں کا کامقابلہ کیا جا سکے گا۔ صرف حکومت کو ذمہ دار قرار دے کر بات نہیں بنے گی۔ اس وقت جس صورتحال کا سامنا ہے اس کا تقاضا ہے سب متحد ہو کر اس کا مقابلہ کریں۔ بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی صرف بلوچستان تک محدود نہیں ہے اس کا مقصد پاکستان کے معاشی، سیاسی اور سکیورٹی ڈھانچے کو عدم استحکام سے دوچار کر کے ریاستِ پاکستان کی رٹ کو چیلنج کرنا ہے اور شہریوں کے اندر خوف اور بے یقینی کی فضا پیدا کرنی ہے اور دہشت گرد اس میں کامیاب ہیں۔ بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں ہوں یا عالمی دہشت گرد یہ عناصر بڑے منظم طریقے سے یہ کام کئی دہائیوں سے کر رہے ہیں۔ بلوچستان کی سٹرٹیجک پوزیشن اور یہاں بلوچوں کی سماجی اور معاشی حقوق سے محرومی اور غربت کے امتزاج نے خطے کو عالمی سٹیک ہولڈرز کے لئے آسان ٹارگٹ بنا رکھا ہے کہ وہ اپنے مفادات کے لئے بلوچوں کی سر زمین کو وار زون بنائے رکھیں۔ حالیہ دہشت گردی کے واقعات نے بھارت اور افغانستان کے کردار کو نمایاں کر دیا ہے۔ بھارت چاہتا ہے کہ بلوچستان میں معاشی خوشحالی نہ آئے ، سی پیک گوادر میں ہونے والی معاشی سرگرمیاں دہشت گردی کے سائے تلے دم توڑ جائیں۔ ان کی کوشش یہی ہے کہ اس خطے میں آگ اور خون کا یہ کھیل جاری رہے۔ ہمارے لئے لمحہ فکریہ یہ ہے کہ آج دنیا کی تمام مٔوثر طاقتیں اور ان کی باجگزار ریاستیں بھارتی موقف کی ہمنوا بن چکی ہیں۔ یہی اسلامو فوبیا کی سوچ ہے۔ مسلم ممالک کو ان سازشوں کا ادراک کرنا چاہئے۔