پاکستان حالت جنگ کے ساتھ ساتھ حالت آزمائش میں بھی ہے۔ آزمائشیں تہہ در تہہ ہیں۔ ایک کے بعد دوسری سامنے آ جاتی ہے۔ کوئٹہ میں ٹرین کا دہشت گردوں کے ہاتھ اغوا اور معصوم شہریوں کی جانوں سے کھیلنا قابل مذمت اور قابل نفرت عمل ہے لیکن دہشت گرد کے ذہن میں کوئی مثبت خیال آ ہی نہیں سکتا۔ چھتیس گھنٹے تک جاری رہنے والا آپریشن اپنے اختتام کو پہنچا اور اپنے پیچھے کئی سوال چھوڑ گیا۔ کوئٹہ ریلوے سٹیشن پر ہی گزشتہ برس اسی ٹرین کو ٹارگٹ کیا گیا تھا جہاں ایک دہشت گرد خودکش جیکٹ پہنے ٹہلتا ٹہلتا پلیٹ فارم پر آیا، اپنا پرہجوم ٹارگٹ تلاش کرتا رہا پھر اس نے اپنے آپ کو اڑا لیا اور درجنوں افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔ جعفر ایکسپریس ایک مرتبہ پھر تخریب کاروں کے نشانے پر آئی لیکن مسافروں کو نشانے پر لینے کیلئے مختلف طریقہ استعمال کیا گیا۔
گزشتہ برس کوئٹہ ریلوے سٹیشن پر ہونے والی تخریب کاری کے بعد چیکنگ کے نظام میں کچھ بہتری آئی تھی لیکن واقعے پر وقت کی گرد پڑ جانے کے بعد وہی برسوں پرانا ڈھیلا ڈھالا طرز عمل واپس آ گیا۔ حالانکہ پورے بلوچستان اور بعض خاص علاقوں میں تو خاص طور پر ”ریڈ الرٹ“ کی سی کیفیت ہونی چاہئے تاوقتیکہ دہشت گردوں کا مکمل صفایا نہ ہو جائے۔ ظاہر ہے یہ آسان کام نہیں ہے، اس میں وقت لگے گا۔
ٹرین یرغمال بنائے جانے کی اطلاع آنے سے قبل کوئٹہ ریلوے سٹیشن پر احتیاطی تدابیر سے اجتناب کی اطلاعات ہیں۔ ٹرین کے ساتھ ناکافی سکیورٹی کے معاملے کو دیکھنا ہوگا، دشمن کی حکمت عملی کے ساتھ اسے دیکھتے ہوئے حفاظتی حکمت عملی کو تبدیل کرنا ہوگا۔ عیدین کے علاوہ بھی فورسز سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد بذریعہ ٹرین دور دراز علاقوں سے اپنے آبائی علاقوں کا سفر کرتی ہے۔ اس ٹرین کو آرمی سپیشل کہا جاتا ہے۔ بلوچستان اور صوبہ خیبر میں تخریب کاری کے واقعات کے تسلسل کے بعد اب ”آرمی سپیشل ٹرین“ کی بجائے مکس ٹرین چلائی جاتی ہے یا فورسز سے تعلق رکھنے والوں کیلئے چند بوگیاں مخصوص کرکے لگا دی جاتی ہیں۔ اس میں ہرج کوئی نہیں لیکن ان کی حفاظت کے انتظامات خاطر خواہ ہونا ضروری ہیں۔ متبادل کے طور پر کوئٹہ سے ایک سی ون طیارہ سیکڑوں افراد کو لے کر راولپنڈی لینڈ کر سکتا ہے جہاں سے پشاور کی طرف جانے والے آگے بڑھ جائیں اور جنہیں اس سے پیچھے شہروں میں جانا ہے وہ پیچھے پلٹ جائیں۔ ٹرین کے سفر میں بھی چھٹی جانے والوں کا اسلحہ ان کے پاس موجود ہو جو خطرے کی حدود میں سے باہر آ جانے کے بعد خاص انتظامات کے تحت واپس لے لیا جائے اور واپسی پر اسی طرح جوانوں کے حوالے کر دیا جائے۔ اس کے علاوہ سفر کو محفوظ بنانے کے لئے اور کئی منصوبوں پر عمل ہو سکتا ہے لیکن اس حوالے سے ایسے اقدامات کرنا ہوں گے کہ یہی واقعہ دوبارہ رونما نہ ہو۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ ہمت اور حوصلے سے لڑی جا رہی ہے، جانوں کے نذرانے، قربانیاں پیش کی جا رہی ہیں۔ افواج پاکستان اور خصوصاً پاکستان آرمی نے دہشت گردوں کے خلاف جو کامیاب آپریشن کئے ہیں ان میں کراچی میں نیول بیس پر حملہ، اے پی ایس حملہ اور اب ٹرین کو اس کے مسافروں سمیت کم سے کم نقصان کے ساتھ بازیاب کرانا اہم ٹاسک تھے جس میں وہ سرخرو رہے۔ اللہ تعالیٰ حوصلے اور ہمتیں سلامت رکھے۔
پنجاب یا سندھ سے کوئٹہ بذریعہ ٹرین سفر ایک سے زائد بار کریں تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ بلوچستان اور خاص طور پر اس سفر میں کیا لینڈ سکیپ ملتا ہے۔ گھر بیٹھے تبصرہ کرنے والے زمینی حقائق سے نابلد نظر آئے بعض تبصرہ کرنے والوں کا رویہ افسوس ناک بلکہ شرمناک تھا۔ وہ اپنے اداروں پر اس وقت تنقید کرتے نظر آئے جب دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع ہو چکا تھا۔ ایک سوشل میڈیائی دانشور ایسا تھا جو میڈیا کو کنٹرول کرنے کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز رہا۔ اس نے صرف توجہ حاصل کرنے کیلئے اپنے یو ٹیوب چینل پر بیٹھ کر مکاری کے تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے خبر دی کہ اس دہشت گردی کی سازش دو روز قبل امریکہ میں تیار کی گئی تھی۔ یہ کہانی من گھڑت تھی۔ ٹرین اغوا کے بعد دنیا بھر کا میڈیا اپنے اپنے انداز اور اپنی اپنی پالیسی کے مطابق واقعے کی کوریج کرتا رہا۔ اس میں بی بی سی، سی این این، الجزیرہ، رشین ٹی وی اور بھارتی ٹی وی شامل ہیں۔ سب سے زیادہ مکروہ کردار بھارتی میڈیا کا رہا جو اہل پاکستان کیلئے کوئی نئی بات نہیں۔ ان سے خیر کی توقع کرنا حماقت ہے۔ وہ دشمن ہے اور پاکستان میں تخریب کاروں کو ٹریننگ، اسلحہ اور پیسہ فراہم کرنے میں ملوث ہے لیکن حیرت ہے ٹرین ہائی جیک کے معاملے پر کسی رٹو طوطے، ملکی سطح کے کسی لیڈر یا حکومتی ترجمان نے بھارت کا نام لیکر پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات پر بات نہیں کی۔ ذمہ دار ترین افراد یہ کہتے نظر آئے کہ دہشت گرد اپنی کارروائیوں کے دوران افغانستان میں اپنے ماسٹر مائنڈ سے ہدایات بذریعہ سیٹلائٹ فون حاصل کر رہے تھے اس کے بعض پیغامات انٹرٹیپ ہوئے تو یہ راز کھلا۔ یہاں اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے بھارت کو ایک طے شدہ منصوبے کے تحت کلین چٹ دے دی ہے اور اب ہم تخریب کاروں کے ناتے صرف افغانستان سے ہی جوڑتے رہیں گے؟
پاکستان کا میڈیا محتاط رہا کسی بھی چینل سے رننگ کمنٹری کے انداز میں اطلاعات نہیں دی گئیں۔ ماضی میں اس طرح کی لمحہ بہ لمحہ اطلاعات سے دشمن کو فائدہ ہوا۔ وہ اپنی کارروائی کرتے تو ان کے ماسٹر مائنڈ پاکستانی چینل دیکھتے جہاں بتایا جاتا کہ اب دہشت گردوں کیخلاف کس انداز میں کارروائی شروع ہونے والی ہے لہٰذا اب اس روش کو ترک کر دیا گیا ہے لیکن مکمل خاموشی کا ایک نقصان ہوا کہ افواہیں تیزی سے پھیلتی رہیں ان میں پاکستان دشمن سوچ رکھنے والے نمایاں نظر آئے۔ کئی چہروں سے نقاب تو پہلے ہی اتر چکے تھے، اب وہ مکمل ننگے ہو کر سامنے آئے۔ اطلاعاً عرض ہے، دہشت گردوں کیخلاف آپریشن شروع ہونے کے بعد تابوت بنانے کا کام شروع نہیں ہوتا۔ ایس او پی کے تحت ہر ذمہ دار جانتا ہے کہ کس وقت کس چیز کی ضرورت ہوگی۔ یہ بہت پہلے سے تیار کر لی جاتی ہے۔ دو سو تابوت کی کہانی پھیلانے کا مقصد خوف و ہراس پھیلانا تھا جو انتہائی افسوس ناک ہے۔ تخریب کاروں نے دو صوبوں کو ٹارگٹ کر رکھا ہے۔ بنوں حملے کے بعد کوئٹہ میں ٹرین ہائی جیک ہوئی لیکن اس کا مطلب یہ نہ لیا جائے کہ پاکستان کے دیگر شہروں میں کچھ نہیں ہوگا، احتیاط کا دامن نہ چھوڑیں۔ کسی بھی شہر میں عید کے موقع پر پرہجوم بازار یا مارکیٹ کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، ریڈ الرٹ موڈ میں ہیں۔ دودھ دیتے وقت بعض اوقات بھینس دم مار کر سارا دودھ گندہ کر دیتی ہے ٹرین سانحہ کی تفصیلات بتانے والے بھی کچھ ایسا ہی کرتے نظر آئے۔