Wed, September 16, 2026

اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ،ضمیر کی پکار یا معاشی وبال؟

 اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ،ضمیر کی پکار یا معاشی وبال؟

کبھی کبھی لفظ بے بس ہو جاتے ہیں اور احساسات احتجاج بن جاتے ہیں۔۔۔جب تصویریں چیخ چیخ کر انسانیت کا جنازہ دکھا رہی ہوں،جب بچے ملبے تلے دبے ہوں،جب ماں کی گود خالی اور باپ کی آنکھیں ویران ہوں،تب سوال یہی اٹھتا ہے،ہم کیا کریں؟؟؟جب ظلم تصویروں سے باہر نکل کر آنکھوں میں اتر آئے اور چیخیں اخبار کی سیاہی سے ہو کر دل تک پہنچنے لگیں،تب سوال یہی جنم لیتا ہے کہ ہم کیا کریں؟؟؟ہم جو نہ توپ رکھتے ہیں،نہ ٹینک،نہ بم،نہ میزائل۔۔۔شاید ہم ٹینکوں کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتے،نہ ہی راکٹوں کا مگر ہم اپنا پیسہ،اپنی جیب اور اپنی ترجیحات تو بدل سکتے ہیں۔۔۔یہی بائیکاٹ ہے۔۔۔ایک ایسا خاموش ہتھیار،جو بظاہر کمزور لگتا ہے مگر اندر ہی اندر ایک طوفان کو جنم دیتا ہے۔۔اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ،ایک ایسا عمل جو شاید چھوٹا لگے مگر جب اجتماعی شعور بن جائے تو پوری دنیا کی معیشتوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دے۔۔۔ اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ،محض خرید و فروخت سے گریز نہیں بلکہ ضمیر کی عدالت میں دیا گیا وہ بیان ہے جو دنیا کو بتاتا ہے کہ ہم مظلوم کے ساتھ ہیں،نہ کہ اس کے قاتل کے۔۔۔اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ صرف ایک معاشی قدم نہیں بلکہ ایک فکری و اخلاقی اعلان ہے۔۔۔یہ اعلان کہ ہم ظالم کے ساتھ نہیں،مظلوم کے ساتھ کھڑے ہیں۔۔۔یہ چیخ نہیں،خاموشی کی وہ صدا ہے جو دنیا کے ہر حساس دل تک پہنچتی ہے۔۔۔ مگر افسوس ہمارے دانشور اور ہم میں سے اکثر اس بائیکاٹ کو وقتی ابال اور معاشی وبال سمجھتے ہیں۔۔۔بائیکاٹ ایک مسلسل جنگ ہے،ایک عہد ہے،ایک رویہ ہے،یہ تبھی مؤثر ہوگا جب ہم اسے اپنے معمول کا حصہ بنا لیں۔۔۔یہ بھی سچ ہے کہ عالمی مارکیٹ کا جال پیچیدہ ہے،کئی کمپنیاں اسرائیل سے براہِ راست جڑی نظر نہیں آتیں مگر یہی تو اصل میدان ہے۔۔۔تحقیق،شعور اور متبادل کی تلاش کا،ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ ’ہم کیا خرید رہے ہیں‘ اور ’کس کی قیمت پر‘۔۔۔دنیا میں تبدیلی ہمیشہ شعور سے آتی ہے اور شعور سے عمل جنم لیتا ہے۔۔۔اگر ہم آج فلسطین کے مظلوم اور بے سہارا بچوں کے لیے اپنی پسندیدہ چاکلیٹس،مکڈونلڈز،کے ایف سی،پیپسی،کوک، خشک دودھ،چائے کی پتی،نہانے کا صابن،رنگ گورا کرنے والی کریمیں،کاسمیٹکس،موبائل فون یا دیگر اسرائیلی مصنوعات ترک نہیں کر سکتے تو کل تاریخ بھی ہمیں بڑی آسانی کے ساتھ بھول جائے گی۔۔۔۔یاد رکھیں،بائیکاٹ صرف معیشت کو نہیں جھنجھوڑتا،ضمیر کو بھی جگاتا ہے اور جب ضمیر جاگ جائے تو بڑی سے بڑی سلطنتیں لرز اٹھتی ہیں۔۔۔یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ غزہ پر اسرائیلی جارحیت  نے دنیا بھر کے مسلمانوں اور انسانیت سے پیار کرنے والوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے مگر مسلم حکمران تاحال خواب غفلت میں سر تا پاوں ڈوبے ہوئے ہیں۔۔ہمیں اس بات کو بھی یاد رکھنا ہو گا کہ فلسطینی عوام کی مظلومیت اور صیہونی ظلم و بربریت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنا ہر باشعور انسان کا اخلاقی،مذہبی اور انسانی فریضہ ہے۔۔۔اسی تناظر میں جماعت اسلامی سمیت متعدد مذہبی و سماجی تنظیمیں سراپا احتجاج اور اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم چلا رہی ہیں تاکہ ظلم کے نظام کو معاشی طور پر کمزور کیا جا سکے مگر اس احتجاج اور بائیکاٹ مہم کے ردعمل میں ایک مخصوص طبقہ معیشت کی دہائی دیتا نظر آتا ہے اور فوراً سے پہلے معاشی نقصانات کا راگ الاپنے لگتا ہے۔۔۔وہ یہ باور کرانے کی کوشش کرتا ہے کہ اگر پاکستانی قوم  نے اسرائیلی یا ان کی حمایت کرنے والی کمپنیوں کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا تو ہماری معیشت مزید کمزور ہو جائے گی،روزگار ختم ہو جائے گا اور مہنگائی کا ایک نیا طوفان آئے گا۔۔۔یہ نکتہ نظر سطحی تجزیے اور مخصوص ایجنڈے کی عکاسی کرتا ہے۔۔۔ان عناصر کی سوچ دراصل اس مفاد پرستی سے جڑی ہوئی ہے جو مغربی کارپوریٹ نظام کی مرہون منت ہے۔۔۔یہ وہی ذہن ہے جو ’’برینڈ‘‘ کو ’’ایمان‘‘ سے زیادہ اہم سمجھتا ہے۔۔۔یہ طبقہ اپنی سہولت پسندی، تعیشات اور عارضی مالی فائدے کو قوم کے اجتماعی ضمیر اور اخلاقی اقدار پر ترجیح دیتا ہے۔۔۔ان کی دلیل یہ ہوتی ہے کہ بائیکاٹ سے مقامی کاروبار متاثر ہو گا،نوکریاں جائیں گی،کوئی پاکستان میں سرمایہ کاری نہیں کرے گا اور معیشت مزید دباؤ کا شکار ہو گی لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر قومیں صرف وقتی فائدے کو دیکھ کر فیصلے کریں تو کبھی بھی استقامت،غیرت اور اصولوں پر مبنی پالیسی تشکیل نہیں پا سکتی۔۔۔تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم  نے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی،قربانی دی اور اپنے اصولوں پر ڈٹی رہی تو وقت نے اسی کو سرخرو کیا۔۔۔ جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کے خلاف عالمی بائیکاٹ مہم نے وہاں کے سفید فام نظام اور وہاں کی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔۔۔یہی اصول آج اسرائیل پر لاگو کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔۔۔اب سوال یہ ہے کہ کیا واقعی پاکستان کی معیشت ان مصنوعات کے بائیکاٹ سے تباہ ہو جائے گی؟کیا کوکاکولا،نیسلے، پیپسی یا میکڈونلڈز جیسے برانڈز پاکستانی معیشت کی بنیاد ہیں؟کیا ہم  نے اپنی معیشت کو انہی غیر ملکی کمپنیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے؟یہ ایک نفسیاتی غلامی ہے جو ہمیں یقین دلاتی ہے کہ اگر ہم ان مصنوعات کا بائیکاٹ کریں گے تو ملک میں قحط آ جائے گا۔۔۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان ایک زرعی اور انسانی وسائل سے مالا مال ملک ہے،قدرتی ذخائر رکھتا ہے اور سب سے بڑھ کر ایک خوددار قوم ہے۔۔۔یہ دلیل دینا کہ بائیکاٹ سے مقامی روزگار متاثر ہو گا، ایک سطحی نقطہ نظر ہے۔۔۔اگر بائیکاٹ منظم انداز میں کیا جائے تو اس کے نتیجے میں مقامی صنعتوں کو فروغ مل سکتا ہے۔۔۔بائیکاٹ سے پاکستانی مارکیٹ میں نئی راہیں کھلتی ہیں،نئی مصنوعات،کاروبار اور تخلیقی سوچ جنم لیتی ہے۔وہ قومیں جو خود کفالت کا راستہ اختیار کرتی ہیں،دیرپا ترقی کی جانب بڑھتی ہیں۔۔۔ترکی اور انڈونیشیا جیسے ممالک نے اپنے قومی وقار کو مقدم رکھتے ہوئے کئی عالمی مصنوعات کے خلاف مؤقف اختیار کیا اور کامیاب رہے۔۔۔بائیکاٹ صرف ایک معاشی عمل نہیں،یہ ایک نظریاتی اعلان ہے کہ ہم ظلم کے ساتھی نہیں بن سکتے،چاہے اس کے بدلے ہمیں کچھ دیر کے لیے مشکلات ہی کیوں نہ اٹھانی پڑیں۔۔۔جو لوگ پاکستانی قوم کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں،وہ دراصل ایک ایسے عالمی نظام کے کارندے ہیں جو مظلوم کی آواز کو دبانے کے لیے ہر حربہ استعمال کرتا ہے۔۔۔وہ یہ نہیں چاہتے کہ امت مسلمہ یک زبان ہو یا اس کے اندر اتحاد پیدا ہو لہٰذا ضروری ہے کہ پاکستانی قوم ایسے پروپیگنڈے سے باخبر رہے۔۔یہ وقت غیرت،شعور اور اتحاد کا ہے۔۔۔وقتی معاشی فائدہ اگر ہمیں اخلاقی دیوالیہ پن کی طرف لے جائے تو وہ ترقی نہیں بلکہ تباہی کی راہ ہوتی ہے۔۔۔اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ ایک آغاز ہے،اصل معرکہ شعور کا ہے اور یہ جنگ ہم قلم،زبان اور کردار سے جیت سکتے ہیں۔۔۔اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ مظلوم فلسطینیوں سے یکجہتی کا عملی اظہار ہے۔۔جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اسرائیلی مصنوعات کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے یا معاشی طور پر تباہ ہو جائیں گے وہ دراصل اللہ کے رزاق ہونے کے عقیدے پر یقین نہیں رکھتے۔۔۔قرآن بار بار ہمیں یاد دلاتا ہے کہ رزق کا وعدہ اللہ نے کیا ہے،نہ کہ کسی کارپوریشن یا مغربی نظام  نے۔۔اگر ہم صرف اللہ پر توکل کرتے ہوئے ظلم کے خلاف کھڑے ہوں گے تو اللہ ربّ العالمین ایسے راستے نکالے گا جو ہماری سوچ سے بھی بالاتر ہوں گے۔۔۔آج اگر امت مسلمہ یک زبان ہو کر بائیکاٹ کی آواز بلند کرے تو اسرائیل جیسے ظالم ریاست کی بنیادیں ہل سکتی ہیں۔۔۔۔تو آئیے،اس بائیکاٹ کو وقتی جذبات نہ بننے دیں بلکہ اپنی پہچان،اپنی مزاحمت اور اپنی انسانیت کا آئینہ بنائیں۔۔۔اگر ہم آج نہ جاگے تو کل تاریخ ہمیں بھی تماشائی لکھے گی،ظالم کا ساتھی نہیں تو خاموش شریکِ جرم ضرور۔

ٹیگز: