فلسطین میں مسلمانوں کے لیے قبلۂ اول (مسجد اقصیٰ) ہونے کی بدولت یہ دنیا کے نقشے پر ایک ایسا خطہ ہے جو خانۂ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے تاہم گزشتہ 76 سال سے یہ خطہ صہیونی ریاست اسرائیل کے قبضے میں ہے ۔ ارضِ فلسطین کے مظلوم مسلمان ایک طویل عرصہ سے جبر و تسلط کی چکی میں پس رہے ہیں‘ مسلمانوں کو فلسطین سے بے دخل کرنے کیلئے انسانیت سوز اقدامات گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری ہیں۔ اسرائیل رمضان المبارک کے تقدس و احترام کی پروا کیے بغیر آج بھی اہل ِ غزہ کو مظالم کا نشانہ بنارہا ہے۔ اہلِ فلسطین سے پاکستان کا رشتہ بہت پرانا ہے۔ بانیٔ پاکستان قائدِ اعظم اور آل انڈیا مسلم لیگ ہمیشہ فلسطین کی آزادی کیلئے آواز اٹھاتے رہے۔ فلسطین کی حمایت میں 1933ء سے 1947ء تک آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاسوں میں اٹھارہ قراردادیں منظور کی گئیں۔ 23 مارچ 1940ء کو قرار دادِ لاہور منظور کی گئی جو قرار دادِ پاکستان کہلاتی ہے، اس تاریخی موقع پر فلسطین کے ساتھ یکجہتی کی قرار داد بھی منظور کی گئی تھی۔ قائداعظم اور علامہ محمد اقبال کے درمیان جو خط و کتابت ہوئی اس میں بھی مسئلہ فلسطین کا ذکر بکثرت ملتا ہے۔ قائد اعظم کی دوراندیش فکر کا نتیجہ تھا کہ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی نے متفقہ قرارداد منظور کرکے اسرائیل کی ریاست کو تسلیم نہ کرنے کا مطالبہ کیا اور عالمی بد امنی کے خطرے کے پیشِ نظر اسرائیل کے اقوامِ متحدہ کا رکن بننے کی بھی مخالفت کی۔ قائدِ اعظم کی اِس غیر مبہم ، واضح اور بایقین بصیرت کے پیشِ نظر فلسطینی کاز سے پاکستانی عوام کا تعلق پختہ تر و مضبوط تر ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد قطع نظر اس کے کہ حکومت کا تعلق کس جماعت سے تھا ہر حکومت نے فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ کسی بھی حکومت نے تمام تر دبائو کے باوجود اسرائیل کی ناجائز ریاست کو آج تک تسلیم نہیں کیا۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان کے اندر پوری قوم جن امور پر سیسہ پلائی دیوار ہے ان میں سے ایک مسئلہ فلسطین اور قبلہ اوّل کی آزادی ہے ۔یہ اصولی مؤقف اہلِ پاکستان کے جذبات کی ترجمانی بھی ہے‘ پاکستانی قوم کی روایت بھی اور بانیانِ پاکستان کا ملی و سیاسی ورثہ بھی۔ اس لیے اس سے پیچھے ہٹنے کا سوچنا بھی محال ہے۔
فلسطینی مسلمانوں کے حق کے لیے آواز ‘برصغیر میں تحریکِ پاکستان کے ساتھ ساتھ بلند ہوتی رہی اور اسلامیانِ ہند جہاں اپنی آزادی کے لیے مصروف جدوجہد رہے‘ وہیں انہوں نے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی میں بھی کوتاہی نہ کی۔ اس معاملے پر مسلم لیگ کے ہر اہم اجلاس میں مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے عرب مسلمانوں کا ساتھ دینے کے عزم کا اعادہ کیا جاتا رہا۔ برطانیہ کی طرف سے اعلان بالفور سامنے آنے کے بعد قائداعظم کا کہنا تھا ’’میں برطانوی حکومت کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ مسئلہ فلسطین کو اگر منصفانہ اور آبرو مندانہ طریقے سے حل نہ کیا گیا تو سلطنتِ برطانیہ کے لیے یہ تبدیلی کا نکتۂ آغاز ہوگا۔ برطانیہ نے فلسطینی عربوں کی رائے عامہ کو طاقت و جبر سے کچلنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ہم برصغیر کے مسلمان اس موڑ پر عرب مؤقف کے حامی ہیں اور ان کی منصفانہ جدوجہد میں ہم ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ عرب مسلمان اپنے جائز حق کی جدوجہد میں ضرور کامیابی حاصل کریں گے۔‘‘ مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ لکھنؤمیں پندرہ اکتوبر 1937ء کو قائداعظم نے مسئلہ فلسطین کے حوالے سے برطانوی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا ’’مسئلہ فلسطین کا تمام مسلمانوں پر نہایت گہرا اثر پڑا ہے۔ حکومتِ برطانیہ کی پالیسی رہی ہے کہ اس نے شروع سے لیکر اب تک عربوں کو دھوکہ دیا ہے اور عربوں کی اعتبار کر لینے والی فطرت سے پورا فائدہ اٹھایا ہے۔ برطانیہ نے عربوں کو مکمل آزادی دینے کے حوالے سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے بلکہ ہوا یہ کہ برطانیہ نے جھوٹے وعدے کر کے خود فائدہ اٹھایا اور بدنام زمانہ اعلان بالفور کے ذریعے خود کو ان پر مسلط کر دیا اور یہودیوں کے لیے قومی وطن کے قیام کی پالیسی تشکیل دینے کے بعد برطانیہ اب فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے۔ رائل کمیشن کی سفارشات نے اس الم ناک داستان کا آخری باب لکھ دیا ہے۔ اگر یہ نافذ کر دیا گیا تو عربوں کی اپنے اور آزاد وطن کی تمنائوں اور آرزوئوں کا خون ہو جائے گا۔ اب ہمیں یہ کہا جا رہا ہے کہ اصل واقعات (زمینی حقائق) پر غور کریں لیکن سوال یہ ہے کہ یہ حالات پیدا کس نے کیے؟ میں حکومتِ برطانیہ کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ اگر اس نے مسئلہ فلسطین کا تدبر‘ جرأت اور دلیری و انصاف کے ساتھ فیصلہ نہ کیا تو یہ برطانیہ کی تاریخ میں ایک تازہ انقلاب کا دروازہ کھول دے گا۔ مسلمانانِ ہند ‘عربوں کے اس منصفانہ اور جرأت مندانہ جہاد میں ان کی ہر ممکن امداد کریں گے۔‘‘
مفکر پاکستان علامہ اقبال نے 1937ء میں اپنے ایک بیان میں کہا ’’ عربوں کے ساتھ جو نا انصافی کی گئی ہے‘ میں اس کو اسی شدت سے محسوس کرتا ہوں جس شدت سے ہر وہ شخص محسوس کرتا ہے جسے مشرق قریب کے حالات کا تھوڑا بہت علم ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ابھی پانی سر سے نہیں گزرا اور انگریز قوم کو بیدار کر کے اس پر آمادہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ ان وعدوں کو پورا کرے ‘جو اس نے انگلستان کے نام پر عربوں کے ساتھ کیے تھے۔ مسلمانانِ عالم کو چاہیے کہ وہ پوری ہم آہنگی کے ساتھ اعلان کریں کہ برطانیہ کے مدبرین جس عقدے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس کا تعلق صرف فلسطین تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ ایک سرے سے دوسرے سرے تک پورے عالمِ اسلام کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔‘‘ 88 برس قبل حکیم الامت اپنی مومنانہ بصیرت کی بنیاد پر جو دیکھ رہے تھے وہ آج عملا ً نظر آ رہا ہے اور مسئلہ فلسطین سے پورا عالم اسلام متاثر ہے۔ مسئلہ فلسطین کو فلسطینیوں کی خواہشات کے مطابق حل کیا جائے اور اس وقت تک اسرائیل کیساتھ کسی قسم کے تعلقات قائم نہیں کرنا چاہئیں۔ یہی ہمارا اصولی موقف ہے اور اس سے کسی صورت دستبردار نہیں ہونا چاہئے۔