لاہور : وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر علاقائی کشیدگی اور توانائی کے سنگین چیلنجز کے باوجود وزیراعظم کے خصوصی حکم پر عوام کو مہنگائی سے بچانے کے لیے حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر 69 ارب روپے کا بوجھ خود اٹھانے کا بڑا قدم اٹھایا ہے۔
وزیرِ خزانہ نے لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے اہل وطن کو عید الفطر کی مبارکباد دی اور ملک کے استحکام و سلامتی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے وزیراعظم کے حالیہ خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت توانائی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے۔
پٹرول اور ایل پی جی کی بلاتعطل فراہمی: محمد اورنگزیب نے یقین دہانی کرائی کہ پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کا سپلائی سسٹم مکمل طور پر مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ بین الوزارتی اجلاسوں میں روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور اپریل تک سپلائی پوزیشن مستحکم رہنے کی قوی امید ہے۔
وزیرِ خزانہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ جاری علاقائی کشیدگی سے توانائی کا انفراسٹرکچر متاثر ہو سکتا ہے، تاہم حکومت تجارت اور سرمایہ کاری پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ محدود قومی وسائل کے باعث اب 'ٹارگٹڈ ریلیف' (Targeted Relief) کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے تاکہ براہِ راست مستحق طبقات کو فائدہ پہنچے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈیمانڈ مینجمنٹ اور توانائی کی بچت کے اقدامات بھی زیرِ غور ہیں۔
وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ پٹرولیم، آئی ٹی اور خزانہ سمیت تمام وزارتیں ایک ہی مقصد کے لیے مل کر کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے پرائیویٹ سیکٹر پر زور دیا کہ وہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے حکومت کا بھرپور ساتھ دیں۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے اعادہ کیا کہ حکومت معاشی صورتحال میں مستقل بہتری کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور ہماری اولین ترجیح عوام پر بوجھ کو کم سے کم کرنا ہے۔