اسلام آباد : پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اسرائیلی وزیروں کی جانب سے مسجد اقصیٰ پر دھاوے کی سخت مذمت کی ہے، جسے انہوں نے انسانیت کے ضمیر پر حملہ قرار دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے اپنے وزیروں، صیہونی قبضہ گیروں اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ مسجد اقصیٰ میں یہودی دعا کا انعقاد کیا، جو کہ ایک بہت متنازعہ اقدام تھا اور اس مقدس مقام پر موجود معاہدے کی خلاف ورزی تھی۔
وزیراعظم نے کہا کہ "مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی نہ صرف مسلمانوں کے عقیدے کی توہین ہے، بلکہ یہ بین الاقوامی قوانین اور انسانیت کے ضمیر پر بھی حملہ ہے۔" انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کے اقدامات امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور اسرائیل کے یہ بے شرمانہ عمل فلسطین اور پورے خطے میں تناؤ کو بڑھا رہے ہیں۔
شہباز شریف نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اس صورت حال کا نوٹس لے اور غزہ میں فوری جنگ بندی اور امن کے عمل کی کوششوں کو تیز کرے۔
سعودی عرب نے بھی اسرائیل کے اس اشتعال انگیز عمل کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ایسی حرکتیں خطے میں مزید تنازعات کو ہوا دیتی ہیں۔
مسجد اقصیٰ اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے اور یہودیوں کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں ان کے پہلے اور دوسرے ہیکل واقع تھے، اور یہ جگہ اسرائیل اور اردن کے درمیان طے شدہ معاہدے کے مطابق یہودی عبادات کے لیے ممنوع ہے۔ حالیہ برسوں میں اسرائیلی حکام نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے، اور اتمار بن گویر کا یہ دورہ پہلی بار ہے جب کسی اسرائیلی وزیر نے یہاں عوامی طور پر دعا کی۔
اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو نے اس معاملے پر کہا کہ اسرائیل کی پالیسی میں مسجد اقصیٰ کے سٹیٹس کو برقرار رکھنے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ دوسری طرف اتمار بن گویر نے کہا کہ اسرائیل کو غزہ کی پٹی پر بھی اپنے خودمختاری کا نفاذ کرنا چاہیے، جیسے کہ انہوں نے مسجد اقصیٰ پر کیا۔
اسرائیل نے 1967 میں مشرقی بیت المقدس پر قبضہ کر کے اسے ضم کر لیا تھا، جسے عالمی برادری کی اکثریت نے تسلیم نہیں کیا۔