Wed, September 16, 2026

میرے حصے کا سورج کس افق پر کھو گیا؟

میرے حصے کا سورج کس افق پر کھو گیا؟

دنیا ایک عظیم الجثہ مشین بن چکی ہے، ایک ایسی مشین جس میں ہر انسان ایک پرزے کی مانند ہے۔ جو یا تو متحرک ہے یا غیر متحرک، قابلِ استعمال ہے یا بیکار۔ اس مشین کے شور میں اگر کوئی آواز سب سے زیادہ دبی ہوئی ہے تو وہ نوجوان نسل کی کسی بند کمرے میں دم توڑتی آہیں اور سسکیاں ہیں، وہ سوالات ہیں جو کبھی زبان تک آتے ہی نہیں کیونکہ ان کے جوابات موجود ہیں نہیں۔ تاریخ میں جب بھی کسی قوم نے ترقی کی منازل طے کیں، تو اس کے پیچھے ایک محرک طاقت کارفرما رہی۔ جب قوموں کی معیشتیںکمزور ہوتی ہیں تو سب سے پہلا وار ان کے نوجوانوں پر ہوتا ہے۔ نوجوان نسل جو کسی بھی معاشرے کا قیمتی سرمایہ اور قوموں کے مستقبل کی ضامن ہوتی ہے۔ جو وقت کے دھارے کو موڑ سکتی ہے، فکری انقلاب برپا کر سکتی ہے، تمدن کی نئی راہیں متعین کر سکتی ہے۔ مگر جب یہی نوجوان حالات کے بھنور میں پھنس کر بیروزگاری، مایوسی، بے سمتی اور اضطراب کا شکار ہو جائے، اس کے خواب شکستہ ہو جائیں تو پھر وہی قوم کے لیے سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ نوجوانی زندگی کا وہ مرحلہ ہے جہاں انسان امکانات کی دنیا میں کھڑا ہوتا ہے، ایک ایسے چوراہے پر جہاں ہر سمت ایک خواب، ایک خیال، ایک تصور ہے۔ لیکن جب یہ خواب، خیالات، معاشی دبائو، سماجی تقاضوں اور وجودی تنہائی کے سامنے پاش پاش ہو جاتے ہیں تو انسان ایسی دلدل میں دھنس جاتا ہے جہاں ماضی کی روشنی رہتی ہے اور نا ہی مستقبل کی امید۔ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس وسائل کی کمی ہے بلکہ یہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل کے خواب ٹوٹ رہے ہیں اور ہم خاموش تماشائی ہیں۔ تعلیم کے شعبے میں روز افزوں ترقی، یونیورسٹیوں کی بھرمار اور ہنر سیکھنے کے لیے موجود ادارے اپنی جگہ، مگر جب اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان در در کی ٹھوکریں کھاتے ہیں، انٹرویوز کے بعد بھی ناکام لوٹتے ہیں تو سوال صرف فردِ واحد کا نہیں رہتا، سوال ریاست، سماج اور نظام کا بن جاتا ہے۔
بیروزگاری محض ایک اقتصادی مسئلہ نہیں ہے یہ ایک ایسا سماجی اور فکری بحران ہے جو فرد کی نفسیات، قوم کی معیشت اور معاشرے کے امن کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ یہ محض ملازمت کے نا ملنے کا نام نہیں بلکہ مقاصدِ زندگی کے دھندلا جانے، خوابوں کے ٹوٹنے اور کردار کی شکست کا دوسرا نام ہے۔ ہماری درسگاہیں جنہیں فکر و شعور کے مینار ہونا چاہیے تھا اب ڈگری فیکٹریوں میں تبدیل ہو چکی ہیں اور تعلیم کی غرض محض ملازمت کے حصول تک محدود کر دی گئی ہے۔ یہاںتعلیم کے نام پر جو ڈگریاں نوجوانوں کے ہاتھوں میں تھما دی جاتی ہیں وہ دراصل فریبِ امید ہیں، ایک کاغذی خواب جو حقیقت کی دھوپ میں جل کر خاک ہو جاتا ہے۔ ایک نوجوان جو زندگی کے بہترین سال کسی ڈگری یا ہنر کے حصول میں گزار دیتا ہے وہ جب خود کو بازارِ روزگار میں رد ہوتے دیکھتا ہے تو اس کے اندر کی روشنی بجھنے لگتی ہے۔ ہمیں اس بات کو تسلیم کرنا ہو گا کہ موجودہ نظام نوجوانوں کو مقام دینے میں ناکام رہا ہے۔ اقربا پروری، سفارش، عدم شفافیت اور بدعنوانی وہ رکاوٹیں ہیں جو نوجوان کو اس کے حق سے محروم رکھتی ہیں۔ ان حالات میں اکثر نوجوان یا تو بیرونِ ملک جانے کی راہ تلاش کرتے ہیں، یا خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں۔ سفاک حقیقت یہ ہے کہ ہمارا نظام تعلیم نوجوان نسل کو خواب تو دکھاتا ہے مگر ان خوابوں کی تعبیر کا کوئی سرا ان کے ہاتھ میں نہیں تھماتا اور پھر اس جذبے کا زیاں قوم کے اجتماعی کے نقصان کی صورت سامنے آتا ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو کیا دے رہے ہیں؟ ایک بے سمت زندگی؟ ایک فرسودہ تعلیمی نظام؟ ایک ظالمانہ سماجی ڈھانچہ؟ یا صرف خواب جو کبھی پورے ہی نہیں ہوتے؟ ریاست کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ وہ نوکریاں دے بلکہ یہ بھی ہے کہ نوجوانوں کو امید، راستہ اور مقصد دے۔ تعلیم کو مارکیٹ سے ہم آہنگ کیا جائے، ہنر کی بنیاد پر مواقع فراہم کیے جائیں اور سب سے بڑھ کر نوجوانوں کے اندر خود اعتمادی کو زندہ رکھا جائے۔ بلاشبہ نوجوانوں کے لیے قرضہ سکیمیں، یوتھ پروگرامز، سکل ڈویلپمنٹ، انٹرن شپ پروگرام، کاروبار کی ترغیب جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں، لیکن ان کا اثر تب ہو گا جب یہ سہولتیں تمام طبقات تک میرٹ اور شفافیت کے ساتھ پہنچیں۔ ان کے ساتھ ساتھ معاشرتی رویوں میں بھی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اس غلط سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے کہ کامیابی کا معیار صرف سرکاری نوکری ہی ہے۔ نوجوان نسل ہماری امید ہے، لیکن کیا وجہ ہے کہ آج بھی ہزاروں نوجوان انٹرن شپ کے نام پر بغیر تنخواہ کے محنت کرتے ہیں؟ سوشل میڈیا پر کامیابی کی جھوٹی کہانیاں سن کر اصل دنیا میں قدم رکھتے ہیں اور منہ کے بل گرتے ہیں، اس لیے کے ریاست نوجوان نسل کی رہنمائی کے بجائے محض نمائشی ہمدردی دکھاتی ہے۔ تصوف کا نظریہ انسان کو باطن کی روشنی کی طرف بلاتا ہے۔ جب معاشرہ تاریک ہو جائے تو صوفی باطن کو روشن کرنے کا درس دیتا ہے۔ نوجوان اگر اپنی ذات کی تلاش کرے اور اپنی فطری صلاحیت کو پہچانے تو وہ بیروزگاری کو شکست دے سکتا ہے، اگر چہ بظاہر نوکری نا ہو مگر باطن میں خودی کا شعور ہو۔ہم جس معاشرے میں سانس لے رہے ہیں اس کی بنیاد ظاہری افادیت پر ہے۔ جو انسان کو صرف اس وقت اہمیت دیتا ہے جب وہ کچھ کما رہا ہو، کچھ بنا رہا ہو، گویا وجود کی شرط صرف معاشی پیداوار سے مشروط ہو چکی ہے۔ وجودی فلسفہ ہمیں بتاتا ہے کہ انسان کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ وہ ’کیا ہے‘ کے بجائے ’کیا کرتا ہے‘ کے میزان میں تولا جاتا ہے۔ یعنی اگر انسان کچھ پیداوار نہیں دے رہا، اگر معاشی پہیے کو نہیں گھما رہا تو وہ غیر اہم ہے، گویا انسان کی حیثیت، انسان کے وجود کا جواز یہاں صرف کارکردگی کے ترازو میں ناپا جاتا ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جو بیروزگار لوگوں کو ایک بیکار پرزہ سمجھتی ہے، ایک ایسا پرزہ جو مشین میں ہو تو بوجھ گردانا جاتا ہے اور نکال دیا جائے تو کوڑا۔ لیکن کیا ایک انسان فقط اپنے روزگار سے ہی پہچانا جا سکتا ہے؟ کیا اس کی تعلیم، اس کی فکر، اس کی حساسیت، اس کے خواب، سب کچھ صرف ایک نوکری کے کاغذی بندھن میں مقید ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات انسان نے کبھی سنجیدگی سے تلاش کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ ہر وہ سماج جس نے اپنی نوجوان نسل کو نظر انداز کیا، اسے کسی نا کسی صورت میں اس کی قیمت چکانا پڑی۔ نوجوان اگر تخلیق نہیں کرے گا تو وہ تخریب کی طرف مائل ہو گا۔ اگر اسے سوچنے، بولنے اور بنانے کی آزادی نا ملے تو وہ توڑنے، جلانے اور مٹانے کی طرف جائے گا۔ بیروزگاری فقط معیشت کی کمزوری نہیں یہ انسان کی معنویت کا زوال ہے اور جو معاشرہ اپنی معنویت کھو دیتا ہے وہ آخرکار اپنی شناخت بھی کھو دیتا ہے۔

ٹیگز: