Wed, September 16, 2026

وفاقی وزارتِ داخلہ کا پی او آر کارڈ رکھنے والے افغان باشندوں کے مستقبل پر اہم اجلاس

وفاقی وزارتِ داخلہ کا پی او آر کارڈ رکھنے والے افغان باشندوں کے مستقبل پر اہم اجلاس

اسلام آباد: وفاقی وزارتِ داخلہ نے ملک میں مقیم پی او آر (پروونشل ریفیوجی کارڈ) رکھنے والے افغان باشندوں کے مستقبل کے حوالے سے آج ایک اہم اجلاس طلب کیا ہے۔ اس اجلاس میں تقریباً 13 لاکھ افغان مہاجرین کی قانونی حیثیت، ان کے قیام کی مدت یا واپسی کے بارے میں حتمی فیصلے کیے جانے کا امکان ہے۔

اجلاس کی صدارت وزارتِ داخلہ و نارکوٹکس کنٹرول کرے گی، اور اس میں نادرا، چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز، آئی جیز، آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کے حکام، ڈی جی ایف آئی اے، چیف کمشنر اسلام آباد اور حساس اداروں کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔ اجلاس کا مقصد پی او آر کارڈ رکھنے والے افغان باشندوں کی قانونی حیثیت پر غور کرنا ہے، کیونکہ یہ کارڈ ان افغان مہاجرین کو پاکستان میں بغیر ویزے کے قانونی طور پر قیام کی اجازت دیتا ہے۔

پاکستان میں اس وقت تقریباً 13 لاکھ افغان باشندے پی او آر کارڈز کے حامل ہیں، جبکہ ستمبر 2023 سے اب تک 10 لاکھ افغان باشندے پاکستان سے واپس افغانستان جا چکے ہیں۔ اجلاس میں پی او آر کارڈز کی مدت میں توسیع، ان کی منسوخی یا ان کے حوالے سے مزید قانونی اقدامات پر بات چیت کی جائے گی۔

اجلاس کے نتائج کا ملک کی داخلی سکیورٹی اور مہاجرین کی مینجمنٹ پر براہ راست اثر پڑے گا، اور اس کے بعد متعلقہ اداروں کو نئی پالیسی پر فوری عمل درآمد کے لیے ہدایات دی جا سکتی ہیں۔

ٹیگز: